پاکستانی ٹیکسٹ بُکس نفرت کیوں سکھا رہی ہیں؟

پاکستان کی درسی کتب میں پڑھایا جانے والا نصاب مذہبی اقلیتوں کے لیے مشکلات اور تشویش کا باعث بن رہا ہے جسکی بنیادی وجہ اسمیں موجود ہندو دشمنی پر مبنی مواد ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دوسرے مذاہب کے خلاف نفرت پھیلانے والے نصاب کی تبدیلی ناگزیر ہے اور یہ بھی تحقیق ہونے چاہیئے کہ ہم ایسے نصاب کے ذریعے نوجوانوں کی ایک ایسی کھیپ کیوں تیار کر رہے ہیں جو دوسرے مذاہب کے لوگوں سے نفرت کرے؟

یاد رہے کہ پاکستان کی آبادی کا 3.5 غیر مسلموں پر مشتمل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہندو پاکستان کی آبادی کا تقریباً 1.5 فیصد ہیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بسنے والی ہندو طلبہ سے جب ایک سروے کے دوران پوچھا گیا کہ اسکول کالج کے زمانے میں درسی کتابوں میں ایسی کون سی باتیں تھیں جو اُن کےلیے تکلیف کا باعث بنیں تو انہوں نے ہماری درسی کتابوں کے کچھ اقتباسات دہرائے۔ ان اقتباسات کے مطابق ’تاریخ میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر بہت ظلم کیا تھا۔‘
’کافر کا مطلب بتوں یا مورتیوں کی پوجا کرنے والا ہوتا ہے۔‘
’پہلے زمانے میں ہندو اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیتے تھے۔‘

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اِن ہندو نوجوانوں نے جب آنکھ کھولی تو اپنے اردگرد رواداری اور بھائی چارے کا ماحول دیکھا۔ دوستیاں اور محلے داریاں ہوں یا عیدین اور ہولی دیوالی کے تہوار، انہوں نے کم از کم ذاتی طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں میں کسی قسم کا کوئی فرق محسوس نہیں کیا۔ لیکن جب یہ طلبہ گھروں سے نکل کر اسکول اور کالج پہنچے تب پہلی بار انہیں خیال ہوا کہ اُن کے بیچ نفرت اور تعصب کے بیج بوئے جا رہے ہیں اور اِن کے مطابق اِس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود اُن کی درسی کتب ہیں۔ صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے راجیش کمار جو طب کے شعبے سے تعلق رکھنے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن بھی ہیں، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی گیارہویں اور بارہویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی کتاب کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہ کتاب انہوں نے کالج میں پڑھی تھی۔
’اُس کتاب کے صفحہ نمبر 33 پر لکھا تھا کہ انسانیت دشمن ہندوؤں اور سکھوں نے ہزاروں بلکہ لاکھوں عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو انتہائی بے دردی اور سنگدلی سے قتل کیا اور بے آبرو کیا۔‘ راجیش کے مطابق ’اِن رائٹرز کے ذہن میں یہ پہلے سے ہی طے تھا کہ سکھ اور ہندو انسانیت دشمن ہوتے ہیں۔ لیکن انہون نے یہ نہیں سوچا کہ جب کہیں فسادات ہوتے ہیں تو مارنے والے دونوں طرف ہوتے ہیں اور برابر کے قصوروار ہوتے ہیں۔‘
نوجوان ڈاکٹر راجونتی کماری اپنی نویں اور دسویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اِس کتاب میں ہندوؤں کو مسلمانوں کا دشمن بتایا گیا تھا۔ ’اِس کتاب کے صفحہ نمبر 24 پر لکھا تھا کہ مسلمانوں اور ہندوؤں نے مختلف تحریکوں میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا لیکن یہ اتحاد زیادہ دیر نہ چل سکا کیون کہ ہندوؤں کی مسلمان دشمنی اجاگر ہوگئی۔‘
راجونتی سوال کرتی ہیں کہ وہ خود ایک ہندو ہیں تو مسلمانوں کی دشمن کیسے ہو سکتی ہیں؟
’میں مسلمانوں کے ساتھ پلی بڑھی ہوں، میرے سارے دوست مسلمان ہیں۔ میں نے اُن کے اور انہوں نے میرے تہوار ایک ساتھ منائے ہیں۔ تو ہماری دشمنی کیسے ہو سکتی ہے۔‘

سنہ 2011 میں امریکی حکومت کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی نصابی کتب ہندوؤں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کےلیے تعصب اور نفرت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی اِس ریسرچ کےلیے ملک بھر میں پہلی سے دسویں جماعت تک پڑھائی جانے والی سو کتابوں کا جائزہ لیا گیا جب کہ اسکولوں کا دورہ کرکے طلبہ اور اساتذہ سے بات بھی کی گئی۔
تحقیق کے مطابق نصابی کتب پاکستان میں بسنے والے ہندوؤں کی وفاداری ہمسایہ ملک انڈیا سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اِس طرح طلبہ میں یہ تاثر جڑ پکڑتا ہے کہ غیر مسلم پاکستانی غیر محبِ وطن ہیں۔ نامور ماہرِ تعلیم اے ایچ نیّر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رائج درسی کتابوں میں ہندوؤں کے خلاف نفرت کا اظہار بالعموم ایک خاص پیرائے میں کیا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ تحریکِ پاکستان کی تاریخ بیان کرتے وقت دو سیاسی پارٹیوں یعنی مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان اختلافات کو مسلمانوں اور ہندوؤں کی لڑائی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ’اِس طرح ہماری نصابی کتابوں میں ہندو ولن بن جاتا ہے جو شاید پاکستان کے قیام اور اُس کے پیچھے موجود سیاست کو درست ثابت کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘

اے ایچ نیّر نصابی کتابوں میں ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں ایک جانب اِن کتابوں میں مسلم تاریخ اور تمدن کو نمایاں انداز میں پیش کیا جاتا ہے وہیں ہندو تاریخ کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ مثلاً برِصغیر کی تاریخ اِس خطے میں مسلمانوں کی آمد سے شروع کی جاتی ہے لیکن اُس سے پہلے کے ہندو حکمرانوں کا ذکر حذف کر دیا جاتا ہے۔
سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل یوسف احمد شیخ نے بتایا کہ انہیں نصاب ’بیورو آف کریکولم‘ کی طرف سے دیا جاتا ہے جس کے مطابق کتابیں تیار کی جاتی ہیں۔ ’نصاب ملنے کے بعد ہم اپنے مصنفین کے پول میں سے رائٹرز کا انتخاب کر کے انہیں کتاب تیار کرنے کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ جب رائٹر کتاب لکھ لیتا ہے تو پھر ہمارے ایکسپرٹس اُس کو جانچتے ہیں۔ آخری مرحلے میں ’بیورو آف کریکولم‘ بھی کتاب پر نظرثانی کرتا ہے۔‘ یوسف احمد شیخ کے مطابق سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ ’بیورو آف کریکولم‘ کی طرف سے دیے گئے نصاب کے مطابق کتابیں تیار کرنے کا پابند ہے اور طے شدہ دائرہ کار سے باہر نہیں جا سکتا۔

کالم نگار پرہ منگی کا تعلق شکار پور سے ہے۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ میں مطالعہِ پاکستان کی کتاب میں پڑھا تھا کہ ’تنگ نظری نے ہندو سماج کو مفلوج کر رکھا تھا۔ عورت کو کمتر مقام دیا گیا تھا۔‘ پرہ کے مطابق حقیقت اِس کے بالکل برعکس ہے۔ ہندو مذہب میں تو دیویوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ دُرگا ماتا اور کالی ماتا کہا جاتا ہے۔ ’ہاں یہ ضرور ہے کہ آج کے زمانے میں عورت اپنا آپ منوانے کی جو جدوجہد کر رہی ہے وہ تو ہر مذہب اور ہر معاشرے میں جاری ہے۔ یہ تو پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ ہر جگہ عورت اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘ راجونتی کماری کتابوں میں قائم کیے گئے اِس تاثر کو غلط ثابت کرنے کےلیے اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتی ہیں۔ کہ میری فیملی میں ہم پانچ بہنیں ہیں۔ تو میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ہمارے والدین کا رویہ ہمارے ساتھ بُرا ہو۔ ہم سب بہنوں کو بہت عزت اور احترام دیا جاتا تھا۔ ہندو بیٹیوں کو گھر کی لکشمی کہتے ہیں کہ وہ برکت ہوتی ہیں گھر کی۔

راجیش کمار کے بقول دنیا کے تمام مذاہب بشمول ہندومت انسانی حقوق اور برابری کی بات کرتے ہیں۔ ’جہاں تک ہندوؤں میں ذات پات کے نظام کا تعلق ہے تو وہ آج کے دور میں کم از کم پاکستان میں تو ختم ہو چکا ہے۔ اب یہ ’کاسٹ‘ نہیں بلکہ ’کلاس‘ کی تقسیم بن کر رہ گیا ہے۔‘ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل یوسف احمد شیخ کے مطابق نصابی کتابوں کی اشاعت کے بعد ادارے کو طلبہ، والدین اور اساتذہ کی طرف سے آرا ملتی ہے۔ اِس فیڈبیک کو جانچا جاتا ہے اور اگر کتابوں میں تبدیلیوں کی ضرورت ہو تو وہ بھی کر دی جاتی ہیں۔ ’چند سال پہلے ہمیں صوبہِ سندھ میں رائج معاشرتی علوم اور مطالعہِ پاکستان کی کچھ کتابوں پر مذہبی اقلیتوں کی طرف سے ردِعمل ملا تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ اِن کتابوں کے چند حصے غیر مسلموں کےلیے تکلیف کا باعث ہو سکتے ہیں۔ اِس کے بعد مذکورہ کتابوں پر نظرثانی کی گئی اور قابلِ اعتراض مواد نکال دیا گیا۔‘ یوسف احمد شیخ کا دعویٰ ہے کہ سنہ 2017 میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک کی کتابوں کو تبدیل کر دیا گیا تھا جب کہ اِس سال نویں اور دسویں کی کتابوں کو اپڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ اگلے سال گیارہویں اور بارہویں جماعت کی کتابوں پر نظرثانی کی جائے گی۔

تھر پارکر سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی سنجے متھرانی کے نزدیک پاکستان میں ہندو بن کے رہنا نہایت مشکل کام ہے۔ وہ کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ کاش اُن کا یہ نام نہ ہوتا۔ ’اگر کوئی ایسا شخص ہماری درسی کتابیں پڑھے جو پہلے کبھی کسی ہندو سے نہیں ملا تو یقیناً اُس کے خیالات ہندوؤں کے بارے میں متعصبانہ ہو جائیں گے۔ اور یہ ایسا رویہ ہے جو پاکستانی ہندوؤں کےلیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔‘

راجونتی کماری کے مطابق وہ بچے جو درسی کتابیں پڑھتے ہیں، اُن کے نزدیک کتابوں میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے وہی سچ ہوتا ہے۔ ’جو بچے دوسری، تیسری یا چوتھی جماعت میں ہیں انہیں کیا سمجھ آتا ہوگا کہ اصل تاریخ کیا ہے۔ انہیں جو محدود معلومات دی جاتی ہے اُس کی ہی بنیاد پر اُن کے نظریات قائم ہوتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہندو ہمارا دشمن ہے۔‘ پرہ منگی کے خیال میں بحیثیت قوم ہمیں اپنا رُخ طے کرنے کی ضرورت ہے۔ ’ہر آنے والی نسل یہ کتابیں پڑھتی ہے اور ہندو دشمنی کو پروان چڑھاتی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ہم نوجوانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار کر رہے ہیں جو دوسرے مذاہب کے لوگوں سے نفرت کرے یا ایک مضبوط اور متحد قوم تشکیل دینا چاہتے ہیں۔‘
سنجے متھرانی سمجھتے ہیں کہ اگر نصاب میں نامور پاکستانی ہندوؤں اور اُن کی کامیابیوں کا ذکر کیا جائے تو اِس طرح ناصرف ہندو طلبہ اِن مضامین میں دلچسپی لیں گے بلکہ دیگر طلبہ کی آگہی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اِس طرح قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ’بہت سی ایسی اہم پاکستانی ہندو شخصیات ہیں جن کا ذکر نصابی کُتب میں نہیں ملتا۔ مثلاً جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کا پہلا قومی ترانہ لکھا تھا لیکن اُن کا نام کہیں نہیں ہے۔ ہمارے رائٹرز کو چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کے بارے میں بھی لکھیں۔‘

ماہرِ تعلیم اے ایچ نیّر کے مطابق یکساں قومی نصاب کی تیاری کے ساتھ پاکستان میں رائج درسی کُتب تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔ لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اِن نئی کتابوں میں تمام مذاہب کو یکساں اہمیت دی جائے اور تاریخ کا ہر پہلو طلبہ کے سامنے رکھا جائے۔ ’ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو اصل تاریخ سے باخبر کرنا ہوگا۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ نصابی کتابوں کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں میں رواداری، بھائی چارے اور برداشت کے رویوں کو فروغ دیا جا سکے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button