پاکستان میں تحریک طالبان دوبارہ کیوں منظم ہونے لگی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی نے کہا ھے کہ پاکستان میں تحریک طالبان کا مسئلہ جوں کا توں موجود ہے ۔وہ اپنی تنظیم کو دوبارہ منظم کررہے ہیں اور انہوں نے کراچی تک اپنے یونٹ قائم کرلئے ہیں۔ٹی ٹی پی والے خیبرپختونخوا میں روزانہ کی بنیاد پرپولیس کی ٹارگٹ کلنگ کررہے ہیں لیکن کیونکہ دہشت گردی کی کوئی بڑی کارروائی نہیں ہوئی اس لئے ہم اس ایشو کو بھول گئے ہیں اور کچھ پتہ نہیں تحریک طالبان پاکستان سے متعلق حکومت کی کیا پالیسی ہے۔ اپنے ایک کالم میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ سرمایہ کار پرندوں کی مانند ہوتے ہیں ۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر پرواز کرتے ہیں ۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی بے پناہ صلاحیت ہے ۔ چین اور عرب ممالک کے سرمایہ کار پاکستان آناچاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں ان دونوں چیزوں کا فقدان ہے جو سرمایہ کار کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ یعنی امن اور من پسند زندگی گزارنے کے مواقع۔ بدقسمتی سے سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں یعنی دہشت گردی اور انتہاپسندی ، یہاں کی سیاسی جماعتوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ۔ انہوں نے اسے فوج کے سپرد کررکھا ہے ۔ کیا افغان طالبان کے ساتھ مل کر دھشت گردی کا سیاسی حل تلاش کیا جارہا ہے یا پھر کوئی اور حکمت عملی اپنائی گئی ہے ؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔ دوسری طرف بلوچ عسکریت پسند ہیں جن کا خصوصی نشانہ بیرونی سرمایہ کار بنتے ہیں۔ ہتھیار پھینکنے کی صورت میں حکومت نے ان کیلئے عام معافی کا تواعلان کر دیا ہے لیکن اس حوالے سے کوئی جامع سیاسی حکمت عملی مفقود ہے ۔ ان حالات میں بیرونی سرمایہ کار پاکستان آنا بھی چاہےتو کیسے آئے گا
سلیم صافی کے مطابق انتہاپسندی کے عفریت نے بھی معاشرے کواپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔کوئی پتہ نہیں چلتاکہ کس وقت کوئی کافر کا الزام لگائے اور لوگوں کا جم غفیر تحقیق سے قبل ملزم کو مار ڈالے ۔ اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اگر کسی خاتون نے عربی رسم الخط کے کپڑے پہنے ہوں تو اسے بھی اسلامی شعائر کی توہین کا مرتکب قرار دے کر لوگ مارنے چل پڑتے ہیں ۔ ان لوگوں کو ہمارے مذہبی طبقے نے جذباتی مسلمان تو بنا دیا لیکن قرآن کا یہ حکم ازبر نہیں کرایا کہ اگر کوئی فاسق آپ کے پاس کوئی خبر لے آئے تو پہلے تحقیق کرلیا کرو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ نادانی میں کسی کو نقصان پہنچائیں اور بعد میں اس پر ندامت ہو۔ اس سے زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ مذہبی طبقات ایک ٹریڈ یونین کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔ اس طرح کے واقعات کی نہ ان کی طرف سے شدت کے ساتھ مذمت کی جاتی ہے اور نہ اصلاح احوال کے لئے کوئی کوشش نظر آتی ہے ۔ اس سے قبل دوست ملک سری لنکا کے ایک شہری کو توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا کر قتل کیا گیا لیکن مذہبی سیاسی رہنمائوں نے اس شدت سے اس کی مذمت نہیں کی ۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ مسجد اور منبر سے مذہب کے نام پر اس جنونیت کے خاتمے کے لئے اس بھرپور طریقے سے آوازیں اٹھتی نظر نہیں آرہی ہیں جس طریقے سے اٹھنی چاہئیں ۔ اس شدت پسندی کو روکنے کے لئے ملکی سطح پر ایک جامع پلان بنانا چاہئے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے غیراہم وزارت مذہبی امور کی وزارت سمجھی جاتی ہے اور جس کسی کو صرف وزارت سے راضی کرنا ہو تو اسے یہ وزارت تھما دی جاتی ہے ۔اکثر ایسے شخص کو مذہبی امور کا وزیر بنا دیاجاتا ہے جو دینی علم سے آشنا نہیں ہوتا۔ یہاں تو عالم یہ ہے کہ اگر علمائے کرام سے پیغام پاکستان بھی تیار کرانا ہو تو وزارت مذہبی امور کی بجائے ، وہ کام کسی کو اور کرنا پڑتا ہے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ سرمایہ کار کو پاکستان کی طرف متوجہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ریاست علما ، مشائخ اور بالخصوص مذہبی سیاسی جماعتوں کی مدد سے ملک میں ایسی فضا ہموار کرے کہ جس میں لوگ قانون ہاتھ میں نہ لیں ۔ فتوی بازی کا سلسلہ ختم ہو اور ریاست یا عدالت کا اختیار کوئی فرد اپنے ہاتھ میں لینے کی ہمت نہ کرسکے ۔ سیالکوٹ اور اچھرہ جیسے واقعات درحقیقت ایک پورا منفی پیغام دنیا کو دیتے ہیں اور پاکستان ایک ڈرائونی ریاست کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ان حالات میں بیرونی سرمایہ کار پاکستان تو کیا آئیں گے پاکستان کی اپنی ذہانتیں اور سرمایہ کار بھی بیرون ملک فرار ہورہے ہیں ۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یہ ملک صرف انسانوں کا ایک ہجوم رہ جائے گا اور پھر اپنے بچوں کے پیٹ بھرنے کیلئے دوسروں کے پیٹ پھاڑنے کا سلسلہ زور پکڑے گا۔ خدارا کچھ کر لیجئے ، قبل اس کے کہ کچھ ہوجائے۔
