بلاول کے انٹرویو میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں

مسلم لیگ کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے بیان کو توڑ مروڑ کرپیش کرنا پی ڈی ایم کوتوڑنے کی ناکام کوشش ہے ، بلاول نے انٹرویومیں کوئی ایسی بات نہیں کی جس پراعتراض ہو۔
ذرائع کے مطابق مریم نواز نے بلاول بھٹو کے بی بی سی کو دئیے گئے انٹرویو پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور میں بچے نہیں ہیں ، ہمیں سب معلوم ہے کہ اس بیان کو پیش کرنے کا مقصد کیا ہے ، درحقیقت بلاول کی طرف سے دیے گئے انٹرویو میں کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جس پر ہمیں اعتراض ہو ، ہم جانتے ہیں کہ چیئرمین پیپلزپارٹی کے بیان کو توڑ مروڑ کرپیش کرنا اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کوتوڑنے کی ناکام کوشش ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے نواز شریف کے بیانیے کی مخالفت کرنے والوں کی فہرستیں بھی مانگ لیں ، بتایا گیا ہے کہ مریم نواز نے والد کے بیانئے کی حمایت نہ کرنے والوں کو سامنے لانے کی ہدایت کرتے ہوئے نام طلب کیے ہیں ، ذرائع کے مطابق 13 دسمبر کو لاہور جلسے میں منعقد ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹیوں میں بیانیہ مخالف رہنماؤں کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، انہیں 13 دسمبر کے جلسے سے پہلے اپنی پوزیشن کلئیر کرنے کی ہدایت کی جائے گی ، پارٹی بیانیہ مخالف فہرست میں میاں جلیل، اشرف انصاری،نشاط ڈھاہا بھی شامل ہیں ، جب کہ مریم نواز نے حالیہ ملاقات میں نواز شریف کے فیصلے سسے متعلق شہباز شریف کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا تھا کہ نوازشریف کی تقریر میں براہ راست فوجی قیادت کے نام سنے تودھچکا لگا ، انتظار ہے سابق وزیراعظم کب ثبوت پیش کریں گے ، یقین ہے کہ انہوں نے واضح اور ٹھوس ثبوت کے بغیر نام نہیں لیے ہوں گے ، لیکن عمران خان کی حکومت کو لانے کی ذمہ داری کسی ایک شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ بی بی سی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا ہماری آل پارٹیز کانفرنس میں طے پانے والی قرارداد میں واضح ہے، پی ڈی ایم ایجنڈے کی تیاری کےوقت ن لیگ نےفوجی قیادت کانام نہیں لیا تھا ، گوجرانوالہ جلسے میں فوجی قیادت کا نام لینا نوازشریف کا ذاتی فیصلہ تھا ، نواز شریف کی اپنی جماعت ہے اور میں یہ کنٹرول نہیں کر سکتا کہ وہ کیسے بات کرتے ہیں، عام طور پر ہم جلسوں میں اس طرح کی بات نہیں کرتے ، اس لیے میں یہ واضح کر دوں کہ یہ ہماری اے پی سی کی طرف سے جاری کی گئی مشترکہ قرارداد میں مطالبہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ ہماری پوزیشن ہے ، مگر نوازشریف کا یہ حق ہے کہ وہ اس قسم کا موقف لینا چاہیں تو ضرور لے سکتے ہیں۔
قبل ازیںگلگت بلتستان کے ضلع شگر میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ نیازی حکومت کچھ دنوں کی مہمان ہے ان کا حال عوام دیکھ چکے ہیں اس لیے گلگت بلتستان کے عوام ان کو مسترد کریں گے۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے ووٹ کو چوری ہونے سے بچانا ہے، اس بار عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے لوٹوں کو ہرائے گی، اور 15 نومبر کو ووٹ کو عزت دے گی۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ نیازی حکومت اب کچھ دنوں کی مہمان ہے، عمران خان گھبرائے ہوئے ہیں اور انہیں نوازشریف یاد آتے ہیں، ان کی حکومت کا حال عوام دیکھ چکے ہیں اس لئے گلگت کے عوام انہیں مسترد کریں گے، ووٹ چوری کرنے والوں کے سامنے عوام نے کھڑے ہونا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button