پاڈا ایف آئی اے افسر بابر قریشی مزید بےلگام ہو گیا

حق اور سچ کا علم بلند کرنے والے آزاد منش صحافیوں کو سبق سکھانے کے لئے ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنانے والے ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کے پاڈے ڈائریکٹر آپریشنز بابر بخت قریشی اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے میں اہم عہدے پر فائز بابر بخت قریشی پر مسلسل اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات لگائے جا رہے تھے جس وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی دو مرتبہ سخت سرزنش بھی کی۔ تاہم اب ایف آئی اے کے سینئر افسران نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے پر بابر بخت قریشی سے باقاعدہ جواب طلبی کی ہے۔ یاد رہے کہ بابر قریشی پنجاب پولیس میں ڈی آئی جی کے عہدے پر فائز ہیں اور بطور ایف آئی اے ڈائریکٹر آپریشنز وہ سنیئر صحافی عامر میر، وی لاگر عمران شفقت اور تنویر حسین سمیت کئی صحافیوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات دائر کر کے انہیں گرفتار کر چکے ہیں جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سرزنش بھی کی۔ بابر قریشی کی غیر قانونی کارروائیوں پر ملک کی صحافی برادری اور وکلا تنظیموں نے بھی بھرپور احتجاج کیا تھا۔
اب باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر بخت قریشی کے خلاف بڑھتی ہوئی شکایات پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ ڈاکٹر احسان صادق نے ان سے غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ دیگر غیر قانونی کارروائیوں کے علاوہ 6 اکتوبر 2021 کو بابر بخت قریشی سے ایف آئی اے کے آٹھ سنیئر اہلکاروں کے غیر قانونی تبادلوں پر وضاحت بھی طلب کی گئی ہے اور ان سے تحریری جواب مانگا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ایف آئی اے کے سینئیر افسران کے تبادلوں کا اختیار صرف ڈی جی ایف آئی اے کے پاس ہوتا ہے جبکہ گریڈ سترہ اور اٹھارہ کے افسران کے تبادلے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کرسکتا ہے، لہذا بابر بخت قریشی نے غلط طور پر اختیارات کا استعمال کرکے دراصل ڈی جی کی اتھارٹی کو چیلینج کیا ہے۔ ڈاکٹر احسان صادق نے بابر بخت قریشی کے غیر قانونی اقدامات پر سرزنش کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر ان سے جواب طلب کیا ہے اور شوکاز نوٹس میں واضح انداز میں لکھا ہے کہ بابر قریشی کے اقدامات چین آف کمانڈ کو توڑنے اور مس کندکٹ کے زمرے میں آتے ہیں لہذا ان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جاسکتی ہے۔
بعد ازاں بابر بخت قریشی کو آٹھ اکتوبر کو دوسرا شوکاز نوٹس جاری کیا گیا جس میں اعلیٰ حکام کی منظوری کے بغیر سب انسپکٹر عظمیٰ اسلم کو معطل کرنے کا جواز مانگا گیا۔ اس نوٹس میں بھی قریشی کو بار بار اختیارات سے تجاوز کی منفی روش پر سخت الفاظ میں باز پرس کی گئی ہے۔ نوٹس میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بابر بخت قریشی نے دو سب انسپکٹرز کو سزا کے طور پر معطل اور ٹرانسفر کیا جو داد رسی کے لئے لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے جس کے بعد عدالت عالیہ نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو طلب کرکے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ بابر قریشی کی وجہ سے عدالت میں سبکی کا سامنا کرنے والے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے شوکاز نوٹس میں لکھا کہ بابر کی جانب سے سزا کے طور پر اہلکاروں کو ٹرانسفر کرنا غیر قانونی فعل ہے، اور بیسویں گریڈ کے افسر کی جانب سے اس رویئے کا اظہار کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر بخت قریشی نے خود پر لگے سنگین الزامات کا جواب دینے کی بجائے 15 اکتوبر کو ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی کو لکھے گئے خط میں الٹا ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے احسان صادق پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ قریشی نے اپنے خط میں یہ موقف اپنایا کہ ایڈیشنل ڈی جی ملزمان کو ریلیف دلوانے کے لئے بعض کیسز کی انکوائری کے حوالے سے مجھے دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔ قریشی نے دعویٰ کیا کہ ایڈیشنل ڈی جی نے چیف جسٹس پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے والے ملزم مسعود الرحمن کو بچانے کی غرض سے ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران حیدر کو ٹرانسفر کروا دیا۔ قریشی کے مطابق ایڈیشنل ڈی جی کے اس اقدام سے کئی اراکین اسمبلی کے خلاف کارروائی متاثر ہوئی کیونکہ ملزم مسعود الرحمن اور پیپلز پارٹی کے بعض اراکین اسمبلی چیف جسٹس گلزار احمد کو مطعون کرنے میں ملوث پائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ بابر قریشی کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں اعلیٰ عدلیہ اور ججوں کو گھسیٹ لیتے ہیں تاکہ خود کو بچا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارہ جاتی تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ بابر قریشی نے خود کو بچانے کے لیے ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں اس لئے توقع کی جا رہی ہے کہ بابر قریشی کو ایڈیشنل ڈی جی پر الزامات کی بنیاد پر ایک اور شوکاز نوٹس جلد جاری کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی بابر بخت قریشی پر مختلف الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ ایک غریب شہری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو ایک تحریری درخواست میں ظالم سیاسی افسر قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ متاثرہ شہری کا الزام ہے کہ بابر بخت قریشی اپنے والد سابق ن لیگی ایم پی انیس قریشی اور ن لیگ کی سابق قیادت کی آشیرباد کی بنا پر عرصہ دراز سے لاہور میں تعینات ہے اور اس کی دومرتبہ لاہور سے باہر کچھ عرصے کے لیے تعیناتی ہوئی۔ شہری نے اپنی درخواست میں یاد دلوایا کہ بابر بخت قریشی پر الزام ہے کہ جب لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تو ایس پی مجاہد کی حیثیت سے موصوف ڈیوٹی سے غائب پائے گئے تھے جس کے بعد اس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بابر بخت قریشی نے صاحب حیثیت افراد کو نہ صرف ایف آئی اے کیسز سے بچایا بلکہ زمینوں پر قبضے کروانے میں بھی ان کا ساتھ دیا۔
یاد رہے کہ بابر بخت قریشی ازاد منش صحافیوں کے بھی کھلے دشمن ثابت ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں پیکا ایکٹ کے تحت جتنے بھی صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے نے جھوٹے مقدمات دائر کیے وہ سب بابر بخت قریشی کی کارستانیاں ہیں اسی لیے وہ کسی ایک بھی کیس میں کسی بھی صحافی کو سزا دلوانے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ جب اگست 2022 میں بابر قریشی نے سینئر صحافیوں عامر میر عمران شوکت کو ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان صحافیوں کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بابر قریشی کے خلاف کئی اور سینئر صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کے الزامات پر مبنی کیس اب بھی زیر سماعت ہے اور چیف جسٹس س اطہر من اللہ دی جی ایف آئی اے کو بابر قریشی کے خلاف سخت کارروائی کا حکم جاری کر چکے ہیں۔
