پاکستانیوں میں وائس کالز کا رجحان کیوں کم ہونے لگا؟

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی واٹس ایپ کی مقبولیت آئے روز بڑھ رہی ہے جس سے شہریوں میں وائس کال کا رجحان آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے، مفت کالز اور وائس میسج کی سہولت کے باعث اب لوگوں نے موبائل نیٹ ورک کے ذریعے ہونے والی سیلولر (نارمل) کال کا استعمال کم کر دیا ہے۔پاکستان میں گزشتہ 5 برسوں میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں 300 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ موبائل پر 3G اور 4G استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔جون 2023 میں موبائل پر 3G اور 4G استعمال کرنے والوں کی تعداد 12 کروڑ 43 لاکھ تھی جوکہ بڑھ کر 12 کروڑ 57 لاکھ ہو گئی ہے اور اسی طرح ایک ماہ میں موبائل پر 3G اور 4G استعمال کرنے والوں کی تعداد میں 13 لاکھ سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔واٹس ایپ وائس کال کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ کا فون انٹرنیٹ سے منسلک ہے تو یہ کال بالکل فری پڑتی ہے اور ایک کال کے لیے انٹرنیٹ بھی انتہائی کم استعمال ہوتا ہے۔ اگر آپ کا فون بند ہے اور آپ کو کسی نے کال کی ہے تو واٹس ایپ وائس کال کا نوٹیفکیشن بھی آ جاتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ کو کب کس نے کال کی تھی۔پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کروڑوں لوگوں نے اسمارٹ فون کا استعمال شروع کر دیا ہے اور آئے روز ایسے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس کے باوجود موبائل سیلولر یوزرز یعنی موبائل نیٹ ورک استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں موبائل سیلولر یوزرز کی تعداد 19 کروڑ 41 لاکھ تھی جو کہ اب کم ہو 19 کروڑ 5 لاکھ رہ گئی ہے یعنی گزشتہ 10 ماہ میں 36 لاکھ یوزرز نے موبائل نیٹ ورک استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 5 برسوں میں انٹرنیٹ کے استعمال میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔مالی سال 2017-18 کے دوران موبائل انٹرنیٹ صارف ایک ماہ میں اوسطاً 2.1GB انٹرنیٹ استعمال کرتا تھا، 2018-19 کے دوران 3.3GB، 2019-20 کے دوران اوسطاً 4.9GB، 2020-21 کے دوران 6.1GB، 2021-22 کے دوران موبائل پر نیٹ ورک کا انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ایک صارف اوسطاً 6.8GB انٹرنیٹ ماہانہ استعمال کر رہا ہے۔پی ٹی اے کے مطابق سیلولر موبائل آپریٹرز نے 2017-18 میں 727 ملین ڈالر کی انویسٹمنٹ کی، 2018-19 میں 585 ملین ڈالر جبکہ 2022-23 میں ایک ارب 17 کروڑ ڈالر کی انویسٹمنٹ کی ہے، 2017-18 میں ان کمپنیوں کا ریونیو 383 ارب روپے تھا، 2018-19 میں 447 ارب روپے اور 2021-22 کے دوران ریونیو 499 ارب روپے رہا۔

Back to top button