اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے3فلسطینی ہلاک

اسرائیل کی فوج نےفلسطین کی غزہ پٹی کی سرحد سےملحق علاقوں میں فائرنگ کرکے کم ازکم 3 شہریوں کوجاں بحق اورمتعدد کوزخمی کردیا۔ ذرائع کےمطابق اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ان کےسپاہیوں نےسرحدی باڑکوعبورکرنےکی کوشش کرنےوالے3 فسلطینیوں کوقتل کردیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ سپاہیوں نےمبینہ طورپرباڑعبورکرنےوالےتین افراد پرفائرنگ کی جبکہ مشتبہ افراد نےگرینیڈ اور دھماکا خیزمواد سےسپاہیوں پرحملہ کیا۔ رپورٹ کےمطابق اس واقعےسےحماس اوراسرائیل کےدرمیان جنگ بندی کےلیے ہونےوالی کوششوں کودھچکا لگ سکتا ہے۔ غزہ کی حکومت کی جانب سےفوری طورپراس حوالےسےکوئی بیان سامنےنہیں آیا جہاں حماس برسراقتدارہے۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سےقبل حماس کےسینئرعہدیدارکا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی جانب سےاڑائےگئےغبارے اسرائیل کےلیےیہ اشارہ تھا کہ وہ غزہ کےمحاصرےکو نرم کرنےکےغیراعلانیہ منصوبےکوتیزکریں۔
خیال رہےکہ حماس کی جانب سےہفتہ واراحتجاج کےخاتمےکےبعد شعلےچھوڑتےغبارے اودیگردھماکہ خیزمواد کوسرحد کےقریب اڑانےکا سلسلہ مہینہ بھرپہلے شروع ہوا تھا۔ سرحد میں کشیدگی میں کمی کوحماس اوراسرائیلی حکومت کےدرمیان غیراعلانیہ جنگ بندی کی جانب ایک قدم تصورکیا جارہا تھا جس کےلیےعالمی ثالث کردارادا کررہے ہیں۔ حماس کےعہدیدارخلیل الحیا نےاس حوالےسےصحافیوں کوبتایا تھا کہ اسرائیل کی جانب سےاس عمل میں سستی کا مظاہرہ کیا جارہا ہےاوریہ غبارے بھی ناراض افراد اڑا رہے ہیں جس سےحماس کا تعلق نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا گروپ غبارےاڑانےعمل سےمطمئن ہےاوراگرقابض اسرائیل نےاس سےکوئی پیغام نہیں لیا تو مزید بھیجنےکو تیارہیں۔ یاد رہےکہ حماس کےزیرکنٹرول غزہ کی پٹی کا بیرونی دنیا سےرابطہ مصراوراسرائیل نےرابطہ منقطع کررکھا ہےجہاں 2007 سے حماس برسراقتدارہے۔ خلیل الحیا کا کہنا تھا کہ حماس کوتوقع ہےکہ اسرائیل طبی حوالےسے مصنوعات اورغزہ کودنیا کےدیگرممالک سےتجارت کی اجازت دے گا، روزگارمیں اضافےکےساتھ ساتھ بجلی اورغریب افراد کے لیےقطری امداد میں توسیع کی اجازت دےگا۔
یاد رہےکہ حماس نےمارچ 2018 میں سرحدی باڑ کےقریب ہفتہ واراحتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا جس کا مقصد مقبوضہ علاقےخالی کرنےاوررکاوٹیں ہٹانےکےلیےاسرائیل کےخلاف احتجاج کرنا تھا۔ اسرائیلی فورسزکی فائرنگ سےان مظاہروں کےدوران کم ازکم 348 فلسطینی جاں بحق ہوچکےہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہےکہ اسرائیل کی جانب سےسرحد پر قائم کی گئی رکاوٹوں اورراہداری کی بندش کوختم کرکےان کی نقل وحرکت کوآزاد کردیا جائےاوراسرائیل کےزیرتسلط علاقے میں قائم ان کےآبائی گھروں میں جانےکی اجازت دی جائے۔
اسرائیل الزام عائد کرتا ہے کہ حماس کی جانب سےاس راہداری کوان کےخلاف حملوں کےلیےاستعمال کیا جاتا ہے جس کو روکنے کے لیے راہداری کوبند کردیا گیا ہے۔ حماس اوراسرائیل کے درمیان 2008 سے اب تک 3 مرتبہ لڑائی ہوچکی ہے جس میں اسرائیل نے وحشیانہ بمباری سے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کیا۔ اقوام متحدہ کے حکام اور مصر کی کوششوں سے احتجاج اورمظاہروں کی شدت میں کمی آئی ہے اوراسرائیل نےسرحد پران کےبدلےرکاوٹ میں کمی کےلیےاقدامات اٹھانے پررضامندی ظاہر کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button