پاکستان میں گیس کا بحران بھی سر اٹھانے لگا

رواں مالی سال میں پاکستان کا ایل این جی کا درامدی بل گزشتہ سال کی نسبت 86 فیصد سے بھی زیادہ ہو چکا ہے اور عالمی سطح پر گیس کی قیمت میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے سپلائرز پاکستان کو پرانے طے شدہ نرخوں پر گیس فراہم کرنے میں ناکام ہو کر ڈیفالٹ کر رہے ہیں ۔ ایل این جی گیس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے درآمدی انحصار نے ملک کی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، اور اس اقدام کو مالیاتی استحکام کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے ملک میں درآمد کی جانے والی ایل این جی گیس ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ ثابت ہو رہی ہے، روس اور یوکرین تنازع نے تیل و کوئلے کی قیمتوں کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے تو اس کا اثر گیس کی قیمتوں پر بھی پڑا جو دنیا بھر میں اس وقت بلند سطح پر موجود ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں درآمدی ایل این جی پر زیادہ انحصار ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب یوکرین اور روس کے درمیان تنازع کی وجہ سے گیس کی قیمتیں عالمی منڈی میں بلند ترین سطح پر موجود ہیں اور اس کا منفی اثر پاکستان جیسے ملکوں پر پڑ رہا ہے جو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدی گیس پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان میں اس وقت گیس کی مقامی پیداوار 3000 سے 4000 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ ملک میں اس کی ضرورت 6000 سے 7000 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، مقامی پیداوار اور کھپت میں پیدا ہونے والے اس فرق کو درآمدی ایل این جی سے پورا کیا جاتا ہے۔

ملک میں بجلی بنانے والے پلانٹس 35 فیصد گیس استعمال کرتے ہیں ، 21 فیصد گیس کا گھریلو استعمال ہے، صعنتی شعبے میں اس کا استعمال 17 فیصد اور فرٹیلائزر کا شعبہ 16 فیصد گیس استعمال کرتا ہے۔پاکستان میں درآمد کی جانے والی گیس اور اس پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ کے اگر موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینے کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو اس میں گزشتہ سال کے ان گیارہ مہینوں میں 86 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، مالی سال جولائی سے مئی کے مہینوں میں 2.3 ارب ڈالر کی گیس درآمد کی تھی جو موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں بڑھ کر 4.2 ارب ڈالر ہو چکی ہے، صرف مئی کے مہینے میں درامدی گیس کا بل 58 کروڑ 3 لاکھ ڈالر تھا جو گذشتہ مئی میں 27 کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر تھا۔
آئی ای ای ایف اے کی جانب سے شائع رپورٹ کے حوالے سے بی بی سی نے بتایا ہے کہ 80 کی دہائی سے پاکستان کی معیشت کا انحصار گیس پر بڑھا اور وقت کیساتھ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

کرونا وائرس کے دوران گیس کی قیمتں دس ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بھی نیچے آ گئی تھیں تاہم کرونا وارئرس کے بعد اور یوکرین روس تنازع کی وجہ سے گیس کی قیمتیں 35 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بھی بڑھ گئیں جو اس وقت بھی 25 سے 30 ڈالر کے درمیان موجود ہیں۔

جب قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں تو پاکستان کو طویل مدتی معاہدے کے تحت گیس سپلائی کرنے والے سپلائرز بھی ڈیفالٹ کر گئے، اس سال جنوری سے لے کر اب تک ان سپلائرز نے گیارہ کارگوز پر ڈیفالٹ کیا جو وہ طویل مدتی معاہدے کے تحت فراہم کرنے کے پابند تھے۔

پاکستان کا درآمدی گیس کا بل بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے درآمدی کنٹریکٹس ڈالر انڈیکس پر ہوتے ہیں اور اس گیس کی درآمد کے لیے ڈالر دینے ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے جن پر تیل مصنوعات کی بڑھتی ہوئی درآمد کی وجہ سے پہلے سے دباو موجود ہے.

پاکستان نے 2015 میں گیس درآمد کرنا شروع کی تو اس کے لیے طویل مدتی معاہدے کیے، اُن کے تحت گیس کی درآمدی قیمت خام تیل کی برینٹ آئل قیمت کی فیصد سے طے کی جاتی ہے، 2015 میں نواز لیگ کے دور میں کیے جانے والے معاہدے برینٹ آئل کی اس وقت کی قیمت 13.3 جبکہ تحریک انصاف کے دور میں یہ 10.2 فیصد پر تھی۔

درآمدی گیس کی نگران وزارت پٹرولیم کے ترجمان زکریا علی شاہ نے بتایا جب یہ طویل مدتی معاہدے کیے گئے تواس وقت کے جو گیس کی عالمی قیمت تھی، اس کے مطابق ٹھیک تھے، پہلے والے طویل مدتی معاہدے قطر کے ساتھ ہوئے تھے اور اب پاکستان آذربائیجان اور سعودی عرب کے ساتھ بھی طویل مدتی معاہدوں کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

Back to top button