نیا پاکستان ہاؤسنگ : درخواستگزاروں میں2 لاکھ کچی آبادی کے رہائشی شامل

نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے 19 لاکھ 80 ہزار درخواست گزاروں میں سے ایک لاکھ 96 ہزار سے زائد افراد (10 فیصد) کچی آبادی کے رہائشی ہیں۔
درخواست گزاروں کی موجودہ رہائشی حیثیت کے مطابق 10 لاکھ 20 ہزار افراد (52 فیصد) کرائے کے مکان جبکہ 6 لاکھ 87 ہزار افراد (35 فیصد) مشترکہ خاندانی گھر میں رہتے ہیں۔اس حوالے سے دستاویز کے مطابق 7 لاکھ 48 ہزار(38 فیصد) سے زائد درخواست گزاروں کا تعلق مزدور طبقے سے ہے اور 4 لاکھ 25 ہزار( 21 فیصد) افراد نجی سیکٹر کے ملازمین ہیں۔ان میں 2 لاکھ 2 ہزار (10 فیصد) سرکاری ملازمین اور 73 ہزار 4 سو 79 (4 فیصد) ذاتی کاروبار کرنے والے افراد شامل ہیں۔علاوہ ازیں درخواست گزاروں میں 15 لاکھ 11 ہزار مرد، 4 لاکھ 62 افراد (23.4 فیصد) خواتین، 5 ہزار 5 سو 19 (0.3 فیصد) خواجہ سرا شامل ہیں۔خواتین درخواست گزاروں میں 3 لاکھ 50 ہزار (76 فیصد) شادی شدہ، 65 ہزار 9 سو 71 (14 فیصد) غیر شادی شدہ، 36 ہزار 3 سو 8 بیوائیں اور 9 ہزار 7 سو 38 (2 فیصد) طلاق یافتہ ہیں۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے عہدیدار کے مطابق 15 جنوری تک درخواست گزاروں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کرجائے گی۔انہوں نے کہا کہ 15 جنوری حتمی تاریخ ہے اور اس میں مزید توسیع نہیں دی جائے گی کیونکہ آخری تاریخ میں کئی بار توسیع کی جاچکی ہے۔عہدیدار نے کہا کہ 10 جنوری تک ہاؤسنگ پروگرم کے لیے 19 لاکھ 80 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے 2 لاکھ 60 ہزار 8 سو 56 درخواستیں اسلام آباد اور 2 لاکھ 25 ہزار 6 سو 94 ضلع لاہور سے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے تمام اضلاع سے درخواست گزاروں کی تعداد 2 لاکھ 65 ہزار 3 سو 47 ہے اس کے علاوہ فیصل آباد سے ایک لاکھ 24 ہزار 8 سو 84، ملتان سے 78 ہزار 7 سو 38، کوئٹہ سے 70 ہزار 8 سو92، پشاور سے 47 ہزار 3 سو 62 اور ضلع سوات سے 53 ہزار 4 سو 86 افراد نے رجسٹریشن کروائی۔
عہدیدار نے کہا کہ نادرا سہولت سینٹر پر 250 روپے فیس جمع کروا کر بھی آن لائن رجسٹریشن کروائی جاسکتی ہے، نادرا اپنی ویب سائٹ کے ذریعے بھی رجسٹریشن کی سہولیات فراہم کررہا ہے۔کراچی کے رہائشیوں کے لیے رجسڑیشن کی سہولت نادرا کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، نارتھ ناظم آباد اور لیاقت آباد مراکز پر بھی دستیاب ہے۔
رواں برس جولائی کے وسط میں وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کی رجسٹریشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا تھا اور کہا تھا کہ اس اسکیم سے معاشرے کے کم آمدن والے افراد کو سستے گھر فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے اس حوالے سے ویب پورٹل کا آغاز کیا تھا جس کے ذریعے کسی دفتر کا دورہ کیے بغیر درخواست گزار گھر بیٹھے خود کو رجسٹر کرسکتے ہیں۔اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ کابینہ ضروری قانون سازی منظور کرے گی جس کے تحت کمرشل بینکس ان افراد کو قرض فراہم کرنے کی سہولت میں توسیع دے سکیں گے جو اپنا گھر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
