پاکستان میں طالبان کی جیت کا جشن منانے والے پچھتائیں گے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد بہت سے پاکستانی اس بات پر جوش سے وارفتہ ہورہے ہیں کہ امریکا کو افغانستان میں عبرتناک شکست ہوئی لیکن وہ دن دور نہیں جب غلامی کی زنجیریں توڑنے پر طالبان کی کامیابی کا جشن منانے والے پاکستانی پچھتا رہے ہوں گے۔
فرائیڈے ٹائمز کے لئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ 1990 کی دہائی میں امریکیوں نے پاکستان سے منہ موڑلیا۔ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے اس پر پابندیاں عائد کردیں۔ پھر 2000 کے بعد ”ڈومور“ کا حکم دیا جانے لگا۔ حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے بھی الزامات کا اعادہ کیا جاتا رہا۔ اس دوران ملک میں امریکا مخالف جذبات میں بتدریج شدت آتی گئی۔ سول اور فوجی حکمران اشرافیہ کے بھی یہی جذبات ہیں، اگرچہ یہی احباب امریکی امداد، تجارت، ویزوں، گرین کارڈ اور ملازمتوں کے چشمے سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔ نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ انہی جذبات کا اظہار وزیر اعظم عمران خان نے بھی کیا جب اُنہوں موجودہ کابل فتح کے موقع پر جوشیلے لہجے میں غلامی کی زنجیریں توڑدینے پر افغان طالبان کو سراہا۔ دوسری طرف کچھ سنجیدہ امور دعوت فکر دیتے ہیں۔ سوچنا ہوگا کہ طالبان کی فتح کے پاکستان کے لیے کیا مضمرات ہوں گے؟
سیٹھی کے مطابق پاکستان کا افغانستان میں مفاد کئی ایک مقاصد پر مبنی ہے۔ پہلا، اگر کابل میں پاکستان کی دوست حکومت قائم نہیں ہوتی تو ایسی حکومت بھی قائم نہ ہو جس کا رویہ پاکستان کے ساتھ معاندانہ ہو۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اگلی افغان حکومت کے ساتھ دشمنی اور بھارت کی طرف جھکاؤ رکھنے والی ہر گز نہ ہو۔ دوسرا، افغانستان کو پاکستان مخالف دھشت گرد گروہوں، جیسا کہ تحریک طالبان پاکستان، داعش، القاعدہ اور کئی ایک بلوچ علیحدگی پسندوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم نہیں کرنے چاہییں۔ تیسرا، افغانستان میں امن اور استحکام ہونا چاہیے تاکہ پاکستان اور چین مل کر سی پیک کو وسطی ایشیائی ریاستوں، اور آگے تک توسیع دے سکیں اور خطے میں موجودہ قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے تیل اور گیس کی پائپ لائنیں بچھا سکیں۔ معدنیات کی تلاش کے لیے کان کنی، کرسکیں اور تجارت وغیرہ کو بڑھا سکیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق افغانستان پر امریکی قبضے کے دوران ایسا کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ لیکن اب جب کابل اور افغانستان کے زیادہ تر علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہوچکا، توسوال پیدا ہوتا ہے ان محاذوں پر پاکستان کے لیے کن روشن امکانات کی امید کی جاسکتی ہے؟
ایک بات یقینی ہے کہ طالبان کی حکومت بھارت کے ساتھ دوستی نہیں کرے گی۔ اس کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہوگا کیوں کہ پاکستان نے بہت ثابت قدمی سے 1996 سے طالبان کا ساتھ دیا ہے۔ دوسری طرف بھارت نے تواتر کے ساتھ طالبان مخالف اُن حکومتوں کا ساتھ دیا جنہیں امریکا نے کابل میں قائم کیا، جیسا کہ حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتیں۔ لیکن پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا دارومدار دوسرے اور تیسرے عوامل کے نتائج پر ہے۔ یہ نتائج مستقبل قریب میں ان کے تعلقات کا تعین کریں گے۔ یہ ایک قابل غور بات ہے۔
سیٹھی کہتے ہیں کہ علاقائی ممالک، بشمول امریکا اور عالمی برداری کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ افغانستان کو ایسے دھشت گرد گروہوں کی محفوظ سرزمین نہیں بننا چاہیے جو اُن کے لیے خطرہ بن سکیں۔ یہ طالبان کے امریکا کے ساتھ معاہدے کا بنیادی جزوہے۔ لیکن اس پر شکوک و شہبات موجود ہیں کہ کیا نئی طالبان حکومت تمام اسٹیک ہولڈوں کو ایسی ضمانت دے سکتی ہے؟ کیا اس کے پاس اس کی سکت موجود ہے؟
سیٹھی کے مطابق کابل میں کسی بھی حکومت کے قیام اور امن و امان کی بحالی سے بھی پہلے روس اور چین نے مشترکہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کی امداد کرنے کی شرائط سامنے رکھ دی ہیں: پہلی شرط یہ ہے کہ ان دھشت گرد گرہوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو وسطی ایشیائی ریاستوں اور چین کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ امریکیوں نے سی آئی اے کے ڈائریکٹرکو ملا برادر کے ساتھ انسداد دھشت گردی پر مذاکرات کرنے اور معاشی امداد، پابندیوں اور تسلیم کرنے جیسے معاملات کو ان امور سے جوڑنے کی بات کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ پاکستان بھی طالبان کے کئی ایک ترجمانوں اور نمائندوں سے یقینی دہانی حاصل کرنے کی کوشش میں ہے کہ جلد ہی تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ درحقیقت اسلام آبا د کی بے تابی کا اندازہ وزیر داخلہ کے متعدد بیانات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے کابل کو اپنی تشویش سے آگاہ کردیا ہے، اور اسے یقین دہانی کرادی گئی ہے۔ اس دوران من گھڑت خبروں کا بازار بھی گرم ہے کہ طالبان نے ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان نے فی الحال کسی اسٹیک ہولڈر کے ساتھ کسی پالیسی کا وعدہ نہیں کیا۔ یہ بات بھی قابل فہم ہے۔ وہ اس وقت اپنے اختیار اورداخلی انتظامی معاملات کو استحکام دینے کی فکر میں ہیں تاکہ معاشی، سیاسی اور عسکری محاذوں پر صورت حال ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ لیکن طالبان کے ممکنہ طور پر سب سے طاقت ور دھڑے کے قائد، خلیل الرحمن حقانی کا جچا تلا بیان بتاتا ہے کہ اس موضوع پر طالبان قیادت کیا سوچ رہی ہے۔ جب اُن سے پاکستانی صحافی، اعزاز سید نے مقامی اور عالمی انتہا پسندگروہوں پر چین، پاکستان اور ازبکستان کی تشویش کی بابت سوال کیا تو خلیل حقانی نے بہت محتاط الفاظ کا چناؤ کرتے ہوئے جواب دیا، ”ہم تمام مسلمان ممالک کے درمیان امن چاہتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ امن قائم کیا جائے۔ تمام دنیا اور مسلمانوں کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ مختلف مذاہب کو ماننے والوں کو حقوق دیں، ان کے ساتھ امن کے ساتھ رہیں اور کسی پر جبر نہ کریں۔“ جب اس سے دوبارہ سوال کیا گیا کہ پاکستان کو کچھ انتہا پسند گروہوں کی بابت تحفظات ہیں تو حقانی کا جواب تھا، ”دنیا بھر کے مسلمانوں کو امن کے ساتھ رہنا چاہیے۔ اس حوالے سے بھی میرا مشورہ یہی ہے۔“
سیٹھی کے مطابق گویا خلیل الرحمن حقانی کہہ رہے ہیں کہ افغان طالبان پر تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کا دباؤ ڈالنے کی بجائے پاکستان کو ان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہییں۔ اُن کا چین کے لیے مشورہ ہے کہ وہ اپنی مذہبی اقلیتوں یعنی وگر مسلمانوں کے مسائل امن کے ساتھ حل کرے۔ ا س لیے نہیں لگتا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ملا بردار کو قائل کرلیں گے کہ وہ افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے خلاف طالبان کی مدد کے لیے امریکی انسداد دھشت گردی کے ماہرین کو کام کرنے کی اجازت دیں۔
افغان طالبان کا ان گروہوں کے خلاف انسداد دھشت گردی کی کارروائیاں شروع کرنے سے گریز ظاہر کرتا ہے کہ ان کے درمیان پائی جانے والی گروہی معاونت اور نظریاتی ہم آہنگی صرف افغانستان تک ہی محدود نہیں، بلکہ اس کا دائرہ پاکستان تک بھی وسیع ہے۔ اس کا ایک ثبوت گلگت اور حالیہ دنوں گوادر میں چینی انجینئروں پر حملوں کی صورت ملتا ہے۔ اس لیے ان کے خلاف فوجی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ جب اپنے تمام ترجدید آلات کے ساتھ امریکی یہاں فعال تھے اور وہ انٹیلی جنس معلومات اور ٹریننگ فراہم کررہے تھے تو بھی القاعدہ اور داعش کے حملوں کی شدت اور پھیلاؤ میں اضافہ ہورہا تھا۔
نجم کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں جب طالبان بیرونی ملک جانے والے لاکھوں افغان شہریوں کو انخلا کے لیے مزید وقت دینے کے لیے تیار نہیں تو اس کا بھی کوئی امکان نہیں کہ نئی طالبان حکومت دھشت گردی کے مسلے پر علاقائی اور عالمی تشویش کو رفع کرنے کے لیے کچھ کرے گی۔ اور ان گروہوں کو صرف اسی صورت ختم کیا جاسکتا ہے جب طالبان حکومت غیر ملکی مداخلت کے ساتھ تعاون کرے۔ آنے مطابق آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ہم دو مخالف رجحانات کو فروغ پاتا دیکھیں گے۔ علاقائی طاقتیں اور عالمی برادری طالبان پر ”ڈومور“ کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ اس کے لیے فوائد کی ترغیب اور پابندیوں کی دھمکیاں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ اس پر طالبان پس و پیش سے کام لیتے ہوئے پر امن مذاکرات کی بات کریں گے۔ اس کی وجہ سے تناؤ بڑھے گا۔ اس دوران دھشت گرد گروہ ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈروں کے درمیان تناؤ بڑھائیں گے تاکہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ملک میں اور بیرون ملک اپنے قدم جما سکیں۔ یقینا پاکستان میں طالبان بننے والوں کی کمی نہیں۔ سرحد پار طالبان کو حاصل ہونے والی کامیابی اُنہیں شہ دے گی۔ لہازا آج غلامی کی زنجیریں توڑنے پر طالبان کی کامیابی کا جشن منانے والے پاکستانی تب پچھتا رہے ہوں گے۔
