پاکستان کو سفارتی محاذ پر بڑی کامیابی مل گئی

پاکستان کو سفارتی محاذ پر ایک اور بڑی کامیابی مل گئی۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نام نکالے جانے کے بعد اب یورپی یونین نے بھی پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے۔یورپی یونین نے چار سال بعد پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سےخارج کیا ہے جس کے بعد پاکستانی تاجر اپنی مصنوعات یورپی منڈی تک برآمد کر سکیں گے۔

پاکستان میں یورپی یونین کے دفتر کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے ایک اہم مثبت قدم! گذشتہ سال کے فیٹف کے فیصلے کے مطابق ای یو نے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے حوالے سے زیادہ خطرے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پر اس خبر کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس سے ہمارے بزنس، افراد اور کمپینوں کو تقویت ملے گی۔وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی اسے اچھی خبر قرار دیا۔

خیال رہے کہ فیٹف نے جون 2018 میں اسلام آباد کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے اس کے نظام میں خامیوں کی وجہ سے گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد یورپی یونین نے اکتوبر 2018 میں پاکستان کو تیسری دنیا کے ہائی رسک ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا۔تاہم چار سال بعد فیٹف نے 34 نکاتی ایکشن پلان کی تکمیل کے بعد اکتوبر 2022 میں اسلام آباد کو اپنی گرے لسٹ سے نکال دیا تھا اور اب یورپی یونین نے بھی پاکستان پر عائد پابندیاں ہٹا دی ہیں۔

یورپی یونین نے چار سال بعد پاکستان کا نام ہائی رسک ممالک کی فہرست سےنکالا ہے جس کے بعد پاکستانی تاجروں کی مصنوعات کی یورپی منڈی تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ وزارت تجارت کی جانب سے بدھ کو جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فہرست سے نکلنے کے بعد پاکستانیوں پر یورپ کے قانونی اور معاشی آپریٹر کی اضافی شرائط لاگو نہیں ہوں گے، اس سے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2018 میں یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ ہائی رسک فہرست اینٹی منی لانڈرنگ کے خراب نظام اور دہشتگردی فنانسنگ کو روکنے کے لیے موثر انتظامات نہ ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔

پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات یورپ برآمد کرنے والے صنعتکار عامر احمد نے بتایا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے پچھلے پانچ سال بہت مشکل گزرے ہیں، پاکستان سے مصنوعات بھیجنا مشکل ہوگیا تھا اور معمول سے بہت کم مال یورپ بھیجا گیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے مال بھیجنے یا خام مال خریدنے کے لیے رقم کی منقتلی کا طریقہ کار مشکل ہونے کی وجہ سے ناصرف مال کی سپلائی میں تاخیر ہو رہی تھی بلکہ کئی خریدار پاکستان کی بجائے انڈیا اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک سے مال خریدنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ ان ممالک سے خریداری پر انہیں مالیاتی اداروں کے دستاویزات میں آسانی تھی۔

سابق چیئرمین سائیٹ ایسوسی ایشن جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ ’اب پاکستان سے ایکسپورٹرز اپنی مصنوعات با آسانی یورپ بھیج سکیں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب حکومت وقت کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ زرمبادلہ کمانے والے ایکسپورٹرز کو سہولیات فراہم کرنی ہوں گی تاکہ پاکستانی مارکیٹ سے کام کرنے والوں کو ایسے دام ملیں کہ وہ پاکستان سے کام کریں۔‘’ہمارے مدمقابل جو ممالک ہیں وہاں ایکسپورٹرز کو ان کی حکومت ایسا ماحول فراہم کر رہی ہے جس سے ان کی ایکسپورٹ میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ ہمیں کوئی رعایت نہ دی جائے لیکن کم سے کم حالات ایسے رکھے جائیں جس سے ہم اپنے مدمقابل ممالک کا مقابلہ کرسکیں۔

معاشی امور کے ماہر راجا کامران نے بتایا کہ ’اس فیصلے سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ ایف اے ٹی ایف اور برطانیہ کے بعد یورپی یونین سے پاکستان کے لیے مثبت پیغام آنے سے ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا حوصلہ بڑھائے گا۔‘’اب پاکستان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اقدامات پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھے تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی پابندی سے بچا جا سکے۔

خیال رہے کہ یورپی کمیشن کی جانب سے پاکستان سمیت 23 ممالک پر مشتمل ایک فہرست جاری کی گئی تھی۔ ان ممالک کے حوالے سے یہ کہا گیا تھا کہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کے قوانین مذکورہ ممالک میں کمزور ہیں۔اس فہرست کے جاری ہونے کے بعد یورپی یونین کے انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین کے تحت کام کرنے والے بینکوں پر لازم ہے کہ وہ فہرست میں شامل ممالک سے لین دین قانونی اور معاشی آپریٹرز کے ذریعے کریں گے۔

Back to top button