پارا چنار، طالبان دہشتگردوں کا سکول پر حملہ ناکام

صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم کے ہیڈ کوارٹرز پاراچنار کے عوام نے طالبان دہشت گردوں کا سکول پر حملہ ناکام بنا دیا۔ طوری بنگش قوم نے حملہ ناکام کرکے 29 سے زائد طالبان دہشت گردوں کو پکڑ کر سیکیورٹی فورس کے حوالے کر دیا۔
پاراچنار کے علاقے نستی کوٹ میں درجنوں طالبان دہشت گردوں نے اسلامیہ پبلک سکول پر حملہ کیا۔ طوری بنگش قوم نے پاراچنار کے سکول پر حملہ کرنے والے 29 سے زائد دہشت گردوں کو پکڑ لیا۔ بعد ازاں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو اپنی حراست میں لے لیا، دہشت گردوں کو تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
WhatsApp Image 2019 10 10 at 4.28.57 PM
ڈیرہ اسماعیل خان کے سینئیر صحافی توقیر زیدی کے مطابق درجنوں مسلح طالبان دہشتگردوں نے سکول پر فائرنگ کی، سکول چوکیدار کی جوابی فائرنگ سے طالبان سکول میں داخل نہ ہو سکے۔ فائرنگ کی آوازیں سن کر مقامی قبائل کے عوام سکول پہنچ گئے اور 29 دہشت گردوں کو پکڑ لیا جبکہ سکول انتظامیہ نے سیکیورٹی فورسز اور انتظامیہ کو اطلاع دیدی اور بعد ازاں مذاکرات کے بعد طالبان کو حکومت کے حوالے کردیا۔
WhatsApp Image 2019 10 10 at 4.53.49 PM 2
اس موقع پر قبائلی عمائدین نے مطالبہ کیا ریڈزون پاراچنار میں شدت پسندوں کی اس طرح نقل و حرکت کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے اور گرفتار افراد سے باقاعدہ تحقیقات کی جائے. قبائلی عمائدین نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ پارا چنار جو کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاک فوج کی جانب سے ریڈ زون قرار دیا گیا ہے اور سیکیورٹی فورسز کی جگہ جگہ پر ناکہ بندی اور چیک پوسٹیں موجود ہیں اس کے باوجود طالبان کا علاقے میں آنا حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ قبائلی عمائدین نے اس حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیاہے۔
واضح رہے کہ پارچنار تک پہنچنے کیلیے عوام کو دسیوں چیک پوسٹوں پر اپنی شناخت کرانا ہوتی ہے جس کے بعد ہی پاراچنار تک رسائی ہوتی ہے، پاراچنار کی عوام نے سیکیورٹی انتظامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے سوال کیا کہ 32 چیک پوسٹوں اور بارڈر پر باڑ ہونے کے باوجود یہ طالبان یہاں کیسے پہنچے۔
قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ پتہ چلنا چاہیے کہ یہ کون تھے۔۔۔؟ کیا کرنے آئے تھے۔۔۔؟ اتنے چیک پوسٹوں سے کیسے گزر کر آئے۔۔۔؟ کس کس نے گزرنے میں ان کو مدد فراہم کی۔۔۔؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button