پاکستانی ویمن کرکٹ ٹیم کی ’’لیڈٰی بوم بوم‘‘ کون ہیں؟

قومی کرکٹ ٹیم کی طرح ویمن کرکٹ ٹیم میں بھی لیڈٰی بوم بوم موجود ہیں جوکہ اپنی جارحانہ کرکٹ کی وجہ سے یہ خطاب حاصل کر چکی ہیں، ’’لیڈی بوم بوم‘‘ یا ’’لیڈی لالا‘‘ تو کہلاتی ہی ہیں، لیکن انہیں ’’کول ڈار‘‘ کے نام سے بھی بلایا جاتا ہے۔ وہ بطور کپتان اپنا پہلا بین الاقوامی میچ یکم ستمبر کو جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی میں کھیلیں گی، جس کے لیے گذشتہ ایک ہفتے سے تربیتی کیمپ جاری ہے۔انڈپینڈنٹ اردو نے حال ہی میں نڈا ڈار سے خصوصی گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے بحیثیت کپتان اپنے کردار، جنوبی افریقہ کے ساتھ سیریز، کرکٹ بطور پروفیشن اور سب سے بڑھ کر اپنے سٹائل کے حوالے سے بھی دلچسپ باتیں شیئر کیں۔ ندا ڈار نے بتایا کہ ان کی شروع سے یہی کوشش ہے کہ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کی ٹیم کو مختلف فارمیٹ پر کھلائیں اور جو بھی مضبوط پلیئرز ہیں اور پاور ہٹرز ہیں، ان کو آگے رکھیں، تاکہ جس کی جتنی قابلیت ہے اس کے مطابق اپنی ٹیم میں جان بھرے۔ندا کے مطابق ’ٹیم کی لڑکیوں کو سنبھالنا مشکل نہیں، وہ کرکٹ کی دیوانی ہیں۔ کرکٹ سے متعلق انہیں کچھ بھی سکھایا یا سمجھایا جائے تو وہ اپنی دلچسپی ظاہر کرتی ہیں، بہت اچھی ٹیم ہے، ہمیشہ سے یہی خواہش تھی کہ ٹیم کو لیڈ کروں اور آج کر بھی رہی ہوں جس طرح میرے کھیلنے کا انداز الگ ہے، ایسے ہی ہر پلیئر کی لیڈرشپ کا انداز بھی الگ ہوتا ہے، اس بار کوشش کی ہے کہ بہترین فارم کے ساتھ کھیلیں، ٹیم کے پلیئرز کو زیادہ سے زیادہ موقع دیں۔ندا ڈار نے جنوبی افریقہ کے ساتھ سیریز کے حوالے سے بتایا کہ ٹیم اس کے لیے سخت محنت کر رہی ہے، ہماری محنت ضرور رنگ لائے گی۔ مہمان ٹیم پاکستان پہلی مرتبہ کھیلنے کے لیے آ رہی ہے، لیکن بلاشبہ وہ بہت مضبوط حریف ہے اور اس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمیں سخت محنت درکار ہوگی۔بقول ندا ’کپتانی اپنی جگہ اور انداز اپنی جگہ۔ میرا جو جارحانہ انداز ہے میدان میں اترنے کا، اسی انداز میں میدان میں اتروں گی، میں زیادہ توجہ سے کھیلوں گی۔ اپنی تمام خوبیوں کو کھیل کے دوران برقرار رکھوں گی، میرا اپنا انداز ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوگا، انہیں ’چھکے چوکے لگانا اچھا لگتا ہے‘ جبکہ وہ ’پاور ہٹنگ پر کام کر رہی ہیں۔ندا ڈار کے ایکس اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے ہینڈل ’کول ڈار‘ کے نام سے بنے ہوئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ’چھوٹے بال اور مخصوص انداز مجھے بچپن سے ہی پسند ہے، کول دکھنے والی کپتان نے بتایا کہ ’کالج اور یونیورسٹی کے وقت سے ہی مجھے سب کول ڈار ہی کہا کرتے تھے، کپتان ندا ڈار نے کہا کہ ’کرکٹ سے عزت اور شہرت سب کمائی ہے۔ پاکستان کے 24 کروڑ عوام میں سے یہ اعزاز کسی کسی کو حاصل ہوتا ہے تو پیسہ اور تنخواہ جیسی چیزیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ اللہ کی شکر گزار ہوں۔ مجھے کرکٹ سے کمانا نہیں ہے۔ میں ملک کے لیے کرکٹ کھیلتی ہوں۔ کرکٹ میرا جنون ہے۔صوبہ پنجاب کے شہر گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی ندا ڈار گذشتہ 13 برس سے پاکستان ویمن ٹیم کا مستقل حصہ ہیں، آل راؤنڈر ندا ڈار نے ستمبر 2010 میں ویسٹ انڈیز میں سری لنکا کے خلاف اپنا ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو کیا تھا، جس کے بعد وہ 129 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 125 وکٹیں اور 1676 رنز بنا چکی ہیں۔ندا ڈار ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان کی جانب سے تیز ترین 100 وکٹیں لینے والی بھی پہلی کھلاڑی ہیں۔ندا ڈار نے گذشتہ سال بنگلہ دیش میں ہونے والے ویمن ایشیا کپ میں روایتی حریف انڈیا کے خلاف 37 گیندوں پر 56 رنز بنانے کے ساتھ 23 رنز دے کر دو وکٹیں بھی حاصل کیں، بطور کپتان ندا ڈار پہلا میچ جنوبی افریقہ کے ساتھ ہوگا، جس کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ مہمان ٹیم سیریز کھیلنے کے لیے کراچی میں موجود ہے، سیریز یکم تا 14 ستمبر نیشنل سٹیڈیم میں کھیلی جائے گی، جس کے دوران تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل یکم، 3 اور 4 ستمبر کو کھیلے جائیں گے، جبکہ تین ون ڈے انٹرنیشنل بالترتیب 8، 11 اور 14 ستمبر کو ہوں گے، ون ڈے سیریز آئی سی سی چیمپیئن شپ کا حصہ ہے۔
