فوری الیکشن کا مطالبہ مسترد، مدت پوری کریں گے

حکمران جماعت مسلم لیگ نے کی اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہر حکومتی فیصلے میں ان کےساتھ ہیں۔
آرٹیکل 63 اے کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلایا تھا، اس اجلاس میں موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن، آصف زرداری، خالد مقبول صدیقی ، وفاقی وزراء اعظم نذیرتارڑ، خواجہ آصف، سعد رفیق اورمریم اورنگزیب بھی شریک ہوئے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتحادیوں نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت کےساتھ ہیں، ہر فیصلے میں ساتھ ہوں گے، اتحادیوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ معیشت کےاستحکام کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق اتحادیوں نے مشورہ دیا کہ روپے کی قدر میں استحکام کیلئے معاشی ٹیم فوری اقدامات کرے، معیشت کی بہتری کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کو فوری حتمی شکل دی جائے، اتحادی رہنماؤں نے معیشت کی بہتری کیلئے حکومت کے سخت فیصلوں پرساتھ دینےکی یقین دہانی بھی کرائی۔اتحادیوں نے فوری الیکشن کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مدت پوری کریں گے.
اجلاس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کےفیصلےکے بعد پنجاب میں ممکنہ سیاسی بحران سے نمٹنے کو تیار ہیں۔
واضح رہے کہ منحرف اراکین پارلیمنٹ سے متعلق آرٹیکل 63 اےکی تشریح کے صدارتی ریفرنس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے سنادیا ہے۔سپریم کورٹ نے کہاصدارتی ریفرنس نمٹایا جاتا ہے، سوال تھا کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار ہو یا نہیں، آرٹیکل 63 اے اکیلا پڑھا نہیں جاسکتا، آرٹیکل 63 اے اور آرٹیکل 17سیاسی جماعتوں کےحقوق کے تحفظ کے لیے ہے، سیاسی جماعتوں میں استحکام لازم ہے، انحراف کینسر ہے، انحراف سیاسی جماعتوں کو غیرمستحکم اور پارلیمانی جمہوریت کو ڈی ریل بھی کرسکتاہے، منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوسکتا،جبکہ تاحیات نااہلی کا سوال واپس بھیج دیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنس میں انحراف پر نااہلی کا سوال بھی پوچھا گیا، انحراف پر نااہلی کےلیے قانون سازی کا درست وقت یہی ہے، ریفرنس میں پوچھا گیا چوتھا سوال واپس بھیجا جاتا ہے۔
