پارلیمنٹ سے نواز شریف کی تا حیات نا اہلی ختم کرنے کا فیصلہ


مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے پارٹی سربراہ نواز شریف کو ملک واپس لانے اور انہیں سیاسی میدان میں متحرک کرنے کے لیے تاحیات نااہلی کے قانون کو پارلیمنٹ کے ذریعے ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ تاحیات نا اہلی کا قانون پارلیمنٹ کے ذریعے ختم کرنے پر کام شروع ہو چکا ہے اور نواز شریف 2023 کے عام انتخابات میں اپنی جماعت کی الیکشن مہم کی قیادت کریں گے۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مخلوط حکومت کچھ ایسی ترامیم کر سکتی ہے جس سے نواز شریف پر پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے عائد کردہ پابندی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کی جانب سے سیاست دانوں پر عائد کی جانے والی تاحیات پابندی کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ انکے مطابق اگر اس قانون سازی کو پارلیمنٹ میں لایا جاتا ہے اور متعلقہ آئینی ترمیم کو منظور کر لیا جاتا ہے تو اس کا سب سے ذیادہ فائدہ نواز شریف کو ہوگا۔ اس کے علاوہ عمران خان کے سابقہ قریبی ساتھی جہانگیر خان ترین بھی تا حیات پابندی ختم ہونے سے سیاست میں واپس آسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اپریل 2018 میں سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عوامی عہدہ کے لئے نااہلیت کی سزا تاحیات قرار دے دی تھی، چنانچہ اب اس شق کے تحت نااہل ہونے والا شخص عمر بھر الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اس عدالتی فیصلے کی روشنی میں سابق نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی عوامی عہدہ رکھنے کے لئے تاحیات ناہل ہو گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ رھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف میں نااہلی کی معیاد کا ذکر تو موجود نہیں ہے۔ تاہم عوام کو صادق اور امین قیادت ملنی چاہیے۔ مسلم لیگ نون نے تب اسے ایک سیاسی فیصلہ قرار دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ اس کا مقصد نواز شریف کو حکومت سے نکالنے کے بعد سیاست سے بھی باہر کرنا ہے۔ اس فیصلے سے چار ماہ پہلے دسمبر 2017 میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اپنا سعودی اقامہ چھپانے کی بنیاد پر عوامی عہدے کے لیے نا اہل قرار دے دیا تھا اور یوں وہ وزارت عظمیٰ سے فارغ ہوگئے تھے۔ اس فیصلے کے خلاف نواز شریف کی اپیل ابھی تک زیر التوا ہے۔

تا حیات نا اہلی کا فیصلہ دینے والے 5 ججوں میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس عظمت سعید شیخ شامل تھے۔ تاہم حکومتی ذرائع دلاتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا تھا جس بنیاد پر کسی عوامی نمائندے کی نااہلیت کا فیصلہ کیا گیا ہے، اگر اس کے خلاف کوئی فیصلہ آجاتا ہے تو یہ نااہلیت غیرموثر ہوجائے گی.

یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سپریم کورٹ میں سیاستدانوں پر تاحیات پابندی کا فیصلہ چیلنج کر چکی ہے اور یہ کیس زیر التواء ہےلیکن اب شہباز حکومت نے سیاستدانوں پر تاحیات پابندی کا قانون آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کرنے پر کام شروع کر دیا یے۔ حال ہی میں مریم نواز نے اشارہ دیا تھا کہ ان کے والد واپس آنا چاہتے ہیں لیکن انکی واپسی میں ‘کچھ مسائل’ رکاوٹ بن رہے ہیں۔ مریم نواز دراصل قانونی مسائل کا حوالہ دے رہی تھیں کیونکہ وطن واپسی پر نواز شریف کو العزیزیہ کرپشن ریفرنس میں جیل جانا پڑے گا، اس کے علاوہ ان کی واپسی کے لیے مریم نواز نے طاقتور حلقوں کی جانب سے ’گرین سگنل‘ نہ ملنے کا بھی حوالہ دیا۔ اپریل میں شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنما اس امید کے ساتھ پُرجوش تھے کہ اب ان کے پارٹی سربراہ جلد ہی ان کے درمیان ہوں گے لیکن قانونی رکاوٹوں کو ان کی واپسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جارہا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف ممکنہ طور پر عام انتخابات سے قبل ملک واپس آسکتے ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ سیاسی میدان میں پی ٹی آئینپر قابو پانے کے لیے ان کی موجودگی ضروری ہے۔ اپنی فراغت کے بعد سے امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ لے کر چلنے والے پی ٹی آئی کے چیئرمین کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر مسلم لیگ (ن) کی قیادت متفق ہے کہ اگر آئندہ انتخابات میں پارٹی کو فتح حاصل کرنی ہے تو انتخابات سے قبل نواز شریف کی پاکستان میں موجودگی ضروری ہے۔اندرونی ذرائع نے بتایا کہ ‘پنجاب میں گزشتہ ماہ ہونے والے ضمنی انتخابات میں شکست نے پارٹی کے اندر اس خیال کو تقویت بخشی ہے کہ مریم اور شہباز شریف جیسی دوسرے درجے کی قیادت کے لیے اگلے الیکشن میں عمران کا مقابلہ کرنا آسان نہیں یو گا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت سمجھتی ہے کہ سیاسی میدان میں صرف نواز شریف ہی عمران خان کو قابو کر سکتے ہیں اس لیے موجودہ حکومت کے خاتمے سے پہلے ہی پارلیمنٹ کے ذریعے تاحیات نااہل کا قانون ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

Back to top button