ٹی ایل پی سے گورنر پنجاب اور وزير قانون راجہ بشارت مذاکرات کررہے ہيں

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیر قانون راجہ بشارت مذاکرات کر رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ کالعدم تنظیم کی کمیٹی سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیر قانون راجہ بشارت نے مذاکرات کیے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات نیوٹرل جگہ پر کیے گئے۔ پہلے دور میں سیز فائر پر اتفاق ہوا۔ جس کے بعد اب لانگ مارچ اور کارکنوں کی رہائی پر بات ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں دہشت گردی کے مقدمات والوں پر نہیں صرف ايم پی او کے تحت حراست ليے کارکنوں پرمذاکرات ہوں گے جب کہ حکومتی کميٹی لانگ مارچ کی منسوخی پر زور دے رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کو دوسرا دور شام کو ہوگا۔ ذرائع کے مطابق دونوں حکومتی نمائندے مذاکرات کی کامیابی کےلیے کافی پُر اُمید ہیں کیوں کہ مذاکرات کا پہلا دور بھی تین سے چار گھنٹے کا ہوا تھا جس میں کافی چیزیں طے کر لی گئی تھیں۔ پہلے دور میں سیز فائر کے تحت دونوں طرف سے سیز فائز پر عمل کیا گیا۔یاد رہے کہ آج صبح اپنے ویڈیو پیغام میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان سے بات چیت چل پڑی ہے۔ مذاکرات کا پہلا دور کافی بہتری سے مکمل ہواہے۔ ٹی ایل پی نے یرغمال 11پولیس اہلکار چھوڑ دیئے ہیں۔ تحریک لبیک کے افراد بھی مسجد رحمت للعالمین ﷺ میں چلے گئے ہیں۔ پولیس بھی پیچھے ہٹ چکی ہے۔ انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ اُمید ہے کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی کامیابی سے ہمکنار ہو گا اور 192 ناکوں میں سے جو 1 ناکہ باقی رہ گیا ہے وہاں بھی حالات میں بہتری آئے گی۔ بات چیت چل پڑی ہے ایک راؤنڈ مثبت رہا ہے۔ اللہ سے اُمید ہے کہ ٹی ایل پی سے معاملات خوش اسلوبی سے طے پا جائیں گے۔
