حمزہ علی عباسی نے باقاعدہ تبلیغ شروع کردی

ماضی میں تحریک انصاف کے متحرک کارکن اور حالیہ دنوں میں شوبز کو وقتی طور پر خیرباد کہنے والے نامور اداکار فلمسٹار حمزہ علی عباسی نے باقاعدہ طور پر دین اسلام کی تبلیغ کا کام شروع کردیا ہے۔
حمزہ عباسی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک دعوت نامہ شیئرکیا جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ یکم فروری 2020 کو امریکی شہر سیاٹل میں پروفیسر جاوید غامدی کے غامدی سنٹر کے فنڈ ریزنگ پروگرام میں شریک ہونگے۔ اسلامک سکالر جاوید احمد غامدی کے سوال و جواب کے سیشن کے بعد حمزہ علی عباسی حاضرین کو بتائیں گے کہ کس طرح وہ ایک ملحد سے پکے مسلمان اور اسلام پسند بنے۔ حمزہ علی عباس نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ حال ہی میں انہوں نے اپنی زندگی کو دین اسلام کی تعلیمات پھیلانے کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ وقت اس عظیم کام کی ابتدا کے لئے بہترین ہے، اس لئے میں بسم اللہ کررہا ہوں۔ حمزہ نے لکھا ہے کہ آج سے چھ سال قبل انہیں دین اسلام کے بنیادی ارکان نماز روزہ اور قرآن و سنت جیسے معاملات سے آگاہی حاصل ہوئی۔ جس کے بعد انہوں نے امین احسن اصلاحی، حمیدالدین فراہی اور جاوید احمد غامدی کی تصانیف کو پڑھنا شروع کیا۔
حمزہ علی عباسی بارہا یہ بتا چکے ہیں کہ اوائل عمری میں وہ ملحد تھے اور انہیں دنیا کے کسی مذہب پر یقین نہیں تھا۔ تعلیمی سلسلے کے دوران وہ تھیٹر سے بھی وابستہ رہے اور کم و بیش پانچ سال انہوں نے مختلف انگریزی تھیٹر ڈراموں میں پرفارمنسز دیں۔ خیال رہے کہ حمزہ علی عباسی نے تھیٹر چھوڑنے کے بعد 2012 میں ٹیلی ویژن کریئر کا آغاز کیا ان کی پہلی ڈرامہ سیریل تھی میرے درد کو جو زباں ملے۔ اس کے بعد حمزہ علی عباسی بلاک بسٹر ڈرامہ سیریل پیارے افضل اور من مائل میں بھی نظر آئے۔ 2019 میں ان کی آخری ڈرامہ سیریل الف جیو ٹی وی سے نشر ہوئی۔ اپنے فلمی کیریئر کے دوران حمزہ علی عباسی نے وار، میں ہوں شاہد آفریدی، پرواز ہے جنوں اور جوانی پھر نہیں آنی جیسی کامیاب فلموں میں کام کیا۔ حمزہ علی عباسی کے فلمی کیریئر کی آخریری فلم دل لیجنڈ آف مولاجٹ تھی۔ حمزہ شوبز کیریئر کے دوران کئی ایوارڈ شوز ز اور ٹی وی پروگرامز کی میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ آج ٹی وی پر ایک دینی پروگرام میں جاوید احمد غامدی کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن حمزہ علی عباسی ان سے متاثر ہوئے اور پھر ارادت مندی کا سلسلہ طویل ہو گیا۔
حمزہ عباسی پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے بھی وابستہ رہے ہیںم تاہم 2018 میں انہوں نے یہ کہہ کر تحریک انصاف کے کلچرل سیکریٹری کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا کہ وہ ایسی فلموں میں کام کرچکے ہیں جو پاکستان کی ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتی لہذا وہ ایک قومی جماعت میں اس عہدے پر ذمہ داریاں مزید نہیں نبھا سکتے۔ حمزہ وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی دوست تصور کیے جاتے ہیں۔ عمران خان کی سابق اہلیہ پر ریحام خان نے جب کپتان کو ایکسپوز کرنے کے لئے آپ بیتی لکھی تو حمزہ علی عباسی نے اس کتاب کے اقتباسات پہلے ہی سوشل میڈیا پر وائرل کر دیئے جس پر خوب شور مچا اور ریحام خان نے یہاں تک کہہ دیا کہ حمزہ نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی ہیں۔
خیال رہے کہ حمزہ عباسی نے امریکا سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں بیچلرز کیا اور پھر اسی مضمون میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا۔ حمزہ علی عباسی نے کچھ عرصہ پولس سروس آف پاکستان میں بطور ایس پی بھی ذمہ داریاں انجام دیں تاہم بعد میں ایکٹنگ اور فلمی کیریئر بنانے کے لیے سول سروس کو خیرباد کہہ دیا۔ حمزہ علی عباسی کے والد مظہر علی عباسی ریٹائرڈ میجر ہیں جبکہ ان کی والدہ نسیم اختر چوہدری متحرک سیاسی کارکن ہیں۔ وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے سے جدوجہد کرتی رہی ہیں اور آجکل تحریک انصاف سے منسلک ہیں۔ حمزہ علی عباسی کی ہمشیرہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی معروف ڈرماٹولوجسٹ ہیں۔
اگست 2019 میں حمزہ علی عباسی نے حج کی ادائیگی کے فورا بعد این سی اے سے فارغ التحصیل پینٹر اور اداکارہ نیمل خاور سے سادہ سی تقریب میں شادی کی۔ جس کے بعد سے انہوں نے اپنی اہلیہ کو بھی شوبز میں کام کرنے سے روک دیا اور خود بھی نہ تو کوئی نئی فلم سائن کی ہے اور نہ ہی کسی ڈرامے میں نظر آرہے ہیں بلکہ حمزہ نے علی الاعلان کہا ہے کہ وہ خود کو دین اسلام کی اشاعت کے لیے وقف کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button