پاکستان میں الیکشن کا التواء کون اور کیوں چاہتا ہے؟

پاکستان میں الیکشن وقت پر ہو پائیں گا یا نہیں، یہ سوال عام انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان ہو جانے اور سپریم کورٹ کی طرف سے 8 فروری کو انتخابات کے انعقاد کو پتھر پر لکیر قرار دئیے جانے کے باوجود ملک کے سیاسی منظر نامے سے مکمل طور پر غائب نہیں ہو پایا۔عام انتخابات سے بمشکل ایک ماہ قبل ایک مرتبہ پھر ’الیکشن میں تاخیر‘ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور اس مرتبہ یہ آواز پاکستان کے ایوانِ بالا سے ابھری ہے۔
جمعہ کے روز پاکستان کے سینیٹ میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی کرنے بارے آزاد سینیٹر دلاور خان کی طرف سے پیش ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی گئی ہے۔اس قرارداد میں کہا گیا ہے ’ملک میں سکیورٹی کے حالات خاص طور پر چھوٹے صوبوں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں انتخابی مہم چلانے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔‘ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’فروری میں ان صوبوں کے زیادہ تر علاقوں میں موسم انتہائی سرد ہو گا اس لیے وہاں زیادہ لوگ ووٹنگ میں حصہ نہیں لے پائیں گے۔‘
مبصرین کے مطابق 8فروری کو ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کرنے کی منظور کی جانے والی قرارداد نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے اہم یہ سوال سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے کہ اس قرارداد کے پیچھے کون ہے؟ دوسرا زیر بحث سوال یہ ہے کہ عام انتخابات کے التواء کے مقاصد کیا ہیں؟ تیسرا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کا التواء چاہنے والی قوتوں کو کامیابی مل سکے گی یا پھر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق الیکشن 8فروری کو پتھر پر لکیر ہیں۔
تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ سینیٹ کی منظورکردہ قراد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے لیکن اس قرار داد سے لوگوں کے اعتماد اور یقین کو دھچکہ ضرور لگا تاہم لگتا ہے کہ اس قرارداد کا مقصد التواء کے ماحول کو سازگار بنانا ہے اس قرارداد نے شکوک و شبہات کو اس لئے جنم دیا ہے کہ یہ عجلت اور پراسرار انداز سے پیش کی گئی ہے۔، اسلام آباد میں پچھلے دو ہفتے سے افواہ چل رہی تھی کہ الیکشن وقت مقررہ پر نہیں ہوسکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو سیاسی رہنما اپنا سیاسی مستقبل بہتر نہیں دیکھتے وہی الیکشن کا التواء چاہتے ہیں۔
دوسری جانب 8فروری کو انتخابات ملتوی کرنے کی سینیٹ سے قرارداد کی منظوری پر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی قرارداد کا الیکشن شیڈول پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کے علاوہ کوئی احکامات الیکشن شیڈول پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ عام انتخابات 8 فروری کو ہی ہوں گے۔الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کی قرارداد کی کوئی حیثیت نہیں۔ سینیٹ کی قرارداد کا الیکشن شیڈول پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
دوسری طرف پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی اس قرارداد کو مسترد کردیا ہے جس میں فروری 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ کی قرارداد سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے سینیٹ کی اس قرارداد کی مخالفت کی ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے اسے ’شرمناک‘ جبکہ ن لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعتِ اسلامی اور دیگر جماعتوں نے اسے ’سازش‘ قرار دیا ہے۔
اگر تمام جماعتیں انتخابات کے التوا کے خلاف ہیں تو سوال یہ ہے کہ پھر کون ملک میں انتخابات ملتوی کروانا چاہتا ہے۔ صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ اس کے لیے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ سینیٹرز جو یہ قرارداد لائے ہیں یا اس کی حمایت کر رہے ہیں وہ کون ہیں۔’یہ لوگ خود کس طرح سینیٹ میں آتے ہیں یہ سب کو معلوم ہے۔ اب یہ لوگ سینیٹ کو بھی اسی طرح بنانا چاہتے ہیں۔‘تاہم صحافی سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ’شر میں سے خیر کا پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی قوتوں نے یکسوئی کا اظہار کرتے ہوئے وقت پر انتخابات کے انعقاد کی حمایت کی ہے۔‘صحافی سلمان غنی کہتے ہیں کہ سینیٹ کی طرف سے ایسی قرارداد سامنے آنے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کوئی ایسا مائینڈ سیٹ ہے جو انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتا اور ملک میں افراتفری کے ماحول کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ملک میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، چیف جسٹس اس کو دیکھ رہے ہیں ان کو بھی یہ نوٹس لینا چاہیے۔ اس مائینڈ سیٹ کو بے نقاب کرنا چاہیے۔‘سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’کچھ قوتیں پاکستان کے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونا چاہتی ہیں۔ یہ وہی قوتیں ہیں جو ملک میں عام انتخابات نہیں چاہتیں۔‘ سلمان غنی کہتے ہیں کہ سینیٹ کی قرارداد کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ انتخابات ملتوی کرانے کی کوشش کا مائینڈ سیٹ ایک ماہ پہلے ہی سامنے آ گیا ہے۔
دوسری جانب سینیئر صحافی اور اینکرپرسن حامد میر بھی جمعے کو اس وقت سینیٹ میں موجود تھے جب یہ قرارداد منظور کی گئی۔ انہوں ںے بتایا کہ ’بہرہ مند تنگی، افنان اللہ خان اور گُردیپ سنگھ سمیت تمام سینیٹرز چیئرمین سینیٹ کے چیمبر میں موجود تھے تاہم کسی کو قرارداد کا علم نہیں تھا۔‘انہوں نے بتایا کہ ’یہ الیکشن ملتوی کرانے کی ایک سازش تھی جو اب ناکام ہو گئی ہے۔‘حامد میر کے مطابق بعض سینیٹرز نے انہیں بتایا ہے کہ ’نگراں وزیراعظم بھی انتخابات ملتوی کرنے کے حامی ہیں، تاہم انوار الحق کاکڑ نے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ میرا موقف وہی ہے جو نگراں وزیر اطلاعات سینیٹ میں بیان کرچکے ہیں۔‘اس سوال پر کہ چیف جسٹس پاکستان اس قرارداد کو کیسے دیکھیں گے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ الیکشن ملتوی ہوگئے تو پھر چیف جسٹس کی بات پر اعتماد کون کرے گا۔
واضح رہے کہ جس وقت یہ قرارداد منظور کی گئی اس وقت 104 رکنی ایوان میں اکثر ارکان موجود نہیں تھے اور صرف 15 سینیٹرز موجود تھے۔ اس طرح ایوان میں کورم بھی پورا نہیں تھا۔بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اور بعض آزاد ارکان نے قرارداد کی حمایت کی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی، مسلم لیگ (ن) کے افنان اللہ خان اور پی ٹی آئی کے گُردیپ سنگھ بھی اس وقت ایوان میں موجود تھے۔مسلم لیگ (ن) کے افنان اللہ خان نے قرارداد کی مخالفت کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بہرہ مند تنگی اور تحریکِ انصاف کے گُردیپ سنگھ نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔تاہم اہم بات یہ ہے کہ تینوں بڑی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ان تینوں سینیٹرز میں سے کسی نے بھی کورم کی نشان دہی نہیں کی، اس طرح ایوان نے یہ قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی۔
دوسری جانب وکیل اور قانونی ماہر اسد رحیم کے مطابق سینیٹ کی طرف سے منظور کردہ قرارداد کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔وکیل اسد رحیم کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے قواعد اور پاکستان کی عدالتِ عظمی کے فیصلے کی روشنی میں ’سینیٹ کی علامتی قرارداد کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔‘سپریم کورٹ انتخابات میں تاخیر کے مقدمے میں آٹھ فروری کو انتخابات ہونے کے حوالے سے فیصلہ دے چکی ہے۔ ’یہ فیصلہ فیلڈ میں موجود ہے جسے کسی قرارداد سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
