اسٹیبلشمنٹ کے فیض دھڑے کو پنجاب کی وزارت داخلہ مل گئی

باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی نئی پنجاب کابینہ میں وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالنے والے کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر سب سے تگڑے وزیر ہوں گے چونکہ ان کا سفارشی اسٹیبلشمنٹ کا فیض دھڑا ہے جس نے پرویز الٰہی کو پی ڈی ایم کا وزیر اعلیٰ بننے سے روکا تھا۔
یاد رہے کہ قصور سے منتخب ہونے والے کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر کے پاس عثمان بزدار کی کابینہ میں پاپولیشن ویلفیئر کی سب سے ہلکی وزارت تھی لیکن اب وہ پرویز الٰہی کی کابینہ میں وزارت داخلہ کے قلمدان کے ساتھ سب سے طاقتور وزیر بن گئے ہیں۔ ہاشم ڈوگر نے وزیر بنتے ہی 25 مئی کو عمران خان کے لانگ مارچ کے دوران تشدد میں ملوث پولیس والوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 50 سینئر افسران کو کھڈے لائن لگا دیا ہے اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان کو گھیرنے کے لئے ایک جے آئی ٹی بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریٹائرڈ کرنل ہاشم کو وزیر داخلہ پنجاب بنانے کا مشورہ پشاور سے آیا تھا جو ان کے اور عمران خان کے مشترکہ محسن کا موجودہ ٹھکانا ہے۔
پرویز الٰہی کی نئی کابینہ میں سابقہ بزدار کابینہ کے صرف 12 وزرا دوبارہ شامل کئے گئے ہیں جبکہ 19 سابق وزرا کو نظر انداز کردیا گیا ہے جس کے باعث پنجاب حکومت میں جلد اختلافات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب بزدار کابینہ کے سب سے طاقتور وزیر راجہ بشارت کی جگہ ضمنی الیکشن میں شیخوپورہ سے نو منتخب رکن پنجاب اسمبلی خرم شہزاد ورک کو وزیر قانون و پارلیمانی امور بنا دیا گیا ہے جن کیلئے صوبے کی تاریخ کی بڑی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے پنجاب اسمبلی کا ہاوس چلانا بڑا چیلنج ہوگا۔ راجہ بشارت کو کواپریٹو اور پراسیکیوشن کے محکمے دئیے گئے ہیں۔ عثمان بزدار کے دور میں راجہ بشارت کو وزیراعلیِ بنانے کی تجویز بھی دی گئی تھی جسے عمران خان نے مسترد کر دیا تھا۔ اپنی سیاسی وفاداریاں بدلنے کے لیے شہرت رکھنے والے بشارت قانون اور پارلیمانی امور کا تجربہ رکھتے ہیں۔ موصوف شہباز شریف ، پرویز الہی اور عثمان بزدار کی کابینہ میں وزیر قانون و پارلیمانی امور رہے ہیں۔
ضمنی الیکشن میں فیصل آباد سے پہلی بار منتخب ہونے والے نوجوان علی افضل ساہی کو مواصلات کی اہم وزارت دی گئی ہے۔ علی افضل ساہی موجودہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر علی بھٹی کے داماد ہیں اعر سابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری محمد افضل ساہی کے بیٹے ہیں۔ چوہدری افضل ساہی بھی1997 میں مواصلات کے وزیر رہے ہیں۔ نئی پنجاب کابینہ میں پی ٹی آئی کے ہم خیال گروپ کے 14 ارکان میں سے صدف دو یعنی غضنفر عباس چھینہ اور سردار شہاب الدین سیہڑ کو وزیر بنایا گیا ہے۔ اس گروپ کا دعوی ہے کہ اس نے مالی پیشکشوں کو مسترد کیا اور پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ غضنفر عباس چھینہ نے 2018 میں لیگی رہنما سعید اکبر نوانی کو ان کے آبائی حلقے میں شکست دی تھی جبکہ 2013 میں سعید اکبر نوانی کے قریبی رشتہ دار احمد نواز خان کو بطور آزاد امیدوار شکست دی تھی۔شہاب الدین سیہڑ کے سگے چیچا سردار بہادر خاں سیہڑ اپنے گروپ کے ساتھ پی ٹی آئی چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔ اس گروپ میں سرگودھا سے فیصل فاروق چیمہ بھی وزارت کے امیدوار تھے لیکن ان کے قریبی عزیز منیب سلطان چیمہ ٹرانسپورٹ کا وزیر بننے میں کامیاب رہے۔ انہیں وزیر بنوانے میں چودھری مونس الہی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ منیب سلطان چیمہ کے والد عامر سلطان چیمہ پرویز الہی کی سابقہ کابینہ میں وزیر آبپاشی جبکہ ان کے دادا انور علی چیمہ مرحوم پرویز الہی کے ساتھ وفاقی کابینہ میں بھی رہے ہیں۔ جبکہ عامر سطان چیمہ کے ماموں زاد آصف نکئی پرویز الہی کی کابینہ میں ایکسائز کے وزیر ہیں۔
نئی کابینہ میں بزدار کابینہ کے صرف 12 وزرا دوبارہ شامل کئے گئے ہیں اور 19 سابق وزرا کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وزیراعلی پرویز الٰہی کی قاف لیگ سے تعلق رکھنے واکے دس اراکین پنجاب اسمبلی میں سے کسی ایک کو بھی وزارت نہیں ملی، لہذا خیال کیا جاتا ہے کہ جلد ہی پرویز حکومت ناراض اراکین کے غم و غصے کا شکار ہونا شروع ہو جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز کابینہ میں گوجرانولہ، ملتان اور بہاولپور ڈویژن سے کوئی وزیر نہیں لیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ کابینہ کے دوسرے مرحلے میں ان ڈویژنز سے وزرا لئے جائیں گے۔ رحیم یار خان سے سابق وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت کو کابینہ میں شامل نہ کیا جانا بڑا سرپرائز ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان انکے خاندان سے ناراض ہیں۔ ہاشم کے بھائی خسرو بختیار کو عمران نے وفاق میں اہم وزارت دی تھی اور جنوبی پنجاب پی ٹی آئی کا صدر بھی بنایا تھا لیکن وہ حکومت کے خاتمے پر ملک چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے اور اب یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ عمران خان ساتھ بھی چھوڑ چکے ہیں۔ اس سے پہلے رحیم یار خاں میں پی ٹی آئی کے ارکان و صوبائی اسمبلی کو ضلع میں فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر شکایات تھیں جو عمران خان کے نوٹس میں بھی لائی گئی تھیں۔
ماضی کے بر عکس ہاشم جواں بخت کی جگہ محسن لغاری کو وزیر خزانہ بنایا گیا ہے۔پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہیپ علی عباس شاہ کو بھی وزیر بنایا گیا ہے۔ نوابزادہ نصراللہ مرحوم کے بیٹے نوابزادہ منصور احمد خان کو وزیر مال بنایا گیا ہے۔ ان کے ایک بھائی نوابزادہ افتخار احمد خان اس وقت پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ اسی طرح خرم ورک کو وزارت قانون اور پارلیمانی امور، ڈاکٹر یاسمین راشد کو صحت، راجا یاسر ہمایوں کو اعلیٰ تعلیم اور آئی ٹی جبکہ مراد راس کو اسکول ایجوکیشن کی وزارت دی گئی یے۔ میاں محمود الرشید کو لوکل گورنمنٹ، میاں اسلم اقبال کو ہاؤسنگ اینڈ انڈسٹریز، اور علی عباس شاہ کو فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف کا وزیر بنایا گیا ہے۔ ابھی محکمہ آبپاشی، اوقاف، ماحولیات، اعر سپیشل ایجوکیشن سمیت کئی محکموں کے قلمدان کسی کو نہیں دئیے گئے۔
لیکن سیاسی حلقوں میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کے وزیراعلی کا مشیر بننے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور پوچھا جا رہا ہے کہ گورنر کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد انہیں ایک غیر منتخب مشیر بن کر اپنا سیاسی قد گرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
