پاکستان کی بھارتی جنرل کے کشمیری بچؤں کے بارے میں نامناسب بیان کی مذمت

پاکستان نے بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت کے کشمیری بچوں سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے بیان میں کہا کہ جنرل پبن راوت نے کشمیوں بچوں میں انتہا پسندی کے رجحان کے خاتمے کے لیے انہیں کیمپوں میں بھیجنے اور پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تحت بلیک لسٹ کرنے کا کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان انتہا پسندانہ ذہنیت اورسوچ کے دیوالیہ پن کا عکاس ہے جو کہ بھارت کے ریاستی اداروں میں سرایت کرجانے کا ثبوت بھی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ریاستی دہشت گردی کا ذمہ دارہونے کے باعث بھارت دہشت گردی کے مسئلے کے خاتمے کے لیے کوئی اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا جہاں بھارتی فوج انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہے اوراب تک 13 ہزارسے زائد نوجوانوں کو اغوا کیا جاچکا ہے، اس صورتحال میں جنرل بپن راوت کا کشمیری بچوں کو کیمپوں میں بھیجنے کا بیان ‘قابل نفرت’ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ‘ایف اے ٹی ایف’ سے متعلق جنرل راوت کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنے تنگ نظراور متعصبانہ اہداف کے حصول کے لیے ٹاسک فورس کی تکنیکی کارروائی کو سیاسی رنگ دینے کی مسلسل کوششیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی دنیا کو بھارت کی مذموم مہم سے آگاہ کر چکا ہے جبکہ امید ہے کہ عالمی برادری، بی جے پی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی ناقابل قبول صورتحال، امتیازی قوانین کے باعث ہونے والے مظاہروں اور بھارتی اقلیتوں سے بے رحم عداوت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا نوٹس لے گی۔’ عائشہ فاروقی نے عالمی برادری پرزوردیا کہ وہ بھارت کا غیر قانونی اقدامات پراحتساب کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button