وزیرتوانائی سندھ امتیازشیخ کاایس ایس پی رضوان کوایک ارب کےہتک عزت کانوٹس

وزیرتوانائی سندھ اورپاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کےرہنما امتیازاحمد شیخ نےسینئرسپرنٹنڈنٹ پولیس(ایس ایس پی) شکارپوررضوان احمد کوایک ارب روپےکےہتک عزت کا نوٹس بھیج دیا۔ نوٹس میں ایس ایس پی شکارپورسےمطالبہ کیا گیا ہےکہ وہ 14روزمیں امتیازشیخ کےخلاف کرپشن کےالزامات ثابت کریں، بصورت دیگران کےخلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔
نوٹس میں کہا گیا کہ ایس ایس پی رضوان احمد نےامتیازشیخ اوران کےخاندان کی ساکھ مجروح کرنےکےلیےبےبنیاداور جھوٹےالزامات لگائے۔ نوٹس میں مزیدکہاگیا کہ رضوان احمد اورامتیازشیخ کےمخالفین نےصوبائی وزیرکےخلاف غیرحقیقی ‘خفیہ رپورٹ’ تیارکرکےان کےخلاف سازش کی، یہ من گھڑت رپورٹ امتیازشیخ کےسیاسی کریئرکومتاثرکرنےکےلیےتیار کی گئی۔ امتیازشیخ نےنوٹس میں کہا ہےکہ وہ ایک تعلیم یافتہ اورباوقارخاندان سےتعلق رکھتےہیں، جوبیوروکریٹ رہے، سابق وزیراعلیٰ کےپرنسل سیکریٹری کےفرائض انجام دیئےاور8انتظامی محکموں کےسربراہ بھی رہے۔
انہوں نےمزید کہا کہ شکارپورکےعوام نےکئی بارانہیں اپنی نمائندگی کےلیےمنتخب کیا جس کےباعث انہوں نےعوامی عہدوں پرفرائض انجام دیےاورسندھ کابینہ کا حصہ رہے۔
ڈاکٹر رضوان کی ‘خفیہ رپورٹ’
واضح رہےکہ گزشتہ ہفتےسامنےآنےوالےوالی ایس ایس پی شکارپورکی رپورٹ میں صوبائی وزیرتوانائی امتیازشیخ پرجرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں امتیازشیخ پرالزام لگاتےہوئےکہا گیا کہ ‘وہ سیاسی مخالفین کو دبانےاورمعاشرےمیں اپنا خوف قائم کرنےکےلیےاپنےکرمنل گینگ کا استعمال کرتےہیں، جبکہ اسی گینگ کےافراد نے سیاسی مخالف شاہ نوازبروہی کےبیٹےکوبھی قتل کیا۔’
‘خفیہ’ رپورٹ میں ضلع کےڈپٹی انسپکٹرجنرل (ڈی آئی جی)کومخاطب کرکےکہا گیا ہےکہ ‘امتیازشیخ پولیس پرمکمل کنٹرول چاہتےہیں اورمحکمےمیں اہم عہدوں پرمن پسند افسران تعینات کرانےکےلیےضلع کےایس ایس پی پرمستقل دباؤڈالتےہیں جبکہ یہ افسران محکمےکی خفیہ معلومات انہیں فراہم کرتےتھے۔’ اپنےالزامات کےثبوت کےطورپرڈاکٹررضوان نےامتیازشیخ، ان کےسیکریٹری، بیٹےاوران کےقریبی ساتھیوں کا موبائل ریکارڈ بھی رپورٹ کےساتھ منسلک کیا ہے، جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہےکہ صوبائی وزیرنےکئی بار’مطلوب’ اتو شیخ جیسےمجرمان سےرابطےکیےجس کےخلاف درجنوں مقدمات درج ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ امتیازشیخ کاکرمنل گینگ بھی ہےجو ضلع شکارپورکےتھانہ نیو فوجداری کی حدود میں واقعے علاقے چِنگی مُقام میں منشیات فروخت کرتا ہے۔ رپورٹ کےمطابق امتیازاحمد شیخ، ان کےبھائی مقبول احمد شیخ اوربیٹے فرازاحمد شیخ نےنجی محافظ بھی رکھےہوئےہیں جومجرمانہ ریکارڈ رکھتےہیں اور’اشتہاری’ہیں۔ ایس ایس پی شکارپورکی یہ رپورٹ صوبےکےآئی جی ڈاکٹرکلیم امام کو’ٹھوس وجوہات’ کی بنا پرعہدےسےہٹانےکےسندھ حکومت کےفیصلےکےایک روزبعد سامنےآئی تھی۔
قبل ازیں 6 دسمبر2019 کوسندھ حکومت نےایس ایس پی ڈاکٹررضوان کی خدمات بھی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کےسپردکرنے کوشش کی تھی۔ صوبائی حکومت کےاس فیصلےکےخلاف ڈاکٹررضوان نےسندھ ہائی کورٹ سےرجوع کیا تھا اوراعلیٰ عدالت نےان کےتبادلےکا نوٹی فکیشن معطل کردیا تھا۔ ڈاکٹررضوان اس معاملےکونئےتشکیل پانےوالےصوبائی پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن بھی لےکرگئےتھےاورکہا تھا کہ سندھ میں ان کی خدمات کسی پیشگی اطلاع، شکایت یا تفتیش کے بغیرواپس کی جارہی ہیں۔
اس وقت صوبائی انسپکٹرجنرل نےچیف سیکریٹری سندھ کوخط لکھ کرشکایت کی تھی کہ انہیں اس فیصلےکی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اورتشویش کااظہارکیا تھا کہ اس طرح کےاقدامات سے’پولیس کی حوصلہ شکنی’ ہو رہی ہے۔ ڈاکٹررضوان، نقیب اللہ محسود قتل کیس کےتفتیشی افسراورواقعےکی تحقیقات کرنےوالی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جی آئی ٹی) کےرکن بھی ہیں، کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں زیرالتوا ہےجہاں وہ ریاست کی نمائندگی کررہےہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button