پاکستان میں ’ڈبل شاہ‘ جیسی اسکیموں سے کیسے بچا جائے؟


ڈبل شاہ کے نام سے کون واقف نہیں، یہ اصطلاح ایسے نوسرباز کےلیے استعمال کی جاتی ہے جو سادہ لوح افراد سے رقم لے کر اسے ڈبل کرنے کا جھانسہ دے کر غائب ہوجاتے ہیں، ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں ہوتا بلکہ دنیا بھر میں بھی کئی طرح کی جعلی اسکیمیں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، جن میں کم پیسوں کے بدلے قرضے، رہائشی پلاٹ، انشورنس، بڑے انعام یا نوکری کی پیشکش کی جاتی رہی ہیں۔ ایسی اسکیموں کو پونزی اسکیم بھی کہا جاتا ہے، پونزی اسکیم سے مراد سرمایہ کاری کی ایک ایسی پیشکش ہوتی ہے جس میں کوئی کمپنی یا فرد سرمایہ کاروں کے پیسے ہتھیانے کےلیے انہیں دھوکہ دیتے ہیں۔
آج بھی معروف امریکی جعل ساز چارلز پونزی کے نام پر ان اسکیمز کو پہچانا جاتا ہے۔ چارلز پونزی نے 1920 کی دہائی میں ہزاروں افراد کا سرمایہ اس وعدے پر حاصل کیا تھا کہ وہ 90 دنوں میں انہیں 50 فیصد منافع کما کر دے سکتے ہیں۔ پونزی اسکیم کی ایک قسم ’پیرامڈ اسکیم‘ میں جعل ساز نئے سرمایہ کاروں سے پیسے وصول کرکے پرانے یا ابتدائی سرمایہ کاروں میں بانٹ دیتے ہیں تاکہ انہیں یہ تاثر دیا جا سکے کہ منافع ہوا ہے۔ ان پیسوں سے سرمایہ کاری کے بجائے مزید سرمایہ کاروں کو دعوت دی جاتی ہے تاکہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رکھا جا سکے۔ مثلاً 1990 کی دہائی میں ’بی سی سی آئی‘ نامی ایک بینک کے حوالے سے اربوں ڈالر کی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے جن میں صارفین کی جانب سے جمع کروائی گئی رقوم کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا، جعلی ادائیگیاں کی گئی تھیں اور شیئرز کی غیر قانونی خرید و فروخت ہوئی تھی۔ ایک دوسری مثال 2000 کی دہائی میں تاج کمپنی کی ہے جس کے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کےلیے حکومت پاکستان نے اقدامات کیے تھے۔ یہ کمپنی قرآن کی ناشر تھی اور اُن پر اعتماد کرتے ہوئے ہزاروں افراد نے انہیں اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی جمع سرمایہ کاری کی غرض سے دی تھی۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ملک کا وہ ادارہ ہے جو مالیاتی و کاروباری اداروں کی نگرانی کرتا ہے۔ ماضی میں اس نے ٹائنز، یونیکو، بی ایچ آن لائن جابز، کارپوریٹ آٹو موبائلز، بیسٹ ڈے سلوشنز سمیت ایسی کئی کمنپیوں کی نشاندہی کی ہے جہاں سرمایہ کاری کی مشکوک سرگرمیاں ہوتی ہیں اور بالواسطہ یا بلاواسطہ پونزی اسکیمز کے ذریعے لوگوں کو جھانسہ دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں عوامی آگاہی کے سلسلے میں ایس ای سی پی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ لوگوں کو سرمایہ کاری کی اسکیمز میں حصہ لینے سے پہلے محتاط رہنا چاہیے اور اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کوئی اسکیم جعلی ہوسکتی ہے خاص طور پر اگر اس میں لوگوں سے پیسے وصول کرنے کے بدلے کم نقصان کے ساتھ بڑے منافع کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان میں جعلسازی کی مختلف اسکیمز دیکھی گئی ہیں۔۔ان میں کچھ میں تو نئے سرمایہ کاروں کو منافع دیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد پھنسائے جا سکیں۔ دیگر فراڈ کے طریقوں میں آن لائن نوکری کے نام پر لوگوں سے پیسے بٹورنا،قسطوں پر گاڑیاں، موٹر سائیکل، گھر یا دیگر الیکٹرانکس کی اشیاء دینے کے وعدے پر لوگوں سے پیسے جمع کرنا وغیرہ شامل ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق کئی کمپنیاں لوگوں کو بڑے منافع کی لالچ دے کر پھنساتی ہیں اور ان کی تشہیر کےلیے مقامی اخبار، سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کا استعمال کرتی ہیں۔
’قانون کے مطابق ایسی اسکیمز، سرگرمیاں اور کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔ لائسنس یافتہ بینکوں کے علاوہ کوئی بھی کمپنی لوگوں سے رقم جمع کرانے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔
یاد رہے کہ مشکوک سرگرمیوں میں شامل کمپنیوں کے خلاف ماضی میں بھی ایس ای سی پی نے قانون کے مطابق عدالتی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ لیکن یہاں ایک اور بات بھی بتانا ضروری ہے کہ اگر کوئی کمپنی ایس ای سی پی کے پاس رجسٹرڈ ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگوں سے کسی جعلی اسکیم کےلیے رقم وصول کرسکتی ہے۔ نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اپنے سرمایے کے حوالے سے خود بھی احتیاط برتنی چاہیے اور کسی کمپنی یا فرد کی جانب سے گمراہ ہونے سے بچنا چاہیے۔
ایس ای سی پی کے مطابق سرمایہ کاری کے ہر موقع میں خطرہ موجود ہوتا ہے۔ جعل سازی سے بچنے کےلیے لوگوں کو باقاعدگی سے اپنی سرمایہ کاری کی نگرانی کرنی چاہیے۔ انہیں نقصان سے بچنے کےلیے اس کی قدر میں اونچ نیچ کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ شیئر ہولڈر کو کاروبار کی سالانہ رپورٹ، بیلنس شیٹ، منافع، نقصان اور آڈیٹر کی رپورٹ کی کاپی حاصل کرنی چاہیئے۔
ویسے بھی کوئی بھی سرمایہ کار ایس ای سی پی سے رابطہ کر کے کمپنی کے حوالے سے تحقیقات کرنے کی درخواست دے سکتا ہے۔ اسٹاک ایکس چینج کی صورت میں سرمایہ کار یہ دیکھ سکتے ہیں کہ آیا ان کا ایجنٹ ایس ای سی پی کی رجسٹرڈ بروکر کمپنی کے ساتھ منسلک ہے۔ صرف رجسٹرڈ بروکر لوگوں سے پیسے وصول کرکے رجسٹرڈ ایکس چینج جیسے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے. لوگ سرمایہ کاری سے قبل یہ تصدیق کرسکتے ہیں کہ آیا یہ کمپنی لائسنس یافتہ ہے۔ یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ کمپنی کس شعبے میں سرمایہ کاری کرتی ہے تاکہ آپ کی رقم سے محفوظ اور شفاف سرمایہ کاری ممکن ہو سکے۔ اگر آپ کسی بروکر کے ساتھ سرمایہ کاری کررہے ہیں تو آپ اپنے سی ڈی سی اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرا سکتے ہیں۔ سی ڈی سی ایک مرکزی نگراں ادارہ ہے جو آپ کے پیسوں اور شیئرز کا ضامن ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button