’پاکستان میں بائیڈن کا کوئی انتظار نہیں کر رہا‘


اس عمومی تاثر کے برعکس کے وزیراعظم عمران خان کو امریکی صدر جو بائیڈن کی فون کال کا انتظار ہے، وزیر اعظم کے معاون خصوصی معید یوسف نے کہا ہے کہ بائیڈن اگر عمران خان سے بات نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں، پاکستان میں بھی کوئی بائیڈن کا انتظار نہیں کررہا۔ یاد رہے کہ غیر ملکی میڈیا میں یہ معاملہ زیر بحث ہے کہ چھ مہینے پہلے صدر منتخب ہونے کے باوجود جوبائیڈن نے ابھی تک پاکستانی وزیراعظم سے رابطہ کیوں نہیں کیا جبکہ اس وقت افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کا اہم ترین مرحلہ جاری ہے۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے معید یوسف نے کہا امریکہ سے جب بھی پاکستان کے مذاکرات ہوں گے تو تجارت سمیت دو طرفہ تعلقات پر بات ہوگی لیکن اگر دوسری جانب نے صرف الزامات لگانے ہیں اور فوجی اڈوں کی بات ہی کرنی ہے تو پھر وقت ضائع نہ کیا جائے کیونکہ ایسا نہیں ہو گا، اسخے بعد معید نے کہا، گڈ لگ بائیڈن۔
یاد رہے کہ امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجوں کے بحفاظت انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان سے بلوچستان میں فضائی اڈے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں امریکی سی آئی اے کے سربراہ بھی پاکستان آئے اور وزیراعظم سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن ایسا بھی نہیں ہو سکا۔ اس حوالے سے معید یوسف کا کہنا ہے کہ افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے، سرحدوں سے پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی سے دہشت گردی کی گئی جو بد قسمتی سے آج بھی ایک جاری ہے لیکن اب پاکستان اس برائی جنگ میں حصہ دار بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نے کہا کہ دہشت گردی کی جڑیں اور دہشت گرد ہمارے ملک اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے مستقل طور پر فعال رہتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اسوقت سب سے بڑا چیلنج دراصل افغانستان میں امن کے حصول میں ناکامی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان بطور تاریخی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کے بعد وزیراعظم عمران خان نے امریکہ پر ایک اور طنزیہ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقتور امریکا 20 برس میں افغانستان کی جنگ نہ جیت سکا تو پاکستان میں اڈے لینے سے ایسا کرنا کیسے ممکن ہے ؟امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے امریکا کو افغانستان کے خلاف فوجی اڈے دئیے تو پاکستان دوبارہ سے دہشت گردوں کا ہدف بنے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے فیصلے سے بننے والی حکومت کی تائید کرے گا لیکن افغانسان میں کسی بھی دھڑے کی حمایت نہیں کرتا، انکا کہنا تھا کہ ماضی میں ایک دھڑے کی حمایت کر کے پاکستان نے غلطی کی جسے دہرایا نہیں جائے گا۔
اس سے قبل عمران خان نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کی زمین سے افغانستان کیخلاف کاروائی کی اجازت نہیں دیں گے، انکا کہنا تھا کہ ہم امریکا کے امن کے لیے اقدامات میں شراکت دار ہیں لیخن جنگ میں نہیں، ہم اب کسی قسم کی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، انکا۔کہنا تھا کہ اگر طالبان افغانستان کو مکمل فتح کر لیں گے تو بہت خون خرابہ ہوگا ، اس لیے امریکا کو سیاسی تصفیہ کروانا چاہیے۔
اب ‘نیویارک ٹائمز’ کو دیے گئے ایک تازہ انٹرویو میں عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان سے افواج کی واپسی کے لیے تاریخ طے کرنے کے امریکی فیصلے سے طالبان پر پاکستان کا اثر ختم ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم نے افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا کے بعد واشنگٹن کے ساتھ ایک نیا تعلق قائم کرنے پر زور دیا۔ عمران خان نے افغانستان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی اپنی کوششوں کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے فوج کی انخلا کی تاریخ دینے کے بعد سے طالبان پر ہمارا اثر ختم ہوگیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب امریکا نے وہاں سے نکلنے کی تاریخ دی تو بنیادی طور پر طالبان نے فتح کا دعویٰ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے جنگ جیت لی اور اسی وجہ سے ان پر اثر انداز کرنے کی ہماری اثر پذیری اتنی ہی کمزور ہوتی جارہی ہے جتنا وہ خود کو مضبوط محسوس کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بد قسمتی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران تعلقات کا جھکاؤ یکطرفہ تھا، امریکا نے محسوس کیا کہ وہ پاکستان کو امداد فراہم کر رہا ہے اس لیے پاکستان وہ کرے جس کی واشنگٹن اسے ہدایت دے اور پاکستان نے ایسا ہی کیا اور اس کے نتیجے میں 70 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے اور 120 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا کیونکہ ملک بھر میں خودکش حملے اور بم دھماکے ہوئے۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اب ایسا نہیں ہوگا اور پاکستان کسی دوسرے کی جنگ میں خود کو جھونکنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

Back to top button