پاکستان کے ہر وزیر اعظم کو جیل کی ھوا کیوں کھانا پڑتی ہے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ھے کہ پاکستان کے پاپولر سیاسی رہنمائوں سے ہمارا سلوک بہت ہی برا رہا ہے۔ بھٹو پاپولر لیڈر تھے انہیں فوج اور عدلیہ نے ملکر پھانسی چڑھا دیا، بے نظیر بھٹو کو سرعام قتل کردیا گیا اور ریاست کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس مقبول لیڈر کی مناسب حفاظت کر سکے۔ نواز شریف، آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور اب عمران خان سب کو جیلوں میں بند رکھا گیا۔ بھارت میں ہر سابق وزیراعظم کو پروٹوکول اور سکیورٹی ملتی ہے، دارالحکومت کے ریڈ زون میں گھر ملتاہے اور پاکستان میں ہر وزیر اعظم کو جیل کی ہوا ضرور کھانی پڑتی ھے جس قوم کے پاپولر لیڈر جیلوں میں ڈالے جائیں وہ قوم کیسے ترقی کرے گی؟ اپنے ایک کالم میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ہم پاکستانیوں نے ساری دنیا کو اپنا دشمن سمجھ رکھا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ مغرب کو دنیا میں کوئی کام نہیں سوائے اسکے کہ وہ پاکستان کیخلاف سازشیں تیار کرتا رہے۔ امریکی صدر بل کلنٹن اور باراک اوباما دونوں پاکستان سے محبت رکھتے تھے، کلنٹن نے جنوبی ایشیا کے دورے کے دوران پاکستانیوں کو اپنی نشری تقریر میں مشورہ دیا تھا کہ مذہبی انتہاپسندی سے آپ کو نقصان ہوگا، ہم نے اس مشورے کوبھی سازش سمجھا، اسے بھارتی اور صیہونی پراپیگنڈے سے متاثر قرار دیا، لیکن کلنٹن کی ایک ایک بات سچ ثابت ہوئی۔ اسی انتہا پسندی کے اژدھے نے جب ہمیں زیر کرنا شروع کیا، ہزاروں پاکستانی اس لڑائی میں شہید ہوئے تب جا کر ہمیں ان سے جنگ کرنا پڑی جو آج تک جاری ہے، کیا ہمیں یہ غلطی تسلیم نہیں کرنی چاہئے کہ کلنٹن درست تھا اور ہم اور ہماری ریاست غلط تھی۔ صدر اوباما بھی ہمیں یہی سمجھاتے رہے کہ طالبان کی مدد نہ کرو مگر ہم اڑے رہے اب انہی طالبان سے نمٹنا ہمارے لئے مشکل ہو رہا ہے گویا اوباما درست تھا اور ہم غلط تھے مگر ہم اور ہماری ریاست غلطی مان کراسے ٹھیک کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کا معاملہ لے لیں ہم نے مشرقی پاکستان کی اکثریت کو ظلم، محرومیوں اور حقارت سے ہم کنار رکھا، مغربی پاکستانیوں کی اکثریت نے فوجی ایکشن اور وہاں قتل عام کی حمایت کی۔ آج بھی اگر کوئی اس غلطی کی نشاندہی کرے تو اسے غدار قرار دیدیا جاتا ہے ہمارے ذہنوں کی یہی غلطی ہماری اصلاح کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ مارشل لائوں کے نفاذ پر مٹھائیاں بھی ہم ہی بانٹتے رہے ہیں۔ ایوب خان آیا تو ہر کسی نے اسے مسیحا قرار دیا۔ یحییٰ خان کو مرد مومن تک کے خطاب دیئے گئے۔ جنرل ضیاءالحق تو خلیفہ کے درجے تک پہنچ گئے۔ جنرل مشرف روشن خیالی اور کرپٹ سیاستدانوں کا قلع قمع کرنے کا استعارہ بن گئے۔ کیا مارشل لائوں کی حمایت کرنا بہت بڑی غلطی نہیں تھی۔ وہ جج، سیاستدان اور بیوروکریٹ جو ان آمروں کا ساتھ دیتے رہے کیا انہوں نے اپنی ان پہاڑ ایسی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے۔ کیا کبھی قوم سے معافی مانگی ہے؟ عمر ایوب، اعجاز الحق، اسد عمر اور محمد زبیر بڑے فخر سے سیاست کرتے ہیں حالانکہ انکے والدوں نے اسی سیاست پر بلڈوزر چلایا تھا، کیا انہیں اہل وطن اور اہل سیاست سے اپنے بڑوں کے کئے کی معافی نہیں مانگنی چاہئے؟۔ ہم نے آج تک کسی منتخب وزیر اعظم کو اپنی مدت مکمل نہیں کرنے دی کبھی مقتدرہ، کبھی عدلیہ اور کبھی دوسرے سیاستدان، کسی حکومت کو اپنے اہداف مکمل ہی نہیں کرنے دیتے، یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ بھارت میں جمہوری عمل جاری رہا، اسی وجہ سے وہاں جمہوریت بھی ہے اور معاشی استحکام بھی۔ ہم جلد باز ہیں صبر نہیں کرتے، ہر لیڈر سے جلدی تنگ آ جاتے ہیں، اسکے خلاف ہو جاتے ہیں اور یوں کوئی بھی اپنا سیاسی ایجنڈا مکمل نہیں کر پاتا۔ اس غلطی کا مداوا یہی ہے کہ ہر منتخب حکومت کو چاہے وہ ہمیں ناپسند ہی کیوں نہ ہو، اپنی مدت مکمل کرنی چاہئے ۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ججوں، جرنیلوں، سیاستدانوں اور عوام کے ساتھ ساتھ صحافی بھی غلطیوں میں شریک جرم رہے ہیں۔ ان میں سے ہی ایک نے غلام محمد کو محافظ ملت اور مرد مومن کا خطاب دیا، ان صحافیوں میں سے ہی ایک نے سکندر مرزا سے ساز باز کرکے مسلم لیگ کی حکومت تڑوائی تھی، کئی ایک نے ایوب خان کو خوش آمدید کہا تھا، کئی صحافی جنرل ضیاء کو مرد مومن کہتے رہے، کئی جنرل مشرف کو لبرلزم کا اوتار ٹھہراتے رہے اور جمہوریت کی خامیاں اور آمریت کی خوبیاں گنواتے رہے، کئی بزرگ صحافی بھٹو کی پھانسی کے جرم میں شریک تھے اور ہمارے ہی کئی صحافی بے نظیربھٹو کے قتل کا الزام طالبان کی بجائے اوروں پر لگاتے رہے کہ طالبان کو معصوم ثابت کرسکیں۔ صحافیوں کو بھی بحیثیت مجموعی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اب طے کرنا چاہیے کہ ہم ہمیشہ جمہوریت، میڈیا کی آزادی، انسانی حقو ق اور آئین کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنے ذہنی خلجان سے نکل کر اپنی غلطیوں کوتسلیم کرنا چاہئے، ماضی کی غلطیوں کو مانیں گے تو مستقبل کی اصلاح کرسکیں گے۔ ہم میں سے کوئی بھی پاک صاف نہیں، سب نے غلطیاں کی ہیں کسی نے کم اور کسی نے زیادہ۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم سازشی کہانیاں اور ایک دوسرے پر الزامات کی بجائے اپنی غلطیاں مانیں اور پھر اصلاح کی طرف چلیں۔
