پاکستان خیرات لے کر کورونا کا مقابلہ کررہا ہے

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہےکہ پاکستان خیرات لے کر کورونا کا مقابلہ کررہا ہے جب کہ این سی او سی ناکام ہو چکا کیوں کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ کیا کرنا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ براڈشیٹ کا اسکینڈل آیا اور فائلیں غائب ہوگئیں، نیب عدالتوں میں کیمرے لگائیں اور لوگوں کو دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ بدنصیبی سے نیب ایک آمر نے بنایا جو اب تک قائم ہے جب کہ نیب کا کام سیاستدانوں کو کنٹرول کرنا ہے، نیب اپوزیشن کو دبانے کےلیے بنا تھا اور یہی کام کر رہا ہے لہٰذا نیب رہے گا یا ملک رہے گا کیوں کہ دونوں اکٹھے نہیں چل سکتے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سنجیدہ معاملہ ہے اور سال ہوگیا لیکن پاکستان کورونا وائرس پر قابو نہ پا سکا، ایک سال قبل جو اموات کی شرح تھی آج پاکستان میں اس سے زیادہ ہے، دیگر ممالک کی پالیسی میں پہلا نکتہ ہی ماسک پہننے کا ہے اور پاکستان میں ماسک پہننا 13 واں نکتہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی معیشت تباہ ہو چکی تو ہمیں معلوم ہوا وزیر خزانہ نالائق تھا، این سی او سی ناکام ہو چکا کیوں کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ کیا کرنا ہے، این سی او سی کے 16 نکات میں ایک جگہ بھی ویکسین کا ذکر نہیں، ویکسین کا ذکر اس لیے نہیں کیوں کہ کرپشن ویکسین میں ہو رہی ہے، پاکستان واحد ملک ہے جس نے کورونا وائرس کا ایک بھی ٹیکہ نہیں خریدا، پاکستان خیرات لے کر کورونا کا مقابلہ کر رہا ہے، ملک میں لوگوں کو ویکسین میسر نہیں، لیکن وہ کون ہیں جنہیں ویکسین لگ رہی ہے۔
