واوڈا کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے منظور

نجی چینل کے ٹاک شو میں فوجی بوٹ دکھا کر قومی ادارے کی ساکھ کو مجروح کرنے کی کوشش پر وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی گئی۔
خیال رہے کہ نجی چینل ‘اے آر وائے نیوز’ کے پروگرام ‘آف دی ریکارڈ’ میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا نے تضحیک آمیز قدم اٹھاتے ہوئے ‘فوجی بوٹ’ کو میز پر رکھ دیا تھا اور اپنے اس عمل کا مکمل دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وفاقی وزیر کے اس اقدام کو سیاسی جماعتوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جبکہ سوشل میڈیا پر بھی انہیں عوام کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اب فیصل واڈا کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست سیشن کورٹ میں دائر کر دی گئی ہے جسے سماعت کے لیے منظور بھی کر لیا گیا ہے۔ مقامی وکیل رانا نعمان ایڈووکیٹ اور مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں ایس ایچ او تھانہ پرانی انار کلی کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے موقف اپنایا کہ فیصل واڈا نے ٹاک شو میں فوجی بوٹ دکھا کر قومی سلامتی کے اداروں کی تضحیک کی اور ان کا یہ عمل اداروں کی ساکھ متاثر کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ فیصل واڈا وفاقی وزیر ہیں اور اپنے اس عمل سے انہوں نے پارلیمنٹ کی بھی توہین کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ تھانے میں فیصل واڈا کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دی لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ پولیس کو وفاقی وزیر فیصل واڈا کے خلاف مقدمے کے اندراج کا حکم دے۔ عدالت نے فیصل واڈا کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست کو قبول کر لیا ہے جس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ ہنجرا کریں گے۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا نجی چینل ‘اے آر وائی نیوز’ کے پروگرام ‘آف دی ریکارڈ’ میں شریک ہوئے تھے، اس پروگرام میں ان کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید عباسی بھی بطور مہمان موجود تھے۔ دوران گفتگو صورتحال اس وقت انتہائی تضحیک آمیز ہوگئی جب فیصل واڈا نے ‘فوجی بوٹ’ میز پر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے لیٹ کر بوٹ کو عزت دی ہے’۔انہوں نے کہا تھا کہ ‘یہ ہے آج کی جمہوری مسلم لیگ، لیٹ کر چوم کر بوٹ کو عزت دو’۔
بعد ازاں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری نے فیصل واڈا کی حرکت کو غیراخلاقی اور ریاستی اداروں کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے پروگرام آف دی ریکارڈ پر 60دن کی پابندی عائد کردی۔پیمرا نے پروگرام کے میزبان کاشف عباسی پر بھی 60 دن کی پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کسی بھی ٹی وی چینل پر بطور مہمان، مبصر یا ماہر کی حیثیت سے شرکت پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button