فوج اور امریکہ سے وفاداری شہباز حکومت کے لیے بھاری

پاکستان کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہا ہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد عمران خان نے نہایت چالاکی سے اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ مخالف بیانیہ اپنایا اور لوگوں کو اپنے ساتھ لگایا لیکن دوسری جانب شہباز شریف کی اتحادی حکومت کو نہ جانے کس نے یہ مشورہ دے ڈالا کہ اس صورت حال میں وہ فوج اور امریکہ کی وفاداری کا تاثر دے، حالانکہ اس سے حکومت کو فائدے کی بجائے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں اسد درانی کہتے ہیں کہ عمران کی بے دخلی اور شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد سابق وزیر اعظم کے لئے بڑھتی ہوئی عوامی حمایت حیران کن تھی کیونکہ وہ لوگ جو عمومی طور پر عمران کے چار سالہ دورِ اقتدار میں ان کی ناقد رہے، یکایک ان کی حمایتی ہو گئے، اسکی وجہ سمجھنے سے اب بھی بہت سے تجزیہ کار قاصر ہیں۔ لیکن یہ تشخیص منطقی نظر آتی ہے کہ ان لوگوں کو عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ اور امریکی استعمار مخالف بیانیے نے لبھایا۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں اسلام آباد میں نئی انتظامیہ کو جتنے بڑے چیلنجز کا سامنا تھا، انہیں تو چاہیے تھا کہ وہ عوامی موڈ کو بھانپتے ہوئے اسی سمت میں چلتی۔ لیکن شہباز شریف حکومت کو نہ جانے کس نے یہ مشورہ دیا کہ ایسے حالات میں عمران خان سے زیادہ فوج اور امریکہ کا وفادار نظر آنا اس کی صحت کے لئے بہتر ہے۔ دوسری طرف آرمی کا تخلیق کردہ عمران خان خود کو دوسرے دو A’s یعنی اللہ اور عوام کا نمائندہ بنا کر پیش کر رہا تھا۔ اندھے کو بھی نظر آ رہا تھا کہ ایسے وقت میں دنیاوی طاقتوں کے مطالبات پورے کرتے ہوئے عوام کے ساتھ ہمدردی دکھانا ناصرف ضروری تھا بلکہ ممکن بھی تھا۔ لیکن شہباز حکومت نے اس کے الٹ کیا۔
اسد درانی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو تو وہ ایک تقریر یاد رکھنا چاہیے تھی جس نے ایک دن میں ان کے بھائی نواز شریف کو ایک مقبول عوامی لیڈر بنا دیا تھا۔ 17 اپریل 1993 کو نواز شریف نے بطور وزیراعظم اپنی تقریر میں اعلان کیا تھا کہ ‘میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا’۔ اس تقریر کے بعد ان کی اقتدار سے چھٹی بھی ہو گئی اور انہیں وقتی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن انہیں آگے چل کر اس موقف کا فائدہ ہوا اور انہوں نے خود کو ایک مزاحمتی سیاست دان کے طور پر منوا لیا۔ اس درانی کے بقول سٹریٹجک گہرائی اور سٹریٹجک مدافعت جیو پالیٹکس میں مستند نظریات سمجھے جاتے ہیں لیکن یہ نظریات غیر مقبول لوگوں سے منسلک ہونے کے باعث عوامی نظر میں معتوب ٹھہرے ہیں۔ حالانکہ ان پر عمل کرنے والوں نے اپنے لئے، اپنے ملک کے لئے بہت سے فوائد حاصل کیے ہیں۔ جرمنی مارشل پلان کی وجہ سے ایک معاشی قوت بن کر نہیں ابھرا بلکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس کے پہلے وزیرِ خزانہ ارہارڈ کی پالیسیوں کے باعث ایک طاقتور معیشت بننے میں کامیاب ہوا جس نے تین قابض ممالک کے احکامات کو نظر انداز کیا۔ اسی طرح پاکستان بھی ایک جوہری طاقت نہ بن پاتا اگر اس کی سولین اور ملٹری لیڈرشپ تاریخ کے ایک انتہائی پیچیدہ موڑ پر دنیا کی جانب سے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کا دباؤ قبول کر لیتی۔
چنانچہ اسد درانی کے خیال میں شہباز شریف کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ تاریخ کے ایک اہم ترین موڑ پر عوام کی نبض کو پڑھنے میں ناکام رہے۔ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے وقت لوگ اسٹیبلشمنٹ کے تسلط سے تنگ اور اپنی قبائلی ذہنیت سے باہر آ چکے تھے۔ ایسے موقع پر یہ تصور کرنا کہ وہ اندھوں کی طرح نئے حکمران کے بیٹے کو پنجاب کا حکمران تسلیم کر لیں گے ناصرف بیوقوفی کی انتہا تھی بلکہ یہ تاریخ کی مخالف سمت میں بہنے کے مترادف تھا۔ اس لیے شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کا پنجاب میں حکمران برقرار رہنا ممکن نہیں تھا۔ اس درانی کے بقول تمام لیڈران عوام کے خیالات میں موجود تلاطم سے ہوشیار رہیں۔ یہ ایک عوامی سیلاب ہے اور اگر اسے سمجھداری سے ہینڈل نہ گیا تو یہ سب کچھ بہا لے جائے گا اور عوام کو ان کے حقیقی منصب پر جا بٹھائے گا۔ مختصر یہ کہ طاقتوروں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف حکمرانوں کے خلاف اگلا عوامی ریلا بھی آیا ہی چاہتا ہے۔
