پاکستانیوں کی خفیہ گمشدگی کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہوتا؟


پاکستان میں خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لوگوں کے لاپتہ ہونے کا لامتناہی سلسلہ ایک تسلسل سے جاری ہے. اب ایک تازہ ترین واقعے میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبۂ فکرِ اسلامی، تاریخ و ثقافت کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری گمشدہ کر دئیے گئے ہیں اور ان کے گھر والوں کا الزام ہے کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں نے اٹھایا ہے۔ وہ جون کے پہلے ہفتے میں جمعے کی شام گھر سے مارکیٹ کےلیے نکلے اور اب تک نہیں واپس نہیں آئے۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پہلے ان کے بھائی کو اغوا کیا گیا تھا اور اب ریاستی اداروں نے انہیں بھی اٹھا لیا ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری اسلام آباد کی معروف علمی شخصیت ہیں اور دینی علوم و فکر کے ساتھ ساتھ اردو ادب و شعر سے بھی گہرا شغف رکھتے ہیں۔ وہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ادبی محفلوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے ہیں۔
طاہر اسلام کے وکیل حیدر شاہ ایڈووکیٹ نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ریاستی اداروں نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طاہر اسلام کے بھائی طیب اسلام کو بھی گزشتہ مئی میں پنجاب کی انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نے اٹھا لیا تھا اور 11 روز تحویل میں رکھنے کے بعد بغیر فردِ جرم عائد کیے رہا کر دیا۔ حیدر شاہ نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ تھانے سے رجوع کیا تھا مگر دس دن گزرنے کے بعد تھانے نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
ڈاکٹر طاہر اسلام کے بھائی طیب اسلام کا کہنا ہے کہ ان کے بڑے بھائی جمعہ پانچ جون کی شام ساڑھے سات بجے کے قریب اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین فور میں واقع اپنے گھر سے قریبی مارکیٹ تک گئے تھے لیکن جب رات گئے تک واپس نہیں آئے اور ان کا فون بھی بند ملا تو ان کی اہلیہ نے اپنے رشتے داروں کو بتایا۔ طیب اسلام نے بتایا کہ ایک خفیہ ادارے کے لوگ انکو بھی اغوا کرنے کے بعد کئی روز تک ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا اصل مقصد کیا تھا۔ طیب اسلام نے مزید کہا کہ دورانِ حراست ان سے بڑے بھائی طاہر اسلام کے بارے میں پوچھا جاتا رہا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے رہائی کے بعد بھائی کو خبردار کر دیا تھا۔
اسلام آباد کے ادیبوں نے طاہر اسلام کی حراست کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ معروف شاعر اور نقاد اختر عثمان نے کہا کہ طاہر اسلام ان کے گھر کے قریب ہی رہتے ہیں اور ان سے تقریباً روزانہ ملاقات ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘طاہر اسلام قدآور علمی شخصیت ہیں اور فرقہ واریت، تعصب اور انتہاپسندی انہیں چھو کر بھی نہیں گزری۔ ان جیسے انسان کو یوں دن دہاڑے اٹھا لیا جانا افسوس کا مقام ہے۔’
نقاد اور دانشور صلاح الدین درویش نے کہا کہ ’ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری عام مذہبی شخصیات سے بالکل مختلف ہیں اور میں نے ذاتی حیثیت میں انہیں آج تک کبھی کسی بھی نوعیت کی مذہبی تنظیم سے وابستہ نہیں دیکھا۔ وہ معتبر عالم اور انسان دوست شخصیت کے حامل ہیں اور بین المسالک ہم آہنگی اور صلح کُل کے اس قدر حامی ہیں کہ انہیں سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا اپنے ہی ہم مسلک احباب سے رہتا ہے۔‘
ڈاکٹر درویش نے کہا کہ ’اسلام آباد کے تمام اہل قلم طاہر اسلام کے ادب سے لگاؤ اور وابستگی کے گواہ ہیں۔’ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر طاہر اسلام نے کوئی قانون توڑا ہے تو ان کے خلاف ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں قانونی دفاع کا پورا پورا موقع بھی فراہم کیا جائے، لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو انہیں فوری طور پر رہا کر دیا جائے تاکہ ان کے گھر والوں اور اسلام آباد کے علمی اور ادبی حلقوں کی تشویش و پریشانی ختم ہو سکے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button