پاکستان سٹاک ایکسچینج کو پرانے طریقے سے چلانے کا فیصلہ
پاکستان سٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ نے نیا سافٹ وئیر خراب ہونے پر پرانے طریقہ کار کے تحت کام کا آغاز کر دیا ہے۔
نئے پروگرام کی ناکامی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دوبارہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ معلومات کے مطابق ایکسچینج انتظامیہ نے بروکرز اور شیئر ہولڈرز سمیت تاجروں کی شکایات کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی اسٹاک ایکسچینج میں چین کے نئے پروگرام کی ناکامی کے باعث پرانے پلان پر دوبارہ عمل درآمد کا فیصلہ کیا۔
اس حوالے سے بیورو کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی کا خودکار تجارتی نظام پیر سے دوبارہ فعال ہو جائے گا اور نئے نظام سے متعلق شکایات دور ہونے تک پرانا پروگرام فعال رہے گا۔ اس کے برعکس رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اسٹاک مارکیٹ کی سرمایہ کاری میں 520 بلین یورو کی کمی واقع ہوئی۔ چھٹا پاکستان سروے مکمل ہونے اور حکومتوں کی جانب سے سخت شرائط عائد کرنے سے انکار کے بعد انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے بارے میں ابہام کے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 47801 یونٹس سے گر کر 45821 یونٹس، 1980 کا انڈیکس اور اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کا حجم 8.380 ارب روپے سے کم ہوکر 7.860 ارب روپے اور 520 ارب روپے ہوگیا۔
