پاکستان کےلیے ایٹمی اسمگلنگ کرنے پر پانچ افراد پر فرد جرم عائد

امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کےلیے اسمگلنگ کے الزام میں بین الاقوامی نیٹ ورک کے پانچ افراد پر فرد جرم عائد کردی۔ یہ پانچوں افراد امریکہ سے باہر رہتے ہیں جن کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا۔
امریکی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرز نے اپنے ایک بیان میں کہا مدعا علیہان سالوں سے امریکی مصنوعات کو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام سمیت ان اداروں کو اسمگل کررہے تھے، جن کو امریکہ اپنی قومی سلامتی کےلیے خطرہ سمجھتا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ گرینڈ جیوری نے ان پانچ ملزموں کے خلاف فرد جرم اکتوبر میں عائد کی تھی اور یہ پانچوں افراد امریکہ سے باہر رہتے ہیں جن کو تاحال گرفتار بھی نہیں کیا جاسکا۔ ان افراد کے خلاف چالان کی سربمہر فائل بدھ کو کھولی گئی اور ان کے وارنٹ گرفتاری ابھی تک زیر التوا ہیں۔
ذرائع کے مطابق بین الاقوامی نیٹ ورک چلانے والے ان افراد پر الزام ہے کہ وہ راولپنڈی میں ’بزنس ورلڈ‘ کے نام سے ایک فرنٹ کمپنی آپریٹ کررہے تھے۔ ان افراد کی شناخت ظاہر کردی گئی ہے جن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ محمد کامران، کینیڈا کے 48 سالہ محمد احسن ولی اور 82 سالہ حاجی ولی محمد شیخ، ہانگ کانگ کے اشرف خان محمد اور انگلینڈ کے 52 سالہ احمد وحید شامل ہیں۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ اور ایکسپورٹ کنٹرول ریفارم ایکٹ کی خلاف ورزی کی۔
امریکہ کے ڈیپارٹمٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کے اسپیشل ایجنٹ جیسن مولینا کا کہنا ہے کہ ’ان پانچ افراد کے مبینہ اقدام سے امریکی برآمدات کے قوانین کی خلاف ورزی سے بھی بڑا جرم ہوا ہے۔‘’اس سے نہ صرف امریکہ کے قومی سلامتی کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا بلکہ یہ خطے کے ممالک کے مابین طاقت کے نازک توازن کےلیے بھی ممکنہ خطرہ ہے۔‘
فرد جرم کے مطابق، ستمبر 2014 اور اکتوبر 2019 کے درمیان پانچوں افراد نے پاکستان کے جوہری توانائی کمیشن اور ایڈوانسڈ انجینئرنگ ریسرچ آرگنائزیشن کےلیے برآمدی لائسنس کے بغیر امریکی سامان حاصل کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button