پاکستان میں وہ کاروبار جن پر افغانی قابض ہیں؟

حکومت نے ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو اپنے وطن واپس جانے کے لیے یکم نومبر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے اور کہا ہے کہ اس کے بعد نہ صرف غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا جائے گا بلکہ ان کی پاکستان میں موجود جائیدادیں، کاروبار اور دولت بھی ضبط کر لی جائے گی۔
اگرچہ یہ انتباہ تمام غیرقانونی تارکین وطن کو کیا گیا ہے لیکن پاکستان میں افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہونے کی وجہ سے خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے اصل مقصد افغان شہریوں کی بے دخلی ہے کیونکہ پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ ملک میں بدامنی اور بدحالی کی بڑی وجہ افغانستان سے غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والے لوگ ہیں۔
پاکستان میں عمومی طور پر یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ یہاں کے مالی مسائل کی وجہ افغان شہریوں کا بوجھ بھی ہے اور کچھ حلقے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ افغان شہریوں کی کئی کاروباری شعبوں پر اجارہ داری ہے اور وہ سمگلنگ اور مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔
تاہم مبصرین کے مطابق افغان شہریوں نے پاکستان میں مختلف کاروباروں پر اپنا تسلط جما رکھا ہے پاکستان میں ٹشو پیپر بنانے کی دوسری بڑی فیکٹری ایک افغان شہری کی ہے جو نہ صرف یہاں بڑے پیمانے پر کاروبار کر رہے ہیں بلکہ کئی قیمتی عمارتوں اور جائیدادوں کی ملکیت بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان سے سنگ مرمر اور چمڑے کی سب سے زیادہ برآمد افغانستان کے شہری کرتے ہیں اور اس میں پاکستانیوں کا حصہ ان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔’اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، گاڑیوں کے پرزہ جات، کپڑے، کوئلہ اور سکریپ کی خرید و فروخت جیسے کاروباروں میں بھی افغان شہریوں کا 80 فیصد کردار ہے۔‘مبصرین کے مطابق ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں افغان شہری کسی نہ کسی طریقے سے کاروبار، تجارت اور صنعتوں کا حصہ ہیں۔ جن میں کوہاٹ، نوشہرہ، درہ آدم خیل کا علاقہ، قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع بھی شامل ہیں۔’افغان شہری پشاور میں 40 فیصد جائیدادوں کے کسی نہ کسی طور مالک ہیں، کراچی کی کئی بڑی مارکیٹوں اور کاروباری مراکز میں ان کا بڑا حصہ ہے، راولپنڈی کی باڑہ مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ بھی ان کے پاس ہے۔ اور ملک کے دوسرے شہروں میں بھی یہ کسی نہ کسی حد تک کاروبار اور جائیدادوں کے مالک ہیں۔‘
دوسری جانب سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فواد اسحاق کہتے ہیں کہ ’آپ پاکستان میں کسی کاروبار کا نام لیں، اس میں افغان شہریوں کا حصہ ضرور ہو گا۔‘’چاہے وہ کاروبار کپڑے کا ہے جوتوں کا، گاڑیوں کا، چائے کا، سبزی، فروٹ اور یا پھر ڈرائی فروٹ کا۔ روٹی لگانے کے تندوروں اور ریستورانوں کے علاوہ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری، آٹے، آئس کریم، برف کی فیکٹریوں تقریباً ہر شعبے میں یہ شامل ہیں۔‘اُن کا کہنا تھا کہ ’افغان شہری پاکستان میں بہت بڑی جائیدادوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے اپنے مقامی شراکت داروں کے ذریعے ان کے نام پر کئی کئی گھر لیے ہوئے ہیں، اور ہر اس شہر میں لیے ہوئے ہیں جہاں ان کا کاروبار ہے۔‘
فواد اسحاق کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی نسبت افغان تاجروں کو پاکستان میں زیادہ فوائد حاصل ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں دونوں ممالک میں مکمل رسائی حاصل ہے جبکہ پاکستانی کاروباری طبقے کو یہ سہولت میسر نہیں۔’ہم أفغان شہریوں کے پاکستان میں کاروبار یا تجارت کے خلاف نہیں بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ یہ قانونی طریقے سے کریں۔ جیسے ہم ٹیکس دے رہے ہیں، وہ بھی دیں۔ وہ اپنے ملک واپس جائیں اور پھر اگر وہ یہاں کاروبار کے لیے آنا چاہتے ہیں تو پاسپورٹ اور ویزے پر آئیں۔‘
تاہم اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتنے بڑے کاروبار کے مالک افغان مہاجرین اپنے وطن واپس چلے جائیں گے؟سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بہت تاخیر سے کیا ہے اور اب بھی اس کی کامیابی کے امکانات ملے جلے ہیں۔ ماضی میں اس نوعیت کے کئی فیصلوں کو واپس لیا جا چکا ہے اور اس مرتبہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی حکام کو سنجیدہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومت پاکستان میں عرصہ دراز سے کاروبار کرنے والے افغان مہاجرین کو ملک بدر نہیں کر سکتی۔ چند افغان بھکاریوں کو کچھ روز کے لیے واپس بھیج دیں تو الگ بات ہے لیکن جو لوگ یہاں پر باقاعدہ آباد ہو گئے ہیں ان کو نکالنا تقریبا ناممکن ہے۔‘لیکن فواد اسحاق کے مطابق پاکستان کا نظام درست کرنے کے لیے اب یہ ازحد ضروری ہے کہ تمام غیر قانونی تارکین کو واپس بھیجا جائے۔ اور پاکستانی ریاست اس بارے میں سنجیدہ حکمت عملی اختیار کرے۔
