لاہور کے CCPO کے خلاف مقدمہ قتل درج کروانے کا مطالبہ


لاہور کے متنازع سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کسان اتحاد کی قیادت نے فردوس عاشق اعوان کے اس موقف کو سختی سے رد کیا ہے کہ کسان رہنما اشفاق لنگڑیال کی ہلاکت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ لاہور میں پاکستان کسان اتحاد اور کسان رابطہ کمیٹی نے 4 نومبر کے روز احتجاجی مظاہرے کے دوران زخمی ہونے والے کسان رہنما اشفاق لنگڑیال کی موت کا ذمہ دار سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو قرار دیتے ہوئے اس کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ عمر شیخ نے اپنی نگرانی میں کسان رہنماؤں پر تشدد کروایا جس سے کہ اشفاق لنگڑیال کی ہلاکت ہوئی۔
کسان رابطہ کمیٹی کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاہور پولیس کے سربراہ عمر شیخ کو فوری طور پر گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ قتل درج کیا جائے جبکہ گرفتار شدہ کسانوں کو فوری رہا کیا جائے اور ان پر جھوٹے قائم مقدمات ختم کیے جائیں۔ یاد رہے کہ کسان اتحاد نے لاہور میں ہونے والے مظاہرے کے ذریعے حکومت سے گندم کی امدادی قیمت کم از کم دو ہزار روپیہ من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اشفاق لنگڑیال کی احتجاج کے دوران ہلاکت پر کسان رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ وہ ایک صحت مند کسان تھے ان کی ہلاکت پولیس کے تشدد اور کیمکل ملے پانی سے ہوئی ہے۔ کسان رابطہ کمیٹی نے حکومت پنجاب کا یہ موقف بھی مسترد کر دیا ہے کہ کسان اشفاق لنگڑیال کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ چار نومبر کو لاہور میں کسان اتحاد کے مظاہرے کے خلاف پولیس کارروائی کے دوران ایک کسان اشفاق لنگڑیال کی ہلاکت ہو گئی تھی جس پر صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ کسان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے جبکہ کسان اتحاد کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا تھا کہ اشفاق لنگڑیال کی موت پولیس تشدد کے باعث ہوئی ہے. ملک اشفاق لنگڑیال 4 نومبر کو لاہور میں مظاہرے کے دوران زخمی ہوئے تھے اور 5 نومبر کی شام دم توڑ گئے تھے۔ ملک اشفاق لنگڑیال کا تعلق ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا سے ہے۔ ان کا ایک بڑے زمیندار خاندان سے تعلق تھا۔ لنگڑیال برادری آباؤ اجداد کے زمانے سے ہی اپنے علاقے میں زمینداری کے پیشے سے منسلک ہیں۔
ملک اشفاق لنگڑیال کسان اتحاد وہاڑی کے فنانس سیکریٹری تھے۔ وہ کئی دہائیوں سے کسانوں کے حقوق کے لیے سر گرم اور فعال کردار ادا کر رہے تھے۔ انھوں نے سوگواروں میں بیوہ اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔ بیٹی دسویں کلاس کی طالبہ ہے۔ کسان اتحاد کے جنرل سیکرٹری ملک ذوالفقار اعوان کا کہنا تھا کہ ملک اشفاق لنگڑیال نے مظاہرین سے تین چار مرتبہ خطاب کیا تھا۔ جب مظاہرین اور پولیس کے درمیاں ہنگامے شروع ہوئے تو ملک ذوالفقار اعوان اس وقت موقعے پر موجود تھے اور سارے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ انھوں نے آنکھوں دیکھا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ پہلے ’پولیس نے لاٹھی چارج کے ساتھ شدید آنسو گیس کی شیلنگ کی مگر جب کسان ڈٹے رہے تو پانی کی توپ سے پانی کی انتہائی تیز دھار پھینکی گئی‘۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’پانی اتنا تیز تھا کہ لوگ اس کے ساتھ بہہ رہے تھے‘۔ ان کے مطابق ’میں نے خود دیکھا کہ پانی پھینکے جانے سے ملک اشفاق لنگڑیال گر چکے تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ موقعے پر بھگڈر مچی ہوئی تھی۔ ’اس بھگڈر میں کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ کون کہاں ہے۔ جب سارا ہنگامہ تھما تو اس وقت ملک اشفاق لنگڑیال کئی لوگوں کی طرح لاپتہ ہوچکے تھے‘۔
ان کے مطابق وہ 5 نومبر کی صبح بے ہوشی کی حالت میں اسے علاقے سے جھاڑیوں سے ملے جہاں چار نومبر کے روز پولیس نے شدید آنسو گیس پھینکی گئی تھی اور مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ اشفاق لنگڑیال کی موت اس زہریلے کیمیکل سے ہوئی جو پانی میں ملا کر مظاہرین پر پھینکا گیا۔ ملک امتیاز لنگڑیال نے بتایا کہ وہ چار بھائی تھے جس میں ملک اشفاق لنگڑیال سب سے بڑے تھے اور ’زمینداری اور خاندان کے تمام معاملات وہ خود ہی دیکھتے تھے‘۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں کی داد رسی کرنے کی بجائے ان پر مقدمات درج کر رہی ہے۔ انھوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ملک میں گندم کا بحران حکومتی نااہلی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ پاکستان کسان اتحاد اور پاکستان کسان رابطے کمیٹی سے منسلک ارکان نے بی بی سی کو بتایا کہ کسانوں اور حکومت کے مابین گندم کی قیمت کے بارے میں کئی بار مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن تاحال یہ کسی فیصلہ کن نتائج پر نہیں پہنچے۔ کسانوں کے اہم مطالبات میں سب سے پہلے گندم کی قیمت ہے جو کسانوں کے مطابق متنازع کر دی گئی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے گندم کی خریداری کا سرکاری ریٹ بہت کم رکھا جس کے باعث انھیں بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق رواں برس اپریل میں حکومت نے کسانوں سے گندم 1400 روپے فی من کے حساب سے خریدی لیکن گندم کی کٹائی کے بعد گندم کے مارکیٹ پہنچتے ہی اس کی قیمت 2500 روپے فی من تک چلی گئی۔ 21 اکتوبر کو اقتصادی رابطہ کمیٹی یعنی ای سی سی کی ذیلی کمیٹی نے 40 کلو گرام گندم کی قیمت 1600 روپے کم از کم امدادی قیمت کے طور پر مختص کر دی۔ لیکن اس قیمت کا اطلاق اگلے سال سے ہو گا اور آئندہ آنے والی فصل پر یہ قیمت لاگو ہو گی۔ کسان رابطہ کمیٹی کے سربراہ فاروق طارق نے کہا کہ ’کسانوں کا مطالبہ یہ تھا کہ اس قیمت کو کو کم از کم 2000 روپے فی من کیا جائے جبکہ گنے کا ریٹ بھی 220 روپے مقرر کیا جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی جو گندم یوکرائن اور روس سے درآمد کی گئی ہے اس کی قیمت بھی 2500 روپے فی من ہے۔ یعنی اپنے کسانوں کو تو یہ 1600 دینا چاہتے ہیں، اور روسی اور یوکرائینی کسان کو یہ 2500 دے رہے ہیں۔ پاکستان کسان اتحاد کے مظاہرے میں موجود کسانوں کا یہ بنیادی مطالبہ تھا لیکن افسوس کے مطالبات پورا نہ ہوسکا لیکن ایک قیمتی انسان کی جان چلی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button