پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو کونسا نیا ٹاسک ملنے والا ہے؟

نئے پاکستان میں ایک غیر جمہوری ہائبرڈ حکومت کا قیام اور عالمی طاقتوں کا افغانستان سے انخلاء اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں اب کوئی ایسی نوکری ملنے والی ہے جس کو ملک کی جمہوری قوتیں گوارا نہیں کر سکتیں۔ آنے والے دنوں میں ہونے والے فیصلوں کے لیئے ایک دفعہ پھر جناح کا پاکستان مفاد پرست، خود غرض، ہوس پرست ڈکٹیٹروں کی زد میں آتا ہوا لگتا ہے جو اپنے وطن اور ہم وطنوں کے مفادات پر سمجھوتہ کر کے اطاعت کا بھرپور ثبوت دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ابھی ہم نہیں جانتے کہ اس مرتبہ ہم سے کیا کام لیا جائے گا یا ہماری کیا ڈیوٹی لگے گی اور ہمیں کس کے خلاف صف آراء ہونا پڑے گا۔ لیکن اتنا کہا جا سکتا ہے کہ ایک بار پھر ہمیں ایسے سخت فیصلے درپیش ہوں گے جن کی تاب کوئی عوام کے ووٹ سے منتخب حکومت نہیں لا سکتی۔ اس لیئے پاکستان میں جمہوریت کی بساط عالمی منصوبہ ساز پہلے ہی لپیٹ چکے ہیں اور حالات یہ بتاتے ہیں کہ ایک بار پھر کسی کو کسی کا امتحاں مقصود ہے؟
سینئر صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود اپنی تازہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال ابھی کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی، عالمی مبصرین بھی انگشت بدنداں ہیں کہ’ یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا۔ وہ طالبان جن کی عددی قوت امریکہ کی تربیت یافتہ افغان فوج سے بہت کم تھی، اس وقت سارے افغانستان پر قابض ہو چکے ہیں، اس دوران نہ کسی افغان فوج نے مزاحمت کی، نہ کسی شہری نے روکنے کی جرات کی، یعنی تمام طالبان مخالف اچانک سے اڑن چھو ہو گئے، چنانچہ معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے صدر اشرف غنی پہلی فرصت میں افغانستان سے پرواز کر گئے۔عمار کہتے ہیں کہ طالبان کے اپنے روئیے میں بھی ڈرامائی تبدیلی آ گئی، نہ عورتوں کو کوڑے مارے گئے، نہ سرعام سر اڑائے گئے، نہ لڑکیوں کے سکول پر بم دھماکے ہوئے، نہ بڑے پیمانے پر لوٹ مار ہوئی؛اور مسلسل جنگ کے داعی نہائت امن و امان سے پورے ملک پر قابض ہو گئے۔ بقول قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف، پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ اس پر کوئی الزام نہیں آیا۔ عمار کہتے ہیں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا اس جملہ تحسین کو سننے کے لیے ہم نے ستر ہزار جوانوں کے خون سے اپنی دھرتی کو لہو رنگ کیا؟ اپنے بچوں کو سکولوں میں ذبح کروایا، اپنی مسجدوں سے خون میں لتھڑی لاشیں اٹھائیں، بس خود کو ایک الزام سے بچانے کی خاطر ۔ بس اتنی سی قیمت ہے ستر ہزاروں جوانون کی لاشوں کی!
عمار کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے پاکستان کا کردار دنیا کے طاقت ور قوتوں کے ہاتھ میں ایک کھلونے کا سا رہا ہے، ایک ایسا کھلونا جس کو جب چاہا توڑ دیا، جب چاہا گلے سے لگا لیا، جب چاہا اس کا چہرہ نوچ لیا اور جب چاہا اس میں نئی بیٹری ڈال کر اشاروں پر نچا لیا۔ المیہ یہ ہے پاکستان کو عالمی منصوبہ سازوں کی بساط پر جب بھی استعمال کیا گیا، اس کے لیے پاکستان میں غیرجمہوری قوتوں پر ہی بھروسہ کیا گیا۔ عمار اپنے اس استدلال کے حق میں تین مثالیں دیتے ہیں جس سے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال اور پاکستان کے مستقبل کا منظر نامہ واضح ہو سکے گا۔ پہلی مثال 1977 کی ہے جب بھٹو کی حکومت ختم کر دی گئی، اپوزیشن کے احتجاج کو خوب کوریج ملی، ملک بھر میں ہنگامے ہوئے۔ ایک خود ساختہ امیر المومنین جنرل ضیا نے عوام کی منتخب حکومت کو ٹھکانے لگا دیا اور آئین کو پامال کرکے مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اس وقت ابن الوقت پاکستانی میڈیا نے یہ بتایا کہ بھٹو قاتل تھا، فاسق تھا، ظالم تھا اس لیے اپنے انجام کو پہنچا۔ مارشل لاء کے نفاذ پر مٹھائیاں بٹنے کی تصویر بھی اخباروں کے سرورق پر چھپی تھی۔ ملک میں کچھ لوگ بھٹو کو کوستے رہے، کچھ بھٹو کی یاد میں خود سوزی کرتے رہے؛ آخر کار بھٹو کو پھانسی دے دی گئی اور ملک سے جمہوریت کا ایک باب ختم ہوا۔
عمار کہتے ہیں کہ پاکستانی ابھی اسی صورت حال کو رو رہے تھے کہ افغانستان میں روس نے پیش قدمی کر دی۔ خودساختہ امیر المومنین نے امریکی ڈالروں پر جہاد میں پوری قوم کو جھونک دینے کا فیصلہ کیا۔ اگر تب پاکستان میں کوئی جمہوری حکومت ہوتی تو کبھی بھی اس ضرر رساں مہم میں شریک نہیں ہوتی۔ گیارہ سال تک ہم نے خود کو اس جہاد میں برباد کیا؛ اپنا سماج، اپنی ثقافت، معیشت سب کچھ امریکی ایماء پر بھاڑ میں جھونک دیا۔ تب میں اس نقصان عظیم کی شدت کا علم نہ ہو سکا اس لیے کہ تب کا میڈیا ہمیں جہاد کے فضائل بتا رہا تھا اور پیٹیوں میں بھرے امریکی ڈالروں کی خبر چھپا رہا تھا۔ اس واقعے کے بیس سال بعد ہمیں سمجھ میں آیا کہ اگر افغانستان میں روسی حملے کے وقت پاکستان میں ایک جمہوری حکومت ہوتی تو نہ وہ امریکہ کا ساتھ دیتی، نہ عالمی بساط پر ایک مہرہ بنتی، اس لیے اس واقعے سے دو سال پہلے ہی بھٹو کا پتا کاٹ دیا گیا تھا ۔ غیر جمہوری طاقتوں کا تسلط ہی اس طرح کے مجرمانہ فیصلے کروا سکتا ہے۔
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ بات ابھی ختم نہیں ہوئی، ابھی سنتے جائیے: 1999 میں جنرل مشرف نے ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا، نواز شریف کو پہلے قید کیا پھر دس سال کے لیے جلاوطن کر دیا۔ ابن الوقت میڈیا نے ہمیں بتایا کی بات کرپشن کی تھی، مشرف ایک مطلق العنان حکمران بن کر ہم پر مسلط ہو گیا، لمحوں میں پی ٹی وی فتح ہوا، چند گھنٹوں میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی۔ مشرف کے اقتدار میں آتے ہی زر خرید میڈیا نے ہمیں بتایا کہ ملک کی معشیت کا برا حال تھا، کرپشن گھن کی طرح قومی خزانے کو چاٹ رہی تھی، لوگ غربت کے مارے خود کشی کر رہے تھے۔ جنرل مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی ملکی حالات نہ بدلے لیکن دو سال بعد نائین الیون کا سانحہ ہو گیا، ہمیں ایک بار پھر ڈالروں کی امید پیدا ہونے لگی۔ امریکہ سے ہمیں ایک کال پر اپنے ہی لوگوں پر جنگ مسلط کرنے کا حکم ملا۔ تب پاکستان میں اگر کوئی جمہوری حکمران ہوتا تو مشرف کی طرح ایک فون کال پر سرنگوں نہ ہو جاتا۔ لیکن عالمی طاقتیں اس اہم موقع کے لیے پہلے سے ہی پاکستان میں جمہوریت کے خاتمے کا بندوبست کر چکی تھیں۔ جنرل مشرف نے اپنی نوکری بچانے کے لیے قبول و ایجاب کیا، وار آن ٹیرر کا اپنے ملک میں آغاز ہوا، اپنے ہی تربیت یافتہ لوگوں کو ہم نے ڈالروں کے بدلے امریکہ کے ہاتھ فروخت کرنے کا جرم کیا، اپنے ہی لوگوں پر بمباری کی ، اپنے ہی لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا لیکن ٹھہریے! یہ سب ہمیں اس وقت نہیں معلوم تھا بلکہ اس کا علم ہمیں دہائیوں کے بعد ہوا کہ پاکستان کس طرح عالمی طاقتوں کے کھیل میں ایک بار پھر کھلونا بنا، کس طرح غیر جمہوری قوتوں کو وقت سے پہلے ملک مِیں انسٹال کیا گیا، کن مقاصد کے تحت یہاں جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی۔
عمار مسعود کہتے ہیں اب تیسری مثال سنیے: 2018ء میں نواز شریف حکومت کو دھاندلی کے ذریعے ختم کیا گیا، یہ سب کچھ کھلے عام کیا گیا، اس دفعہ مارشل لاء تو نہیں لگا لیکن ایک ہائی برڈ نظام ِحکومت ضرور تخلیق کیا گیا جس کا حکومت کی کارکردگی سے، معشیت سے ، خارجہ پالسی اور قومی سلامتی سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں۔ اس حکومت کو صرف شجر کاری کے لیئے رکھا گیا ہے۔ اہم فیصلوں کی آبیاری اب بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں۔ اب اسے اتفاق کہیں یا شومئی قسمت کہ اچانک امریکہ نے افغانستان سے رخصت کا فیصلہ کر لیا، آگے کیا ہو گا؟ یہ ہمیں معلوم نہیں لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ ایسے موقعوں پر ہمیشہ پاکستان امریکی حکومت کے آگے آداب بجا لاتا ہے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہ خدمات کیا ہوں گی؟ کیا ہم عالمی طاقتوں کی ایک نئی جنگ میں پھر روندے جائیں گے؟ یہ ہمیں ابھی معلوم نہیں ہو گا، اس زرخرید میڈیا کے دور میں یہ خبر ہم تک بیس سال بعد پہنچے گی کہ اس وقت ہم نے کیا کھویا، کیا پایا، کیا بیچا، کیا خریدا؟ کس بات پر سمجھوتا کیا اور کس بات پر قومی سلامتی کا پرچم سرنگوں کیا۔ یہ ہمیں ابھی معلوم نہیں ہو گا، دہائیوں کے بعد جب ہمیں آج کی بین الاقوامی سازشوں کے بارے میں علم ہو گا تب تک پلوں تلے بہت سا پانی بہہ چکا ہو گا۔ فی الوقت اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ پاکستان میں ایک ہائبرڈ کپتان حکومت کا قیام اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلاء اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں کوئی ایسی نئی نوکری ملنے والی ہے جس کو ملک کی جمہوری قوتیں گوارا نہیں کر سکتیں۔ لہازا آنے والے دنوں میں ہونے والے فیصوں کے لیئے ایک بار پھر ملک مفاد پرست، خود غرض، ہوس پرست ڈکٹیٹروں کی زد میں ہے جو اپنے وطن اور ہم وطنوں پر سمجھوتہ کر کے اطاعت کا بھرپور ثبوت دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ہمارے حالات یہی بتاتے ہیں کہ اخک بار پھر کسی کو کسی کا امتحاں مقصود ہے؟
