وفاقی کابینہ میں کون ان اور کون آؤٹ ہونے والا ہے؟

وفاقی کابینہ سے ندیم بابر اور عبدالحفیظ شیخ کی اچانک چھٹی کے بعد کئی اہم وزراء کے قلمدان تبدیل ہونے جا رہے ہیں جبکہ چند نئے چہرے بھی کابینہ میں شامل کئے جانے کا امکان یے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنی حکومتی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاں حماد اظہر، فواد چوہدری اور شبلی فراز کو نئی ذمے داریاں دی جا رہی ہیں، وہیں وفاقی کابینہ میں شامل کئی وزراء سے انکے عہدے واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حفیظ شیخ سے وزارت خزانہ کا عہدہ واپس لیا جا چکا ہے جبکہ خسرو بختیار، شہریار آفریدی، عمر ایوب خان سمیت دیگر کئی وزراء سے بھی عہدے واپس لے لیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ کپتان کی گڈ بکس میں شمار ہونے والے حماد اظہر، شبلی فراز اور فواد چوہدری 2،2 وزارتیں سنبھالیں گے۔ کہا جا رہانہے کہ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو اطلاعات کی اضافی وزارت دیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم فواد کی اپنی خواہش یہ ہے کہ انہیں وزارت داخلہ مل جائے، لیکن ابھی شیخ رشید اس وزارت سے بری طرح چمٹے ہوئے ہیں۔
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ کپتان کے ہاتھوں حفیظ شیخ کی اچانک چھٹی ہو جانے کے بعد وزارت خزانہ حاصل کرنے والے سابق گورنر پنجاب میاں اظہر عرف میاں اجو کے بیٹے حماد اظہر وزارت صنعت و پیداوار بھی سنبھالیں گے۔ اس کے علاوہ یہ امکان بھی یے کہ شبلی فراز کو پٹرولیم کی وزارت کے ساتھ ہوا بازی کی وزارت بھی دے دی جائے گی۔ یاد رہے کہ اب بھی ہوا بازی کی وزارت غلام سرور خان کے پاس ہے جنہوں نے اسے مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے مغرور پوتے عمر ایوب خان سے توانائی کی وزارت اور اللہ کا نام لے کر جھوٹی قسمیں کھانے والے شہریار آفریدی سے کشمیر کمیٹی واپس لیے جانے کا امکان ہے جس کی وجہ ان کی مایوس کن کارکردگی یے۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پہلے ہی بتا دیا ہے کہ حفیظ شیخ کو مہنگائی کی وجہ سے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا اور اب وزیراعظم نے نئی معاشی ٹیم لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ندیم بابر اور حفیظ شیخ سے عہدے واپس لیے جانے کے بعد کابینہ میں تبدیلیوں کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان مزید بڑے فیصلے کرنے جا رہے ہیں۔ حفیظ شیخ کی جگہ پہلے ہی حماد اظہر کو وزیر خزانہ مقرر کیا جا چکا ہے کیوں کہ وزیراعظم انکی کارکردگی سے خوش ہیں۔ یاد رہے کہ حماد اظہر وزیرِ صنعت و پیداوار بننے سے قبل وفاقی وزیر برائے اقتصادی اُمور تھے۔ اپریل 2020 میں چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد جب حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی خسرو بختیار سے اُن کا قلمدان لے کر اُنھیں وفاقی وزیر برائے اقتصادی اُمور بنا دیا گیا تھا، جبکہ حماد اظہر کو اقتصادی اُمور کی وزارت سے تبدیل کر کے وزیرِ صنعت و پیداوار بنا دیا گیا تھا۔ حماد اظہر اس سے قبل مالی سال 2019 تا 2020، اور 2020 تا 2021 کے لیے بجٹ بھی پیش کر چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سینیٹر فیصل جاوید خان اور ایم این اے فرخ حبیب کو بھی اہم وزارتیں سونپی جائیں گی۔ دونوں رہنماوں کو وزیر مملکت بنائے جانے کا امکان ہے، انہیں ایڈجسٹ کرنے کیلئے وزارت اطلاعات و نشریات کو الگ کر کے 2 نئی وزارتیں قائم کرنے کا امکان ہے۔ وزارت اطلاعات ایک بار پھر فواد چوہدری کو دیے جانے سے متعلق مشاورت بھی کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ میں اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کو بھی نمائندگی دینے پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔ ممکنہ طور پر ایم کیو ایم سے سینیٹر فیصل سبزواری کو وزیر مملکت لگانے کا امکان ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی سے میر سرفراز بگٹی وزارت کے تگڑے امیدوار ہیں۔ علاوہ ازیں فیصل واوڈا کے قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑ کر سینیٹر منتخب ہونے کے بعد تاحال انہیں آبی وسائل کی وزارت دوبارہ نہیں دی گئی، اس اہم وزارت کے حوالے سے بھی کپتان جلد کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ندیم بابر اور حفیظ شیخ کی چھٹی کروائے جانے سے قبل دسمبر 2020 میں وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے ارکان کے محکموں کو تبدیل کیا تھا جس کے بعد شیخ رشید سے وفاقی وزیر ریلوے کا قلم دان لے کر انکو وفاقی وزیر داخلہ مقرر کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے اعجاز شاہ کو منشیات کنٹرول کا وزیر مقرر کیا تھا۔ اس سے قبل وہ وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اسی طرح منشیات کے کنٹرول کا ایک قلمدان رکھنے والے اعظم سواتی کو وزیر ریلوے مقرر کیا گیا تھا جبکہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو وفاقی وزیر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد وزیر خزانہ بنایا گیا تھا۔ کام یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں سینیٹ کے الیکشن میں شکست کھانے کے بعد ان کو فارغ کردیا گیا ہے۔
