پاکستان: جنوبی افریقہ سمیت چھ ممالک سے پروازوں پر پابندی عائد

پاکستان میں کرونا(کورونا) وائرس کے حوالے سے قومی سطح پر فیصلے کرنے کے لیے قائم ادارے این سی او سی کے مطابق جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد پاکستان نے آج سے جنوبی افریقہ سمیت چھ ممالک کی جانب سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ہفتے کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’نئے ویریئنٹ کے خطرے کی وجہ سے جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ، موزمبیق، نمیبیا، لیسوتھو، اور بوٹسوانا کو کیٹگری سی میں شامل کر لیا گیا ہے۔
’ان ممالک سے براہ راست/ بالواسطہ پاکستان سفر پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘
این سی او سی کے مطابق وہ پاکستانی مسافر جنہیں انتہائی ہنگامی حالت میں ان ممالک سے سفر کرنا ہے، انہیں درج ذیل اقدامات کے بعد ہی ملک میں داخلے کی اجازت ہوگی۔
ویکسینیشن سرٹیفکیٹ
منفی پی سی آر ٹیسٹ (جو سفر سے قبل زیادہ سے زیادہ 72 گھنٹے پہلے کا ہو)
ایئرپورٹ آمد پر آر اے ٹی ٹیسٹ
آر اے ٹی ٹیسٹ منفی آنے کی صورت میں گھر میں لازمی طور پر تین دن کا قرنطینہ اور تیسرے دن سول انتظامیہ دوبارہ سے آر اے ٹی ٹیسٹ کرے گی۔
آر اے ٹی ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں 10 دن کا لازمی قرنطینہ اور 10 ویں دن قرنطینہ میں ہی پی سی آر ٹیسٹ ہوگا.
علاوہ ازیں این سی او سی نے وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد عوام سے احتیاطی تدابیر پر سنجیدگی سے عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
این سی او سی کے ٹوئٹر اکاونٹ سے کی جانے والی ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’مختلف ممالک میں نئے ویریئنٹ ’اومیکرون‘ کے سامنے آنے کے بعد ایس او پیز پر سنجیدگی سے عمل کرنا ضروری ہے۔‘
ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ ’براہ کرم یقینی بنائیں کہ آپ کی ویکسی نیشن مکمل ہے (دو خوراکوں کی ویکسین کی صورت میں دونوں خوراکیں)، ماسک پہنیں اور کسی بھی طرح کی علامات کی صورت اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھیں اور ٹیسٹ کروائیں۔‘
قبل ازیں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’کرونا کے نئے ویریئنٹ کے سامنے آنے کی وجہ سے چھ افریقی ممالک اور ہانگ کانگ سے سفر پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’نئی قسم کے سامنے آنے کے بعد 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام اہل شہریوں کو ویکسین لگانا مزید ضروری ہو گیا ہے۔‘
خیال رہے کہ کرونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد گذشتہ روز یورپی یونین اور برطانیہ نے سخت سرحدی کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد برطانیہ نے جنوبی افریقہ اور پڑوسی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے اور وہاں سے واپس آنے والے برطانوی مسافروں کو قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔
جمعے کو عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ محققین کو جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والی کورونا کی نئی قسم بی ون ون فائیو ٹو نائن کے اثرات کو سمجھنے میں ’چند ہفتے‘ لگیں گے۔

Back to top button