پاکستان پر 6 ارب ڈالرز جرمانے کی تلوار کیوں لٹک رہی ہے؟

ریکوڈک عمل درآمد کیس میں برٹش ورجن آئی لینڈ کی ہائی کورٹ کی جانب سے پاکستان کے حق میں فیصلہ دینے کے بعد پی آئی اے کے منجمد اثاثے تو بحال کرتے ہوئے نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کا سکرائب ہوٹل دوبارہ پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے لیکن پاکستان پر 6 ارب ڈالر کی ادائیگی کی تلوار بدستور لٹک رہی ہے کیونکہ عدالت نے بطور زر تلامی قومی ائیر لائن پی آئی اے کے اثاثوں کی ضبطگی کو غلط قرار دیا ہے تاہم ٹیتھیان کمپنی کے حق میں چھ بلین ڈالر کا عدالتی فیصلہ تاحال موجود ہے۔
برطانوی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی عدالت نے پاکستان کا یہ موقف تسلیم کرلیا کہ حکومتی سطح پر کسی معاملے میں نجی یا نیم سرکاری ادارے کے اثاثوں کو ضبط نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس معاملہ میں صرف پی آئی اے کے اثاثوں کی خلاصی ہوئی ہے لیکن چھ ارب ڈالر کا معاملہ بدستور اپنی جگہ موجود ہے۔
تاہم دوسری طرف وزیرقانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ ریکوڈک کیس کا فیصلہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔ پی آئی اے کے منجمد تمام اثاثے ریلیز ہو گئے۔ آخری وقت تک پاکستان کا دفاع کریں گے۔
خیال رہے کہ برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے ٹیتھیان کمپنی کی درخواست خارج کرتے ہوئے اسے حکم دیا ہے کہ وہ پاکستان کے قانونی چارہ جوئی کے اخراجات ادا کرے۔عدالتی فیصلے کے بعد روزویلٹ ہوٹل نیویارک اور سکرائب ہوٹل پیرس میں لگائے ریسیور ہٹا دیئے گئے ہیں۔پاکستان کے اٹارنی جنرل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریکوڈک کیس میں پی آئی اے کے خلاف تمام فیصلے واپس ہو گئے ہیں۔ یہ فیصلہ ہماری بہت بڑی فتح ہے۔ برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ریکوڈک کیس میں ٹیتھان کاپر کمپنی کے حق میں فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ روز ویلٹ ہوٹل اور سکرائب ہوٹل پیرس بھی پاکستان کو واپس مل گیا ہے۔
عدالتی فیصلے پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیتھیان کمپنی کا چھ بلین ڈالر زرتلافی کا معاملہ بدستور موجود ہے، لیکن اس رقم کی وصولی کے لیے پی آئی اے کے اثاثوں کو منجمد کرنے کا فیصلہ ختم کردیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان نے عدالت میں یہ ثابت کیا کہ پی آئی اے ایک خودمختار ادارہ ہے۔ یہ پاکستان کی ملکیت تو ہے لیکن حکومت پاکستان اس کے مالی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ اسی نکتہ کی بنا پر پاکستان نے کیس لڑا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیتھیان کمپنی پاکستانی ہائی کمیشن کی عمارت کا کلیم کرتی تو الگ معاملہ تھا، لیکن پی آئی اے کے اثاثوں کو زرتلافی کے طور پر رکھنا درست نہ تھا لہذا عدالت نے اس بارے میں پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ لیکن ٹیتھیان کمپنی کے حق میں چھ بلین ڈالر کا جو ایوارڈ دیا گیا تھا وہ ابھی بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
دوسری طرف پاکستانی وزیر قانون فروغ نسیم نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ خودمختاری کے استثنٰی کی دستاویز وہ دستاویز تھی جو پیپلز پارٹی کے دور میں نظام آف دکن کے کیس میں چھوڑ دی گئی تھی، لیکن اس کے دلائل کو ہم آگے لے کر چلے۔ سب سے اہم حکمت عملی جو ہماری کامیاب ہوئی، وہ یہ تھی کہ خودمختاری سے استثنیٰ کے ایک ڈاکٹرائن پر امریکی اور برطانوی وکلا سے تبادلہ خیال کیا۔
یاد رہے کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی ایک آسٹریلین کمپنی ہے جسے پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے لیے ٹھیکہ دیا گیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے اس ٹھیکے کو غیر قانونی قرار دے کی منسوخ کر دیا تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ٹیتھیان کمپنی نے سرمایہ کاری میں تنازعات سے متعلق مقدمات کے خلاف تصفیے کے بین الاقوامی مرکزانٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس کے ذریعے اس معاملہ پر چھ ارب ڈالر کا ایوارڈ حاصل کیا یہ مسئلہ بدستور حل طلب ہے۔ البتہ پاکستان نے رقم کی ادائی کی مد میں اپنے منجمد اثاثے ریلیز کروا لیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کیس کیا رخ اختیار کرتا ہے۔
