ٹوئٹر اب 2020 کے صدارتی انتخاب میں مداخلت کر رہا ہے

ٹوئٹر کی جانب سے کچھ پیغامات پر فیکٹ چیکنگ وارننگ جاری کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔
بدھ کو ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ‘ریپبلکنز کو محسوس ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز قدامت پسند آوازوں کو مکمل خاموش کر رہے ہیں، ہم ایسا اپنے ساتھ ہونے سے پہلے ان کو سختی سے ریگولیٹ یا بند کردیں گے، ہم نے دیکھا تھا کہ انہوں نے 2016 میں بھی ایسی کوشش کی اور ناکام رہے’۔ ٹوئٹر پر عرصے سے تنقید کی جارہی ہے کہ وہ امریکی صدر کو سازشی خیالات پھیلانے کا موقع فراہم کررہا ہے حالانکہ اس کی پالیسیاں غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔
Republicans feel that Social Media Platforms totally silence conservatives voices. We will strongly regulate, or close them down, before we can ever allow this to happen. We saw what they attempted to do, and failed, in 2016. We can’t let a more sophisticated version of that….
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) May 27, 2020
مگر منگل کو پہلی بار امریکی صدر کی کچھ ٹوئٹس پر فیکٹ چیکنگ ٹیگ نظر آئے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹس میں بغیر ثبوت کہا کہ میل کے ذریعے ووٹنگ سے فراڈ اور ‘دھاندلی زدہ انتخاب ہوگا’۔
ٹوئٹر نے ٹرمپ کے ٹوئٹس کے نیچے ایک لنک دیا جس میں تحریر کیا گیا کہ ‘میل ان بیلٹس کے بارے میں حقائق جانیے’ اور صارفین کو ان دعوؤں کے جھوٹے ہونے کی نشان دہی کرنا پڑی اور میڈیا کی رپورٹس کا حوالہ بھی دیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردعمل میں ٹوئٹر کو جانب دار قرار دیتے ہوئے اس نوٹس کو مسترد کردیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ‘ٹوئٹر اب 2020 کے صدارتی انتخاب میں مداخلت کر رہا ہے’۔
.@Twitter is now interfering in the 2020 Presidential Election. They are saying my statement on Mail-In Ballots, which will lead to massive corruption and fraud, is incorrect, based on fact-checking by Fake News CNN and the Amazon Washington Post….
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) May 26, 2020
ٹوئٹر کے نوٹس پر انہوں نے کہا کہ ‘وہ میل-ان بیلٹس کو کرپشن اور فراڈ کےلیے راہ ہموار کرنے کی وجہ قرار دینے کے میرے بیان کو غلط قرار دے رہے ہیں جو خبر، سی این این اور واشنگٹن پوسٹ کے حقائق پر مبنی ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ٹوئٹر مکمل طور پر آزادی اظہار کو دبا رہا ہے اور میں بحیثیت صدر ایسا کرنے کی اجازت نہیں دوں گا’۔
خیال رہے کہ رواں برس نومبر میں امریکا میں صدارتی انتخابات ہوں گے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کے سابق نائب صدر جو بائیڈن ہیں۔
ر واں ماہ ٹوئٹر نے اعلان کیا تھا کہ غلط معلومات یا تنازعات پر مبنی کچھ ٹوئٹس پر لیبلز اور وارننگ پیغامات کا اضافہ کیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد اس سوشل میڈیا نیٹ ورک میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور اس کا اطلاق بتدریج دیگر موضوعات پر بھی کیا جائے گا۔
ٹوئٹر کے نئے لیبلز میں مزید معلومات کےلیے لنکس بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ لوگ الجھن یا غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
