’’چولی کے پیچھے کیا ہے‘‘ ذومعنی گیتوں کا ٹرینڈ سیٹر کیسے بنا؟

معروف اداکار سنجے دت کی فلم ’’کھل نائیک‘‘ کے ہدایتکار سبھاش گھئی نے جب فلم کے ایک گیت کا آنند بخشی سے مکھڑا سنا تو سکتے میں آگئے، اور قلم ہاتھ سے گر گیا، بولے کہ ’’بلوہ کرانے کے موڈ میں ہو، لیکن اس گانے نے بھارتی فلم نگری میں ذومعنی گیتوں کا ایسا ٹرینڈ سیٹ کیا جوکہ آج تک قائم ہے، فلم نے خوب بزنس کیا، مگر یہ سال کی سب سے زیادہ کمائی والی فلم نہیں تھی۔ آج بہت کم لوگوں کو فلم کی کہانی یاد ہوگی، بلکہ فلم کے ہیرو سنجے دت اس فلم کی بجائے اسی زمانے میں غیر قانونی اسلحہ کیس کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوئے۔لیکن اس فلم کا ایک گیت ایسا ہے جو ان لوگوں کے لیے بھی جانا پہچانا ہے جنہوں نے فلم ’کھل نایک‘ کا نام تک نہ سنا ہو۔ یہ گیت تھا، ’چولی کے پیچھے کیا ہے،‘ جس کے بولوں پر اتنی کڑی تنقید ہوئی کہ اسے ’آل انڈیا ریڈیو‘ اور ’دور درشن‘ دونوں پر بین کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ اس کے خلاف مظاہرے تک ہوئے، یہی نہیں بلکہ اس گانے کی نقلیں، چربے اور اس پر جو میمز بننے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ چولی کے پیچھے‘ بالی وڈ کا پہلا آئٹم نمبر ہے، مگر یہ بات یقینی ہے کہ اسی گیت سے ’آئٹم سانگ‘ کی روایت کو تقویت ملی، فلم کی عکس بندی عروج پر تھی جبکہ فلم کے ایک گانے کے لیے سچویشن آنند بخشی کو بتائی گئی۔ نغمہ نگار کے علم میں لایا گیا کہ ہیروئن مادھوری ڈکشٹ جو دراصل پولیس اہلکار ہیں اور گینگسٹر سنجے دت کے گروہ میں رقاصہ بن کر شامل ہو جاتی ہیں۔ اب ایسے میں ایک جگہ یہ قافلہ جب پڑاؤ کرتا ہے تو یہاں ایک مجرہ ریکارڈ کیا جانا تھا۔آنند بخشی نے سبھاش گھئی سے وعدہ کیا کہ وہ شام تک ان کے لیے گیت لکھ دیں۔ شام کے سائے گہرے ہوئے تو سبھاش گھئی کو یاد آیا کہ نغمہ نگار کو فون کر کے معلوم کیا جائے کہ گانا تیار ہوا کہ نہیں۔ تب انہوں نے ہدایت کار کو حکم دیا کہ کاغذ قلم سنبھالیں اور گیت لکھنا شروع کریں۔سبھاش گھئی نے جیسے ہی مکھڑا ’چولی کے پیچھے کیا ہے؟‘ سنا تو ان کے ہاتھ سے قلم نکل کر زمین پر جا گرا۔ آنند بخشی جیسے جیسے گیت سنا رہے تھے سبھاش گھئی کو لگا جس گانے کو وہ عامیانہ یا ذومعنی سمجھ رہے تھے وہ تو واقعی بہترین تخلیقی کاوش ہے۔گیت کے لیے گلوکارہ الکا یاگنک اور الا ارون کی آوازوں کے استعمال کا فیصلہ ہوا۔ الکا یاگنک نے جب بول سنے تو انہیں کچھ خدشات اور تحفظات تھے لیکن انہوں نے سکھ کا یہ سانس لیا کہ گانے کی پہلی لائن ’چولی کے پیچھے کیا ہے‘ ان کو نہیں بلکہ الا ارون کو پورے گیت میں گانے تھے۔دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ گیت میں کوئی ایسی قابل اعتراض بات ہے ہی نہیں، بلاوجہ کا وبال کھڑا کیا گیا ہے، سبھاش گھئی کہتے ہیں کہ تنازعات سے گھرے اس گانے کی وجہ سے ’کھل نایک‘ کی آڈیو کیسٹ ایک ہفتے میں ایک کروڑ کے قریب فروخت ہوئیں۔فلم ’کھل نایک‘ چھ اگست 1993 کو نمائش پذیر ہوئی تو سنیما گھروں میں آنے سے پہلے ہی سنجے دت کی غیر قانونی اسلحہ کیس میں گرفتاری ہوئی تو ’کھل نائیک‘ کو اور شہرت مل گئی۔سبھاش گھئی نے فلم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے منفرد منصوبہ بناتے ہوئے مختلف شہروں میں 11 پریمیئرز کا اہتمام کیا، فلم فیئر ایوارڈز ہوئے تو ’کھل نایک‘ نے سب سے زیادہ 11 کیٹگریز میں نامزدگی حاصل کی۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ الکا یاگنک اور الا ارون ’چولی کے پیچھے‘ پر بہترین گلوکارہ، جبھی اسی گانے پر سروج خان بہترین ڈانس ڈائریکٹر کا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوئیں، المیہ یہ رہا کہ اس گانے کو کچھ ہدایت کاروں اور نغمہ نگاروں نے وجہ بنا کر بالی وڈ میں ذومعنی گیتوں کی بھرمار کر دی۔
