وفاقی بجٹ کے بعد عوام کو ریلیف ملے گا یا تکلیف؟

وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں جہاں پنشن میں ساڑھے 17 فیصد اضافہ کیا گیا ہے وہیں سرکاری ملازمین کی تنخواہ 35 فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کم از کم تنخواہ 32ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں جہاں بہت سے ریلیف اقدامات کا اعلان کیا ہے وہیں بعض شعبہ جات میں ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافہ بھی کیا گیا ہے تاہم کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک کے ’ایڈہاک ریلیف الاؤنس‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔اس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ ایک سے 16ویں گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد جبکہ 17 سے 22ویں گریڈ کے افسران کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی مد میں کیا گیا ہے۔تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا مطلب کیا ہے؟ ایسا ایڈہاک ریلیف الاؤنس اس سے قبل بھی حکومتوں کی جانب سے دیا جاتا رہا ہے، تاہم بعد میں اسے ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں ضم کر دیا جاتا ہے۔تاہم فی الحال یہ الاؤنس ایک سال کے لیے ہو گا۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی 17ویں گریڈ کے ملازم کی تنخواہ پچاس ہزار ہے تو اسے تنخواہ کی مد میں ساڑھے 17 ہزار روپے زیادہ دیے جائیں گے۔ تاہم اس کے ساتھ سرکاری ملازمین کو ملنے والی مراعات میں یہ اضافہ شامل نہیں کیا جائے گا، اور یہ ان کی پینشن میں بھی کاؤنٹ نہیں ہو گا۔اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی پینشنز میں ساڑھے 17 فیصد کا فلیٹ اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔جبکہ وفاقی ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 32 ہزار تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بجٹ کا کل حجم 14 ہزار 460 ارب روپے ہے۔ بجٹ میں صوبوں کو 5276 ارب روپے دیے جائیں گے۔ بجٹ میں دفاع کے لیے 1804 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سُود اور قرضوں کی ادائیگی پر 7303 ارب خرچ ہوں گے۔
بجٹ میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 9200 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ نان ٹیکس ریوینیو 2963 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ پینشن کے لیے 761 ارب روپے جبکہ سبسڈیز کی مد میں 1074 ارب روپے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 450 ارب روپے رکھنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ بجٹ سے عوام کیلئے کیا سستا اور کیا کچھ مہنگا ہوگا؟ دستاویزات کے مطابق بجٹ میں سولر انورٹرز کے پارٹس پر ڈیوٹی صفر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کنٹرول بورڈ، پاور بورڈ اور چارج کنٹرولر، اے سی ان پٹ اور آؤٹ پٹ ٹرمینل، اور زرعی بیجوں پر ڈیوٹی صفر کردی گئی ہے۔ بجلی کی پیداوار اور ترسیل پر بھی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ جس سے سولر پینلز کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔
بجٹ میں ڈائپرز اور سینیٹری نیپکن پر ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے، مائننگ مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی صفر کردی گئی ہے۔ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹی ایک فیصد کردی گئی ہے۔ ہابرڈ وہیکلز کے پرزہ جات کی درآمد پر ڈیوٹی 4 فیصد کی گئی ہے۔ ایشین میک 1300 سی سی گاڑیوں کی درآمد کی فکسڈ ڈیوٹی کی پابندی واپس لے لی گئی ہے۔ ٹیکس اور ڈیوٹیز میں دی گئی رعایت کے باعث ان اشیا یا ان سے بننے والی اشیا کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔
بجٹ میں ٹیٹرا پیک دودھ، پیکٹ والا دہی، ڈبے میں بند مکھن اور پنیر مہنگا کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹن پیک مچھلی، ڈبے میں بند مرغی کا گوشت اور انڈوں کے پیکٹ کی قیمت بھی بڑھ جائے گی، ان اشیا پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس یعنی جی ایس ٹی لگایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ برانڈڈ کپڑے بھی مہنگے ہوں گے۔ ان پر جی ایس ٹی 12 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔ کافی ہاؤسز، شاپس اور فوڈ آؤٹ لیٹس پر 5 فیصد ٹیکس لگے گا، یہ ٹیکس ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ سے کی گئی ادائیگی پر ہوگا۔ پوائنٹ آف سیل یعنی POS پر لیدر اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی فروخت پر سیلز ٹیکس کی شرح 12 سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق اس وقت کم و بیش 10 ہزار غیرملکی شہری پاکستان کے امیر گھرانوں میں مددگار کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ اوسطاً ہر گھریلو مددگار کو سالانہ 6000 امریکی ڈالر تک تنخواہ دی جاتی ہے۔ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ گھریلو مددگاروں کو ادا کی جانے والی رقم پر ایک سال میں دو لاکھ روپے کی شرح سے ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق بینک سے رقم نکالنے پر ٹیکس عائد کرنا معیشت کو دستاویزی شکل دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ نان فائلر افراد کی جانب سے بینک سے رقم نکالنے کو دستاویزی اور ان کی ٹرانزیکشن کے اخراجات بڑھانے کے لیے 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم نکالنے پر 0.6 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے بجٹ میں سپریم کورٹ کے لیے مختص رقم میں 50 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے سپریم کورٹ کا بجٹ 3 ارب 55 کروڑ 50 لاکھ روپے تجویز کیا گیا ہے، جبکہ گذشتہ مالی سال میں عدالت عظمیٰ کے لیے 3 ارب 5 کروڑ 40 لاکھ 56 ہزار روپے رکھے گئے تھے۔
بجٹ میں سپریم کورٹ کے ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں 2 ارب 84 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ آپریٹنگ اخراجات کے لیے 40 کروڑ 59 لاکھ 64 ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔
ملازمین کی پینشن کے لیے 17 کروڑ 90 لاکھ 26 ہزار روپے اور گرانٹس اور سبسڈیز کی مد میں ایک کروڑ 75 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے آئندہ عام انتخابات کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تقریباً 42.41 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ صحافیوں اور فنکاروں کے لیے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اقلیتوں، سپورٹس پرسنز اور طالب علموں کی فلاح کے لیے فنڈز اس کے علاوہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’پینشن کے مستقبل کے اخراجات کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے پینشن فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔‘
وفاقی حکومت نے بجٹ میں ایشیا میں بننے والی پرانی اور استعمال شدہ 1300 سی سی گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم کردی گئی۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایشیا میں بننے والی پرانی اور استعمال شدہ 1800 سی سی تک کی گاڑیوں کی درآمد پر 2005 میں ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو محدود کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اب 1300 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں کی ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم کی جا رہی ہے۔ ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم ہونے کے بعد گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
