وزیر خارجہ کے دورہ چین سے پاکستان نے سعودیہ کو کیا پیغام دیا؟


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ناکام دورہ سعودی عرب کے فورا بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا چین کے ایک غیر معمولی دورے پر جانا نت نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے خصوصا جب ان رپورٹس میں تیزی آ گئی ہے کہ پاکستان ان دنوں چین، ایران اور ترکی کے ساتھ مل کر ایک نیا بلاک تشکیل دے رہا ہے۔ انہی اطلاعات کی وجہ سے آج کل پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں جنہیں بہتر کرنے کے لیے آرمی چیف نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا لیکن ان کی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات نہ ہو پائی۔
یاد رہے کہ جنرل باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دورہ سعودی عرب سے واپسی کے فوراً بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 20 اگست کو دو روزہ دورے پر چین کے لیے روانہ ہوگے تھے۔ اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ یہ دورہ کتنا اہم ہے اور اس کا ایجنڈا کیا تھا؟
دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ چین کا بنیادی مقصد عرب ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب کو یہ پیغام دینا تھا کہ وہ یہ سمجھ لے کہ جو بھی ملک کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ نہیں کھڑا، وہ کبھی پاکستان کا دوست ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر کسی کو پاکستان کی دوستی عزیز نہیں ہے تو پاکستان بھی اب اپنا ہی مفاد عزیز رکھے گا۔
یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی کچھ عرصہ قبل ایک مقامی نجی ٹیلی ویژن پر سعودی عرب اور او آئی سی سے متعلق اپنے ایک جارحانہ بیان کی وجہ سے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور میڈیا میں اس طرح کی افواہیں بھی گرم تھیں کہ سعودی عرب نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود تناؤ کو دور کرنے کے لیے شاہ محمود قریشی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا جائے۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے یہ مطالبہ نہیں مانا جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات اور کشیدہ ہوگئے۔
پاک سعودی تعلقات کی کشیدگی کا ایک ثبوت جنرل باجوہ کے دورہ سعودی عرب کی ناکامی ہے جس کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ان سے ملاقات سے پرہیز کیا اور اپنے چھوٹے بھائی خالد کو آگے کردیا۔ تاہم فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے اس دورے کا مقصد دوطرفہ پیشہ وارانہ امور پر بات چیت قرار دیا گیا۔ دوسری طرف وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دورہ چین سے قبل ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ ایک مختصر مگر ’بہت اہم‘ دورے پر چین کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اس دورے سے متعلق وزیر اعظم عمران خان سے بات ہوئی ہے۔ اس غیر معمولی ویڈیو بیان میں وزیر خارجہ نے یہ یقین بھی دلایا کہ ان کا وفد اس دورے کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی سوچ کی عکاسی کرے گا اور انھیں امید ہے کہ ان کی چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ملاقات دونوں ممالک کے لیے مفید ثابت ہو گی۔ ویڈیو پیغام میں شاہ محمود قریشی نے اپنے اس دورے کے مقاصد کی تفصیلات تو نہیں بتائیں مگر انھوں نے اس دورے کو ’بہت اہم‘ قرار دیا۔ اب اگر پاکستانی وزیر خاجہ کے بیان کو پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیانات کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو صورتحال کچھ واضح ہو جاتی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے اپنے وفد سمیت چین کے وزیر خاجہ وانگ یی سے مذاکرات کیے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں کرونا وائرس، باہمی تعلقات اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور زیر بحث آئے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے دوسرے مرحلے کے سٹریٹجگ ڈائیلاگ کا حصہ تھا۔
خیال رہے کہ ان مذاکرات کے سلسلے میں پہلا اجلاس مارچ میں منعقد ہوا تھا۔ پاکستانی حکام نے اس دورے سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق دونوں ممالک بہت سے امور پر ایک ہی موقف رکھتے ہیں اور اس لحاظ سے دونوں ممالک کا مستقبل بھی ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد ایک تفصیلی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں تفصیل کے ساتھ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تعاون کا ذکر کیا۔
مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو خطے اور عالمی سطح پر امن کی علامت قرار دیا ہے۔ جہاں دونوں ممالک نے اہم امور پر اتفاق رائے کو جلد عملی شکل دینے کا اعادہ کیا وہیں دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو بڑھانے اور راہداری کے منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ پر کام تیز کرنے پر بھی زور دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان آخر چین سے کس قسم کی یقین دہانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا؟ اگر دونوں ممالک کی طرف سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چین نے پاکستان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو آزادی کے ساتھ اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی حالات میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ترقی کی منزل پر آگے بڑھ سکتا ہے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ جاری کردہ اعلامیہ میں کسی اور ملک کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی امور پر مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت پر اطمینان کا بھی اظہار کیا۔ ان فورمز میں اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور آسیان ریجنل فورم (ASEAN) شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے اس تعاون کو مزید گہرا کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
پاک چین مشترکہ اعلامیے سی پیک سے متعلق کہا گیا کہ اب دونوں ممالک اس منصوبے پر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اعلیٰ درجے کی ترقی ممکن بنائی جا سکے گی۔دونوں ممالک نے سی پیک منصوبوں کی تعیمرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا اور کہا ہے کہ زیر تعمیر منصوبوں کی جلد تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان منصوبوں کا مقصد معاشی اور سماجی ترقی ہو گا۔ ان کے ذریعے نئی ملازمتوں کے مواقع اور عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مخصوص اکنامک زونز میں تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا، جس میں صنعتوں کا قیام، سائنس اور ٹیکنالوجی، میڈیکل، ہیلتھ، ہیومن ریسورسز ٹریننگ، غربت میں کمی اور زراعت کے شعبے شامل ہیں۔ سی پیک کو خطے کی سرگرمیوں کا مرکز بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے حال ہی میں توانائی کے شعبے میں ہونے والے معاہدات پر اطمینان کا اظہار کیا اور سی پیک کی ترویج پر اتفاق کیا۔اعلامیے کے مطابق سی پیک پر مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ دونوں ممالک اپنے مشترکہ مقاصد حاصل کر سکیں۔ دونوں ممالک نے عالمی برادری کو بھی اس منصوبے کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان نے سی پیک منصوبوں کی جلد تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے افواج پاکستان کے میڈیا ونگ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی سربراہی میں سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر چینی حکام کو تفصیلی بریفنگ دی، جس کے جواب میں چین نے اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دونوں ممالک کے باہمی معاہدات کی روشنی میں درست انداز میں کشمیر کے تنازعے کے پرامن حل پر زور دیا۔ یاد ریے کہ چین کے مطابق کشمیر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک تاریخی تنازع ہے۔
چین نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی ایسے یک طرفہ کارروائی کی مخالفت کرتا ہے جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو جائے۔
خیال رہے کہ انڈیا نے گذشتہ سال پانچ اگست کو اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں انڈیا نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا جس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تسلیم کیا گیا تھا۔ یعنی چین نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے وہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور یہ واشگاف انداز میں بتایا ہے کہ کشمیر ایک متنازع معاملہ ہے۔
دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ چین کا بنیادی مقصد عرب ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب کو یہ پیغام دینا تھا کہ وہ یہ سمجھ لے کہ جو بھی ملک کشمیر کے مسلے پر پاکستان کے ساتھ نہیں کھڑا، وہ کبھی پاکستان کا دوست ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر کسی کو پاکستان کی دوستی عزیز نہیں ہے تو پاکستان بھی اب اپنا ہی مفاد عزیز رکھے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button