وسیم اکرم نے اپنی دوسری سوانح عمری سلطان کیوں لکھی؟

پاکستان کی تاریخ میں جتنے بھی کرکٹرز آئے، اس میں وسیم اکرم کئی لحاظ سے منفردہیں۔ دیگر اعزازات کے ساتھ وسیم اکرم کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی پر دو کتابیں لکھیں ہیں۔1998 میں لکھی گئی کتاب وسیم میں انھوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں گفتگو کی ہے تاہم ان کی تازہ سوانح عمری سلطان میں انھوں نے اپنی زندگی کے کئی پوشیدہ گوشے عوام کے سامنے بیان کئے ہیں۔ دیگر اعزازات کے ساتھ و ن ڈے اورٹیسٹ کرکٹ میں دو، دو ہیٹ ٹرک، 1992 کے ورلڈ کپ سمیت کئی ٹورنامنٹ جیتنا اور ایک ٹیسٹ اننگز میں سب سے زیادہ چھکے مارنے کا ٹیسٹ ریکارڈ بھی ان کے پاس ہے۔لیکن ان کے خیال میں ان کو میچ فکسنگ میں بلاوجہ گھسیٹا گیا جس کی وجہ سے ان کا نام بدنام ہوا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں 1996 کے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ممبرز جانتے تھے کہ وہ اس اہم میچ سے قبل ان فٹ تھے۔لیکن جب ان کی غیر موجودگی میں پاکستان کو شکست ہوئی تو انہیں موردِ الزام ٹھہرادیا گیا۔
انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ وہ میچ میں کپتان نہیں تھے اس لیے شکست کے بعد اپنے کمرے میں ہی تھے۔ لیکن اعجاز احمد کے کہنے پر انہوں نے باہر نکل کر میچ میں شرکت کرنے والے وکٹ کیپر راشد لطیف اور کپتان عامر سہیل کی گفتگو سنی جس پر وہ شکست کا ملبہ ان کے اوپر ڈالنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔انہوں نےاس کتاب کے ذریعے مداحوں سے سوال کیا کہ نہ تو اس میچ میں سلو اوور ریٹ اور سلو بیٹنگ کے ذمہ دار وہ تھے، نہ انہوں نے 15 وائیڈ اور چار نو بالز پھینکیں اور نہ ہی غصہ میں آکر انہوں نے اپنی وکٹ تھرو کی۔لیکن جب شکست کا ذمے دار ڈھونڈنے کی بات آئی تو ان کو آگے کردیا گیا جو اس لیے زیادتی ہے کیوں کہ وہ اس میچ کا حصہ ہی نہیں تھے۔
اسی طرح 1999 کے ورلڈ کپ میں انہوں نے بنگلہ دیش کےخلاف شکست کی وجہ خود اعتمادی اور فائنل میں خراب کرکٹ کو قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ٹیم میں موجود تمام کھلاڑی ورلڈ کپ جیتنا چاہتے تھے۔ لیکن آسٹریلوی ٹیم اچھا کھیل کر جیتی۔ ان کے خیال میں میچ کا نتیجہ یکطرفہ تھا ، میچ کے دوران سعید انور کی جانب سے بیٹ کی گرپ بدلنےکو انہوں نے ایک انوکھا واقعہ قرار تھا ۔سن 1999 کے ورلڈ کپ فائنل کے بارے میں وسیم اکرم نےمزید کہا کہ اس روز پاکستان ٹیم کے ڈریسنگ روم میں کئی غیر ضروری افراد موجود تھے جن کی وجہ سے لیگ اسپنر مشتاق احمد اور اسسٹنٹ کوچ رچرڈ پائی بس کو بھی لارڈز کے ڈریسنگ روم میں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی۔انہوں نے اس کتاب میں جاوید میانداد کے حوالے سے بھی کئی انکشافات کئے ، ایک طر ف انہوں نے کرکٹ ٹیم میں آمد کا کریڈٹ سابق کپتان کو دیا تو وہیں بطور کوچ میچ جیتنے کے بعد ملنے والی رقم میں حصہ مانگنے اور ایک بار زبردستی قران پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کی ضد کا بھی ذکر کیا۔
وسیم اکرم نے ‘سلطان’ میں جن کھلاڑیوں کا اچھے الفاظ میں ذکر کیا اس میں سابق کپتان عمران خان، سابق آل راؤنڈر مدثر نذر، وکٹ کیپر معین خان،ساتھی کھلاڑی اعجاز احمد ، مینیجر یاور سعید اور سابق بورڈ چیئرمین خالد محمود کے نام شامل ہیں۔انہوں نے خالد محمود کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو نہ وہ اور ان کے ساتھی کھلاڑی ویسٹ انڈیز میں بلاوجہ گرفتار ہونے کے بعداتنی جلدی رہا ہوتے اور نہ ہی 1999 کے ورلڈ کپ سے قبل ان کا کم بیک ہوتا۔اسی کتاب میں سابق کپتان نے سابق ساتھی کھلاڑی رمیز راجہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بطور کھلاڑی انہیں ان کے کمشنر والد کی وجہ سے سلپ میں کھڑا کیا جاتا تھا۔انہوں نے سابق مینیجر ہارون رشید کے ہر فیصلے کو میچ فکسنگ سے جوڑنے کی عادت ، سابق بورڈ عہدیدار ماجد خان کی ان سے بلاوجہ نفرت اور چیئرمین توقیر ضیا کی اُن کے بقول آمرانہ ذہنیت اور یکطرفہ فیصلوں کو بھی اپنے اور پاکستان کرکٹ کے لیے خطرناک قرار دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب وسیم اکرم نے سوانح عمری لکھی ہو، اس سے قبل 1998 میں بھی وہ ‘وسیم’ نامی ایک کتاب لکھ چکے تھے جس میں انہوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں میچ فکسنگ پر بات کی تھی کیوں کہ اس وقت جسٹس عبدالقیوم کے تحت ہونے والے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی تھی۔دونوں کتابوں میں کئی باتیں مشترک ہیں جیسے عمران خان اور جاوید میاں داد کی ان کے کریئر میں اہمیت، 1992 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کی کارکردگی اور اس کے بعد عمران خان کی تقریر ، زمبابوے کے خلاف ان کی 257 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز اور اپنے خلاف ہونے والی بغاوت اور اس کے بعد دوبارہ کپتان بننا قابلِ ذکر ہیں۔
