ٹڈی دل کےخاتمےکیلئےتمام دستیاب وسائل بروئےکارلائیں گے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے راولپنڈی میں ٹڈی دل کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا اور ٹڈی دل سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ٹڈی دل پر قابو پانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج ٹڈی دل کےخاتمےکیلئےتمام دستیاب وسائل بروئےکار لائےگی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے راولپنڈی میں ٹڈی دل کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا، چیف انجینئر لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز نے ٹڈی دل سے نمٹنے کے اقدامات پر آرمی چیف کو بریفنگ دی۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے کنٹرول سینٹر کے مربوط کردار کی تعریف کی اور کہا کہ ٹڈی دل کےخاتمےکیلئے پاک فوج سول انتظامیہ کے ساتھ ملکر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ٹڈی دل کا تدارک ضروری ہے، معیشت کو منفی اثرات سے بچانے کیلئے بھی ٹڈی دل کا خاتمہ ضروری ہے، حکومت ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئےپہلے ہی ایمرجنسی ڈکلیئر کرچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج ٹڈی دل کے حملے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے درکار تمام ضروری وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے شہری انتظامیہ کی مدد کرے گی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ملک میں فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے اور معیشت کو منفی اثرات سے بچانے کے لیے موثر آپریشن کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگری کلچرل آرگنائزیشن(ایف اے او) نے کہا پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں زمین کے 38 فیصد رقبے پر صحرائی ٹڈی دل کی افزائش جاری ہے اور اگر بروقت کیڑے مار اسپرے نہ کیا گیا تو پورے ملک کو ٹڈیوں کے حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔صدی کی ابتدائی 2 دہائیوں میں ٹڈی دل کے بدترین حملے کا سامنا کرنے والا پاکستان بھرپور طریقے سے بین الاقوامی تعاون پر زور دے رہا ہے تاکہ ان کیڑوں کی مقامی سطح پر نگرانی اور روک تھام کی کوششوں میں اضافہ کر کے اس کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔
گزشتہ دنوں ‘پاکستان میں ٹڈی دل کی صورتحال‘ کے عنوان سے رپورٹ میں جنوب مغربی ایشیا سے ٹڈی دل کی ہجرت، مختلف ممالک میں اس کے حملے، پاکستان کی زراعت پر انحصار کرنے والی معیشت پر اس کا اثر سمیت پاکستانی حکومت کی اس کو روکنے کے لیے اقدامات اور ابھرتی ہوئی صورتحال کو نمایاں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان اور مشرقی حصے میں ایران کو سب سے زیادہ خطرے کا سامنا ہے کیونکہ ان علاقوں میں ٹڈیوں کی افزائش ہورہی ہے۔
پاکستان میں نقصانات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر ان علاقوں میں کنٹرول آپریشن مکمل طور پر مؤثر نہیں ہے جہاں ربیع کی فصلوں جیسے گندم، مرچ اور تلسی موجود ہیں، تاہم انہیں بہت ہی قلیل مدت میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹڈیوں کے حملے کی صورت میں زراعت کو ہونے والے نقصانات صرف گندم، چنے اور آلو کی پیداوار کے 15 فیصد ہوں گے جو تقریبا 205 ارب روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔25 فیصد نقصان کی صورت میں ربیع کی فصلوں کے لیے تقریبا 353 ارب روپے اور خریف کی فصلوں کے لیے تقریبا 464 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قبل مشرقی خطے میں انتہائی نوعیت کا ٹڈی دل کا حملہ 1993 میں ہوا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button