ایڈونچر ٹورازم کے لیے پاکستان دنیا کا تیسرا بہترین مقام

سیر و سیاحت کے حوالے سے پاکستان کو دنیا بھر میں خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان کو ایڈونچر ٹورازم کے لیے دنیا کا تیسرا بہترین مقام قرار دے چکے ہیں، تاہم ان سیاحتی مقامات پر سہولیات کا فقدان اور سیکورٹی مسائل کی بڑی وجہ حکومتی عدم توجہی ہے جس پر کام ہونے کی ضرورت ہے۔
سیاح، پاکستان، سیاحتپولینڈ سے تعلق رکھنے والی مزور مگدالینا منڈیلا مہم جو سیاح ہیں اور ہر سال اپنی سالانہ تعطیلات کے موقع پر کسی نہ کسی ملک میں ایڈونچر یا مہم جوئی کی سیاحت کے لیے جاتی ہیں اور اسی سلسلے میں خاتون مہم جو نے اپنے شوہر کے ہمراہ پاکستان کا رخ کیا اور سردیوں کی مہم جوئی کیلئے دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کے دامن میں کیمپ لگایا۔مہم جوئی کیلئے آئی مزور مگدالینا منڈیلا کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں مہم جوئی کی سیاحت کر چکی ہوں مگر جتنا مزہ پاکستان میں آیا، اتنا کبھی بھی نہیں آیا۔ اگلے سال یہاں زیادہ وقت گزاریں گے۔خاتون مہم جو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں وہ سب کچھ ہے جس کی خواہش ایک سیاح اور بالخصوص مہم جوئی کے شوقین لوگ کر سکتے ہیں۔تاہم مزور مگدالینا منڈیلاکے مطابق پاکستان کو چاہیے کہ وہ غیر ملکیوں کے لیے ویزا کے حوالے سے بہتر فیصلے کرنے کے علاوہ اس کا حصول آسان بنائے۔ان کا کہنا تھا کہ آن لائن ویزا کے لیے درخواست دی تو اس میں اتنے زیادہ فارم بھرنے پڑے کہ میں اور میرا خاوند تنگ آگئے تھے۔ مگر شوق کی خاطر پیچیدہ فارم بھرے اور پھر اس کے بعد ایک طویل انتظار کرنا پڑا۔ ایک موقع پر تو ایسے لگا کہ شاید ہماری چھٹیاں ختم ہوجائیں گی مگر یہ مرحلہ ختم نہیں ہوگا۔ان کے مطابق اسی طرح کے ٹو کے دامن پر موجود پورٹرز یا قلی بھی زیادہ تربیت یافتہ نہیں تھے۔
’سردیوں میں دیکھا کہ کے ٹو کے دامن میں کیمپ لگے ہوئے تھے۔ اب یہ کیمپ وہاں پر گند بھی پھینک رہے ہیں۔ کے ٹو سمیت دیگر بلند و بالا پہاڑ سونے و جوہرات سے زیادہ قیمتی ہیں۔ اگر وہاں پر گند ہوگا تو پھر یہ قیمتی دولت خطرے میں ہوگی۔ اس قیمتی دولت کو بچانے کے اقدامات بھی کرنے ہوں گے، تاکہ قدرتی حسن سے مالا مال مقامات کو محفوظ بنایا جا سکے۔
خیال رہے کہ سیر و سیاحت کے حوالے سے مستند سمجھے جانے والے امریکی میگزین سی این ٹریولر نے چند دن قبل پاکستان کو سیر و سیاحت کے لیے بہترین مقام قرار دیا تھا تو اب بین الاقوامی تنظیم برٹش بیک پیکر سوسائٹی نے پاکستان کو ایڈونچر ٹورازم کے لیے دنیا کا تیسرا بہترین مقام قرار دیا ہے۔

برطانوی سیاح، پاکستان، سیاحت
برٹش بیک پیکر سوسائٹی کے شریک صدر سیموئیل جوئنسن کے مطابق پاکستان کو ایڈونچر ٹورازم میں دنیا کا تیسرا بہترین مقام اپنے ممبراں سے رائے حاصل کرنے کے بعد قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ممبران میں مشہور زمانہ اور تجربہ کار مہم جو ہیں، جن کی رائے کو ایڈونچر ٹورازم کی دنیا میں مقدم سمجھا جاتا ہے۔برٹش بیک پیکر سوسائٹی کے دوسرے شریک صدر مائیکل وورل کا کہنا تھا ایڈونچر ٹورازم میں ہر وہ کام شامل ہوتا ہے جو کوئی عام سیاح نہیں کرتا۔ عام سیاح چاہتا ہے کہ وہ تھکے بغیر ہر قسم کی سہولتوں کے ساتھ سیر و تفریح کرے، کچھ دن ہلا گلا کرے اور واپس اپنے گھر اور کام کے لیے چلا جائے۔

برطانوی سیاح، پاکستان، سیاحت
دوسری جانب ایڈونچر ٹورسٹ یا مہم جوئی کا شوقین سیاح خود کو مشکلات میں ڈالتا ہے۔ وہ ان مقامات پر جاتا ہے جہاں پر عام حالات میں بھی عام افراد جانا اور رہنا پسند نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مقام میں جا کر نئی وادیاں اور پہاڑیاں تلاش کرنا، یہان تک کہ نئے کلچر، دم توڑتی تہذیبوں، کھانوں، زبانوں کو دنیا کے سامنے لانا بھی ایڈونچر ٹورازم کہلاتا ہے۔

سیاح، پاکستان، سیاحت
اس حوالے سے پاکستان ٹور آپریٹر ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکرٹری نیک نام کریم کے مطابق چند سال پہلے تک ایڈونچر ٹورازم صرف مشغلہ ہوتا تھا۔ ’مگر اب یہ مکمل پیشہ بن چکا ہے اور اس میں باقاعدہ تربیت حاصل کی جاتی ہے۔‘پہاڑوں، وادیوں اور صحراؤں میں مہم جوئی کرنا تو ایڈونچر ہے ہی۔ لیکن اب تو سائیکل و موٹر سائیکل پر یا پیدل سفر کرنا بھی ایڈونچر ٹورازم کا بڑا حصہ ہے۔پاکستان میں 9/11 کے بعد عملاً غیر ملکی سیاحوں نے پاکستان کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا مگر مہم جو سیاح اس دوران بھی پاکستان آتے تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2018 میں تقریباً 18 ہزار غیر ملکی سیاحت کے لیے پاکستان آئے تھے جبکہ یہی تعداد سال 2014 اور 2015 میں تقریباً چھ ہزار اور سات ہزار تھی۔ سال 2016 اور 2017 میں بالترتیب 10 اور 11 ہزار تھی۔
پاکستان ٹور آپریٹر ایسوسی ایشن کے مطابق ایڈونچر ٹورازم کے لیے سال 2018 میں مجموعی طور پر 1232 غیر ملکی مہم جو آئے تھے۔ جس میں پہاڑ کی مہم جوئی کے لیے 41 گروپ آئے۔ ان میں 350 ممبران تھے جبکہ ٹریکنگ کے لیے 150 گروپ آئے جس میں ممبران کی تعداد 882 تھی۔
سال 2017 میں مجموعی طور پر 1161 مہم جو پاکستان آئے تھے۔ جن میں پہاڑوں کی مہم جوئی کے لیے آنے والوں کی تعداد 304 اور ٹریکنگ کے لیے آنے والوں کی تعداد 857 تھی۔ سال 2016 میں 705، 2015 میں 539، 2014 میں 660، جبکہ 2013 میں یہ تعداد 532 تھی۔سال 2019 میں غیر حتمی تعداد 621 رہی مگر بتایا جا رہا ہے کہ رواں سال یہ تعداد گزشتہ سالوں سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
پاکستان ٹور آپریٹر ایسوسی ایشن کے مطابق غیر ملکی مہم جو زیادہ تر بلتستان، ہنزہ، دیامیر، استور، غذر، چترال، سوات اور ناران کاغان کا رخ کرتے ہیں۔
دوسری جانب الپائن ٹور آپریٹر کے محمد علی کے مطابق غیر ملکیوں کو سیکیورٹی نام پر بہت زیادہ پریشان کیا جاتا ہے۔ ’اسلام آباد سے نکل کر جب وہ شمالی علاقہ جات کی طرف جاتے ہیں تو ہر مقام پر ان سے پاسپورٹ طلب کیے جاتے ہیں، سوالات پوچھے جاتے ہیں، جگہ جگہ اندراج کروانا پڑتا ہے جس سے کئی لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ سیاحوں کے لیے بہت کم طبی، سہولت اور معلومات کے مراکز قائم ہیں، اور ان کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیےتاکہ ملک میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button