پاکستانی معیشت کی مکمل تباہی بھارت اور عمران خان کی دیرینہ خواہش ؟

تحریک انصاف کا پاکستان اور پاکستانیت سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں،ان کی ہر حرکت ملک کو تباہی کے دہانے کے قریب لے جاتی ہے۔ پاکستان کی معیشت کی مکمل تباہی بھارت اور عمران خان کی دیرینہ خواہش ہے جس کا اظہار دونوں اطراف سے گاہے بگاہے ہوتا رہتا ھے  گزشتہ دنوں   تحریک انصاف کے چند کارکنوں نے IMF ہیڈکوارٹرز کے سامنے پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔جس کی ذمہ داری عمران خان نے اڈیالہ جیل میں اخبارنویسوں کے سامنے قبول کی اور کہا کہ یہ مظاہرہ ہر طرح سے درست تھا کیونکہ IMFسے قرض لینے کے لئے ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے جبکہ پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی شکیل انجم نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس بار تو عمران خان نے پاکستان دشمنی میں بھارت کوبھی پیچھے چھوڑ دیا۔ عام تاثر ہے کہ تحریک انصاف آئین کی تکریم اور قانون کی بالادستی پر یقین نہیں رکھتی، اس حوالے سے صرف اقتدار اور انتشار کے لئے دنیا میں پاکستان کو بے توقیر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا عمران خان کے دور اقتدار میں IMF سے بے تحاشہ قرضہ لیا گیا  جو پاکستان کی تاریخ میں IMF یا دوسری ڈونر ایجنسیوں سے گزشتہ 75 برسوں میں لئے گئے کل قرض کا 80 فیصد تھا ۔ مگر اس بات کا علم نہیں ہوسکا کہ اتنی بڑی رقم کہاں خرچ کی گئی۔کیا قرض کی رقم کے زیاں کو عمران خان یا ان کے قریبی ساتھیوں کی کرپشن کی نذر قرار نہیں دیا جاسکتا؟ابھی تو وہ کھاتے بھی کھلنے ہیں کہ یہ رقم کس کس کے حصے آئی۔ایک طرف حکومت IMF سے 8ارب ڈالر قرضہ حاصل کرنے کے لئے ڈونر ایجنسی کی جانب سے عائد کی گئی شرائط پوری کرنے کی کوشش میں  ہے اور دوسری طرف عمران خان ملکی معیشت کے نیچے بارودی سرنگیں بچھانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ شکیل انجم کہتے ہیں کہ عمران اور ان کی جماعت کی ہر حرکت ملک کو تباہی کے دہانے کے قریب لے جاتی ہے ،لیکن تحریک انصاف میں ایک مضبوط گروپ عمران خان کی تخریبی سیاست سےگریزاں اور اختلاف کرتا دکھائی دیتا ہے جو مستقبل قریب میں پارٹی میں انتشار کا  کا ابتدائی اشارہ  ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی میں انتشار پیدا کرنے کی ذمہ داری کسی اور پر عائد نہیں کی جاسکتی بلکہ اس کے ذمہ دار خود عمران خان ہیں جو بعض پراسرار وجوہات کی بنیاد پر پارٹی کو متحد رکھنے کے حق میں نہیں۔تحریک انصاف کی سنی اتحاد کونسل یا مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کا تنازع بھی ا ڈیالہ جیل سے اٹھایا گیا جب عمران خان نے مسلک کی  بنیادپر مجلس وحدت المسلمین سے اتحاد کرنے پر اختلاف اور سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کو محفوظ قرار دے کرایسا  کرنے کی ہدایت کی تھی۔ گزشتہ دنوں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں  فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم کے خلاف پیش کردہ قرارداد مسترد کر کے اور اس کے  خلاف ووٹ دے کر یہ ثابت کیا کہ عمران خان اسرائیل اور بھارت سمیت پاکستان دشمنوں کے ایجنڈے پر کام کر رھے ہیں ۔ وہ پاکستان کی معیشت اور دفاع کو نقصان پہنچانے کے مشن پر ہیں اور ہر روز کوئی ایسا اینٹی پاکستان بیانیہ پیش کرتے ہیں جس سے ان کے خلاف پاکستان دشمنی کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔

شکیل انجم کا کہنا ھے کہ عمران خان کی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ تاثر بھی قبولیت کا باعث بن رہا ہے کہ یہ پی ٹی آئی ہر نازک مرحلے پر دہشتگردی اور دہشتگردوں کی کھلے عام اور سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کی مخالفت کی تحریک چلا کر پاکستان دشمن قوتوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ عسکری ادارہ دفاع وطن کے قابل نہیں رہا۔لسبیلہ کے حادثہ میں جام شہادت نوش کرنے والوں اور اب میر علی میں دہشت گردی کے واقعہ میں اپنی دھرتی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے خلاف عالمی سطح پر سوشل میڈیا پر شرمناک مہم چلانے کا مقصد کیا تھا؟ یہ زہریلی مہم کس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے چلائی گئی؟پی-ٹی-آئی نے ملک کی پارلیمانی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ کر دیا جب ان کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی نے اجلاس کے دوران ایوان میں انتہائی باغیانہ انداز میں سگریٹ نوشی کی اور

اسپیکر کی جانب سے اعتراض کے باوجود وہ ایوان میں سگریٹ کا دھواں اڑاتے رہے۔ پارلیمنٹیرینز کا خیال ہے کہ اس واقعہ کا سنجیدگی سے سدباب ہونا چاہئے اور پارلیمنٹ کا تقدس قائم رکھنے کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے ورنہ آئندہ اسمبلی میں سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ جام بھی نظر آ سکتے ہیں۔

Back to top button