شادی کے نام پر چین لیجائی گئی صرف 3 لڑکیاں بازیاب

چینی باشندوں کے ہاتھوں شادی کے نام پر بیچی گئی سینکڑوں پاکستانی لڑکیوں میں سے تین برسون میں اب تک صرف تین لڑکیوں کو ہی بازیاب کروایا جا سکا ہے جبکہ باقی لڑکیوں کا کوئی اتا پتا نہیں۔
پاکستان میں چینی لڑکوں کی غریب گھرانے کی لڑکیوں سے شادی کا نام پر فراڈ کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے یا ایف آئی اے نے گزشتہ چند برسوں میں سینکڑوں پاکستانی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور اعضاء کی فروخت کےلیے شادیوں کے الزام میں 50 چینی باشندوں کو گرفتار کیا تھا تاکہ پاکستانی لڑکیوں کو ملک واپس لایا جا سکے۔ لیکن اب تک تین برسوں میں صرف تین لڑکیاں ہی واپس لائی جا سکی ہیں جبکہ باقی کا سراغ نہیں مل پایا۔
وزارت داخلہ نے سینیٹ میں تحریری رپورٹ جمع کرائی ہے جس کے مطابق ایف آئی اے کے مختلف دفاتر نے چینی باشندوں ک خلاف جعلی شادیوں کے الزام میں پانچ مقدمات درج کیے جب کہ صرف تین پاکستانی خواتین کو چین سے واپس پاکستان لایا جاسکا۔ ان میں فیصل آباد کی نتاشہ اور گوجرانولہ کی مہر اور مقدس شامل ہیں۔ ایف آئی اے لاہور نے 11 چینی شہریوں کو پاکستانی لڑکیوں سے جنسی زیادتی اور اعضا کی فروخت کےلیے زبردستی شادی کے الزام میں آٹھ مئی 2019 کو گرفتار کیا۔ اس وقت تمام ملزمان جوڈیشل لاک اپ میں ہیں اور کیس زیرتفتیش ہے۔ اسی طرح دو مئی 2019 کو فیصل آباد میں ایف آئی اے کے دفتر نے 19 چینی باشندوں کو پاکستانی نوجوان لڑکیوں کی جنسی تجارت اور ان کے جسمانی اعضاء کی فروخت کےلیے چین لے جانے کے الزام میں گرفتار کیا۔ ان میں سے 11 ملزمان اب بھی جوڈیشل تحویل میں ہیں اور کیس کی تفتیش جاری ہے۔
گزشتہ سال مئی میں ایف آئی اے اسلام آباد نے بھی 13 چینی باشندوں کو پاکستانی خواتین سے جعلی شادیوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے دو کو عدالت نے بری کر دیا، جب کہ 11 اس وقت ضمانت پر ہیں اور کیس کی تفتیش جاری ہے۔ گزشتہ برس مئی کی سات تاریخ کو چار چینی افراد کے خلاف جعلی شادیوں کا مقدمہ درج کیا گیا جن میں سے دو مفرور ہیں، جب کہ دو ابھی ضمانت پر ہیں اور کیس کی تفتیش جاری ہے۔
فیصل آباد میں گرفتاریوں کے بعد ایف آئی اے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’جعلی شادیوں والا یہ گروہ گزشتہ کافی عرصے سے متحرک تھا اور ان کا زیادہ تر نشانہ مسیحی لڑکیاں تھیں۔ ان لڑکیوں کو جھانسہ دے کر ان سے شادی کی جاتی اور چین لے جا کر مبینہ طور پر جسم فروشی کروائی جاتی تھی۔ اس مکروہ دھندے کے حوالے سے اسلام آباد میں قائم چینی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ’چین شادی کروانے والے غیرقانونی مراکز کے خلاف کریک ڈاؤن میں پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ ہم چینی اور پاکستانی شہریوں کو محفوظ رہنے اور دھوکہ دہی کا شکار نہ ہونے کی یادہانی کرواتے ہیں۔ گزشتہ سال اس وقت کے چینی ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان ژاؤ نے بتایا تھا کہ ’چین کے شہریوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادیوں کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ کی شکایات کے بعد پاکستان میں چینی سفارت خانے نے 90 کے قریب نوبیاہتا پاکستانی ’دلہنوں‘ کے ویزے روک لیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں 142 چینی باشندوں نے اپنی پاکستانی بیویوں کے لیے چینی سفارت خانے سے ویزے لیے تاہم سن 2019 کے پہلے چند ماہ میں ہی 140 کے قریب درخواستیں موصول ہونے پر چینی سفارت خانہ محتاط ہو گیا اور صرف 50 پاکستانی دلہنوں کو ویزے جاری کیے گئے اور باقی 90 کے ویزے روک دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’چینی سفارت خانے نے اس کے ساتھ ہی پاکستانی حکام کو بھی الرٹ کر دیا جس کے بعد پاکستانی اداروں نے تحقیقات شروع کر دیں۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’تمام کیسز کی تفتیش چینی ادارے بھی کر رہے ہیں اورتحقیقات میں زبردستی جسم فروشی اور اعضا کی فروخت کا کوئی ثبوت نہیں ملا، انٹرنیٹ اور میڈیا پر اس سلسلے میں جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button