ٹڈیوں کے بڑے حملے کا خدشہ، تدارک کیلئےنیشنل ایکشن پلان تیار

نیشنل فوڈ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں آئندہ چند ماہ کے دوران ٹڈیوں کے بڑے حملے کا خطرہ ہے. جس سے بروقت نہ نمٹا گیا تو ملک میں گندم، چاول سمیت دیگر فصلوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے بدترین غذائی بحران کا خدشہ ہے۔
نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کی وزارت نے اس خطرے کے پیش نظر وزیراعظم کو ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز دیتے ہوئے ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان مرتب کر لیا ہے۔ وزارت نے فوج کے ساتھ ساتھ چین سے بھی فضائی آپریشن میں مدد مانگ لی ہے۔ محکمہ تحفظ نباتات پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فلک ناز کا کہنا ہے کہ اس وقت پنجاب میں رحیم یار خان، صادق آباد، سندھ میں گھوٹکی، سکھر اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ٹڈیوں کی سب سے خطرناک قسم سمجھی جانے والی ’صحرائی ٹڈیوں‘ کی بڑے پیمانے پر موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈیا اور ایران سے بھی ٹڈیوں کے بڑے غول پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ گرمیوں میں ان کی تعداد اربوں اور کھربوں تک پہنچنے کے بعد صوررتحال خطرناک حد تک جاسکتی ہے کیونکہ اس وقت بہت سی فصلیں تیار ہوں گی۔
ڈاکٹر فلک ناز کا مزید کہنا ہے کہ ’پاکستان میں بھی آئندہ چھ سے آٹھ مہینوں میں ٹڈیوں کی یلغار پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ شدت کی ہوگی اور شاید صورتحال 1993ء سے بھی زیادہ گھمبیر ہوجائے جب ٹڈیوں نے پورے ملک میں حملہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ خطرے کے پیش نظر ہم نے وزارت فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے ساتھ مل کر تینوں صوبوں اور متعلقہ حکام کی مشاورت سے قومی ایکشن پلان مرتب کرلیا ہے۔‘
ٹڈیوں کے تدارک کیلئے مرتب کئے گئے نیشنل ایکشن پلان کی دستاویزات کے مطابق پلان میں ٹڈیوں کے خاتمے کے لیے زمینی اور ہوائی آپریشن، طیاروں، گاڑیوں کے اخراجات، زہریلی ادویات اور آلات کی خریداری سمیت اخراجات کا ابتدائی تخمینہ دو ارب اکہتر کروڑ روپے لگایا گیا ہے جس میں تقریباًایک ارب89 کروڑ روپے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں سے مانگے گئے ہیں۔
ڈاکٹر فلک ناز نے بتایا جون2021ء تک نیشنل ایکشن پلان پر تین مراحل میں عملدرآمد کیا جائےگا۔ صحرائی علاقوں میں زمینی اور فضائی اسپرے کے علاوہ فصلوں والے علاقوں میں بھی سپرے کیے جائیں گے۔ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے حکام کے مطابق ٹڈی دل کے خلاف قومی سطح پر تیار کیے گئے ایکشن پلان کے اخراجات کا حتمی تعین ہونا ابھی باقی ہے۔
فیڈرل سیکریٹری فوڈ اینڈ ریسرچ ہاشم پوپلزئی نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ اخراجات کا تعین کیا جارہا ہے۔ہوائی سپرے کے لیے ہمارے پاس طیاروں کی کمی ہے جس کے لیے فوری طور پر چین سے طیارے کرایے لینے کی تجویز زیرغور ہے۔ افواج پاکستان سے بھی ہوائی آپریشن میں مدد مانگی کی گئی ہے اگر ان کے طیارے دستیاب ہوئے تو فوری استعمال میں لائے جائیں گے۔ پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فلک ناز کا کہنا ہے کہ ’ہوائی سپرے کیلئے تقریباً دس طیاروں کی ضرورت ہوگی۔‘ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں سکیورٹی کی وجہ سے پچھلے سال فضائی آپریشن کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ زمینی آپریشن میں مشکلات پیش آئیں۔
’ٹڈی دل پورے خطے کو متاثر کررہا ہے اس لیے ہم انڈیا اور ایران میں متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ایران کے ساتھ مارچ اور اپریل میں مشترکہ سروے کیا جائےگا جبکہ انڈیا کے ساتھ بھی کھوکھرا پار پر ہماری ماہانہ میٹنگ ہوتی ہے۔‘
پاکستان میں عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے تکنیکی ماہر ڈاکٹر شکیل کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کے اتنے بڑے پیمانے پر حملے پچیس سال بعد ہوئے ہیں اس لیے متعلقہ محکمے اس صورتحال کے لیے تیار نہیں تھے۔ اب وفاقی اور صوبائی حکومتیں اقدامات کررہی ہیں ہم اس سلسلے میں انہیں تکنیکی معاونت فراہم کررہے ہیں۔
پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف شاہ بھی سمجھتے ہیں کہ طویل عرصے تک ٹڈیوں کے حملے نہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ ادارے متحرک نہیں رہے انہوں نے بتایا کہ ’سب سے زیادہ خطرہ بلوچستان کو ہے لیکن ہمارے پاس ادویات اور مشنری کے لیے بجٹ نہیں، صرف ایک گاڑی ہے، سپرے کے لیے کوئی ادویات یا آلات موجود نہیں۔ ہم نے صوبائی حکومت سے 53کروڑ روپے آلات کی خریداری کیلئے مانگے ہیں مگر اب تک صرف دس کروڑ کی گرانٹ منظوری کے مراحل میں ہے۔
سندھ کے ڈائریکٹر زراعت توسیع ہدایت اللہ کے مطابق سندھ حکومت کو صورتحال کا ادراک ہے اس لئے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے نئی گاڑیاں اور آلات خرید لیے ہیں۔ ’ہم نے 45 ٹیمیں تشکیل دے کرفصلوں والے علاقے محفوظ بنا لیے ہیں۔ تھر پار کر، عمر کوٹ اور نارا صحر امیں ٹڈی دل موجود ہیں وہاں فضائی آپریشن کی ضرروت ہے جس کے لیے ہم نے وفاق سے مدد مانگی ہے۔‘
تحقیق کے مطابق مادہ ٹڈی نم ریتیلی زمین میں انڈے دیتی ہے، ریگستانی علاقوں میں بارش ان کی افزائش کے لیے حالات سازگار بنا دیتی ہے۔ ٹڈیاں لشکر کی صورت میں دن میں سفر کرتی ہیں اور رات میں درختوں اور سبزے پر قیام کرکے ان کا خاتمہ کرتی ہیں۔ ان کا ایک غول ایک مربع کلومیٹر سے لے کر کئی سو مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوسکتا ہے۔ ٹڈیوں کا ایک مربع کلومیٹر پر مشتمل لشکر ایک دن میں 35ہزار لوگوں کے برابر کھانا کھا سکتا ہے۔
ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن ڈاکٹر فلک ناز نے بتایا کہ ’پاکستان میں صحرائی ٹڈی کے افزائش نسل کے دو موسم ہیں۔ فروری سے جون تک پہلے سیزن میں ٹڈیاں بلوچستان میں ہوتی ہیں اس لیے ہماری سب سے زیادہ توجہ بلوچستان پر ہوگی۔ جون سے لے کر ستمبر تک دوسرے سیزن میں ٹڈیاں بلوچستان سے سندھ اور پنجاب منتقل ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد ہماری توجہ ان دونوں صوبوں میں ہوگی۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button