واوڈا کی واردات کے پیچھے کون؟ فوجی قیادت ناراض

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ فیصل واوڈا کی جانب سے ایک لائیو ٹی وی شو میں بیٹھ کر فوجی بوٹ دکھانے پر ملک کی عسکری قیادت نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اہم ترین حکومتی شخصیات سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے پوچھ لیا ہے کہ اس حرکت کے پیچھے کونسے محرکات تھے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فیصل واوڈا کے فوجی بوٹ دکھانے اور پھر بے تکی گفتگو کرنے پر ناراضی وزیراعظم ہاؤس تک پہنچا دی ہے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عسکری ذرائع کا خیال ہے کہ وفاقی وزیر کی اس حرکت نے فوج کے اہم ترین ادارے کو متنازعہ بنایا ہے اس کی ساکھ کو متائثر کیا ہے لہذا اس معاملے کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ یہ حرکت فیصل واپڈا نے اپنے طور پر کی یا اس کے کچھ اور محرکات تھے۔ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ وفاقی وزیر کے خلاف کیا ایکشن لیا جا رہا ہے؟
ذرائع کے مطابق فوجی قیادت کے اظہار ناراضی کے بعد حکومت کی جانب سے معذرت کی گئی ہے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ن نے فیصل ووڈا کو وزارت سے برطرف کرنے اور ان کیخلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ حرکت افسوسناک اور باعث شرم ہے۔ ایسی حرکت کولاعلمی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کر کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔ ایک ریٹائرڈ فوجی آفیسر راجہ وسیم نے فیصل واوڈا کی غیر اخلاقی حرکت کے حوالے سے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ میز پر بوٹ رکھ کر لائیو ٹی وی پروگرام میں بات کرنا نامناسب ہے، عام عوام پہلے ہی فوج کو معاشی تباہی سمیت تمام خرابیوں کا باعث سمجھتی ہے، ہمیں عوام میں رہنا ہے،انہون نے کہا کہ ہمارا جینا مشکل نہ بنائیں، میں فوج کی اعلیٰ قیادت سے واوڈا کے خلاف فوج کو بدنام کرنے اور متنازعہ بنانے گھناؤنی سازش کے الزام پر فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کرتا ہوں ۔
میں بطور ریٹائرڈ آرمی آفیسر
فوج کی اعلیٰ قیادت سے فیصل واوڈا کی فوج کو بدنام اور متنازعہ بنانے کی اس گھناؤنی سازش کے خلاف فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کرتا ہوں
عام عوام پہلے ہی فوج کو معاشی تباہی سمیت تمام خرابیوں کا باعث سمجھتی ہے
ہمیں عوام میں رہنا ہے،ہمارا جینا مشکل نہ بنائیں https://t.co/VFQjqnQAtT— RajaWaseem(OneManArmy) (@rajawaseem1511) January 14, 2020
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا نے صرف اپوزیشن جماعتوں کو ہی شرمندہ نہیں کیا، انہوں نے پاکستانی سیاست کے پورے نظام کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے اور سب سے زیادہ نقصان فوج کے ادارے کی ساکھ کو پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی کارکردگی سے نالاں اسٹیبلشمنٹ کپتان کی وجہ سے پہلے ہی بہت بدنامی اپنے سر لے چکی ہے، اب واوڈا کی حرکت کے بعد لگتا یہی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کو بھی پویلین کا راستہ دکھانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی یکے بعد دیگرے ناراضگیاں اور تحفظات کا اظہار اسی سلسلے کی ایک کڑی لگتی ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر حکومت نے جس نااہلی کا مظاہرہ کیا تھا اس کے بعد سے فوجی قیادت پہلے ہی حکومتی شخصیات سے نالاں تھی اور واوڈا کی تازہ حرکت کے بعد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں فاصلے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ یہ پہلا نہیں ہے کہ فیصل واوڈا نے اس طرح کی کوئی بونگی ماری ہو، فروری 2019 میں ایل او سی پر گرائے جانے والے بھارتی طیارے کے ساتھ تصاویر بنوانے پر بھی وزیراعظم نے سخت ناپسندیدگی کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا وزیر کا یہ کام ہے کہ وہ گرائے گئے دشمن کے طیارے پر کھڑے ہو کر تصاویر بنوائے؟ فروری 2019 میں ہی ایک کروڑ مالیت کے لگ بھگ لگژری اسپورٹس کار میں بیٹھے تصاویر وائرل ہونے پر بھی سوشل میڈیا صارفین نے حکومت کے ’’سادگی ‘‘ اپنانے کے دعوؤں اور وزرا کی جانب سے ہی ان دعوؤں کی نفی پر خاصی مایوس کا اظہار کیا تھا۔
نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کے وقت بھی ہاتھ میں پستول لیکربلٹ پروف جیکٹ پہنے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے جس پر اُنہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس مرتبہ خطرناک بات اپوزیشن کا عائد کردہ یہ الزام ہے کہ فیصل واوڈا نے بوٹ والی حرکت وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر کی ہے اور اس کا مقصد ایک قومی ادارے کی تضحیک کرنا تھا۔
