ڈی جی ISI کے انٹرویوز سیاسی بھرتی کا راستہ ہے


معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا مسئلہ تین ہفتے لٹکانے سے نہ صرف ان کے فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات کا نقصان ہوا بلکہ اسکا لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو بھی نقصان ہوا لہذا وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس عمل سے فائدہ کسے ہوا؟ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے فوجی جرنیلوں کے انٹرویوز کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کرنا فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کے مترادف ہے اور آئندہ اس طریقہ کار سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے آخر کار نئے ڈی جی آئی ایس آئی کو تعینات کر دیا۔ اعلان اسی نام کا ہوا جس کی پریس ریلیز فوج کی طرف سے باضابطہ طور پر 6 اکتوبر کو جاری کر دی گئی تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ہی نیا ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیا گیا۔
ہاں صرف فرق ایک ہے، پہلے توقع یہ تھی کی نئے ڈی جی آئی ایس آئی 24 اکتوبر تک اپنے نئی ذمہ داری سنبھال لیں گے لیکن وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ موجودہ ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید 19نومبر تک اپنے عہدے پر قائم رہیں گے اور نئے ڈی جی 20 نومبر سے اپنا کام شروع کر دیں گے۔ 
انصار عباسی کہتے ہیں کہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس سارے معاملے سے وزیراعظم عمران خان کو کیا فائدہ ملا؟ میری دانست میں تو وزیراعظم کا، پہلے اِس معاملے کو ایک تنازع بنانے اور پھر چند ہفتوں تک لٹکانے سے، اپنا سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ خان صاحب کے فوج سے تعلقات متاثر ہوئے اور دونوں اطراف پہلے جیسا اعتماد نہیں رہا۔ اس کے بعد اگر اس سارے معاملے سے کوئی زیادہ متاثر ہوا تو وہ جنرل فیض حمید ہیں جنہیں وزیراعظم چند ماہ مزید اسی پوزیشن پر رکھنا چاہتے تھے اور اس کے لیے اُنہی کی پارٹی کی طرف سے یہ بات میڈیا کو بھی بتائی گئی جس پر اپوزیشن کی طرف سے بھی شور مچایا گیا۔ 
بقول انصار عباسی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم بلاوجہ اس تنازع کی وجہ سے خبروں کا حصہ بنے رہے جبکہ میری ذاتی رائے میں اس معاملے سے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی متاثر ہوئے ہیں اور اُنہیں وزیراعظم کی طرف سے ایک ایسی شرط کو پورا کرنا پڑا جو ایک نئی مثال ہے جسے میں Bad Precedent یعنی بُری مثال کے طور پر لیتا ہوں۔  انکانکینا یے کہ وزیراعظم آفس کی طرف سے تین ہفتوں کے انتظار کے بعد جو اعلان کیا گیا اُس کے مطابق وزیراعظم نے ڈی جی آئی ایس آئی کےلیے پینل میں شامل تمام افسروں کا انٹرویو کرکے جنرل ندیم انجم کے حق میں فیصلہ کیا۔ فوج کی تاریخ میں پہلے کبھی ڈی جی آئی ایس آئی کی پوزیشن کےلیے نہ تو پینل میں شامل افسروں کی لسٹ وزیراعظم کو بھیجی گئی اور نہ ہی وزیراعظم نے امیدواران کے انٹرویو کیے۔  تاہم اس مرتبہ انٹرویوز کیے جانے کا اعلان باضابطہ طور پر وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کیا گیا جو ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے اعلان کے بعد جاری ہوئی اور جس میں اس حوالے سے تفصیلات بتائی گئی تھیں۔ ماضی میں یہ معاملہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات میں بغیر کسی سمری، پینل وغیرہ کے ایسے طریقہ سے حل ہو جاتا تھا کہ متعلقہ وزارتوں کو نہ سمریاں بنانا پڑتی تھیں اور نہ ہی پینلز بنتے تھے اور انٹرویز کا تو کبھی سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔
انصار عباسی کہتے ہیں اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے دو افسروں عاصم منیر اور فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا اور دونوں بار وہی پرانا طریقہ استعمال ہوا۔ نہ کوئی سمری بھیجی گئی، نہ پینل بنا نہ اور نہ ہی انٹرویوز ہوئے۔ اس بار نجانے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ 
انکا کہنا ہے کہ مجھے عمران خان کی جانب سے جرنیلوں کے انٹرویوز پر شدید اعتراض ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ سلسلہ چل نکلا اور اس Bad Precedent کو آئندہ آنے والے وزراء اعظم بھی فالو کرتے رہے تو اس سے فوج کے سیاست زدہ ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ فوج کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اُن کے افسروں کے انتظامی معاملات یعنی تعیناتیاں، ٹرانسفر پوسٹنگ، ٹریننگ وغیرہ میں کسی بیرونی اور اندرونی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ اگر ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی وزیراعظم کے پینل میں شامل افسروں کے انٹرویوز کی بنیاد پر ہوگی تو اس سے یہ خطرہ پیدا ہو گا کہ امیدواران میں سے کوئی بھی وزیراعظم کو اپنی تعیناتی کےلیے سفارش کروا سکتا ہے یا وزیراعظم امیدواران میں سے اُس کا چناو کر سکتا ہے جو اُسے اپنے پولیٹیکل ایجنڈے کی تکمیل کےلیے مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سیاست میں مداخلت بند ہو۔  انٹرویوز کا معاملہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ فوج کے افسروں کے متعلق اندرونی انتظامی معاملات (Personnel Management Issues) میں بیرونی مداخلت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا جو فوج اور آئی ایس آئی جیسے اہم ترین اداروںکےلیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمارے ملک کی سول سروس کی بربادی کی وجہ یہی بیرونی مداخلت ہی ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ کجا یہ کہ ہم اپنی سول سروس کو سیاست اور بیرونی مداخلت سے پاک کریں، ہم نے فوج اور آئی ایس آئی کو اس نئے طریقہ کار یعنی Bad Precedent کے ذریعے سے ایک نئے خطرے سے دوچار کر دیا۔ انصار عباسی نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی اور کوئی دوسرا وزیراعظم پینل اور انٹرویوز کی ضد نہیں کرے گا اور نہ ہی فوج ایسا موقع دوبارہ آنے دے گی۔

Back to top button