کپتان اور پیمرا نے واوڈا کے خلاف سخت ایکشن کیوں نہیں لیا؟

وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی جانب سے ایک لائیو ٹی وی پروگرام میں فوجی بوٹ لہرانے کے بعد پیمرا کا پروگرام اور اسکے میزبان کاشف عباسی پر 60 روز کی پابندی عائد ہونے کا فیصلہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے جہاں یہ سوال شدت کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کہ وفاقی وزیر پر پابندی کیوں نہیں لگائی گئی؟ یہ بھی سوال کیا جا رہا ہے کہ اس حرکت کے بعد وزیراعظم عمران خان نے فیصل واوڈا کے خلاف اب تک کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا۔
دوسری طرف نون لیگ کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے الزام لگایا ہے کہ اپنے قریبی وزیر کی اس بازاری حرکت پر عمران خان کی خاموشی اس بات کی غماز ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کے ایما پر بوٹ ٹی وی پر لہرایا۔ مریم اورنگزیب نے فیصل واوڈا کا استعفیٰ مانگتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم نے ان کو وزارت سے برطرف نہ کیا تو ثابت ہوجائے گا کہ اس حرکت کے پیچھے ان کا اپنا ہاتھ ہے۔
فیصل واڈا نے اےآروائی کے پروگرام کے دوران جوتا لہرانے کے اگلے روز حامد میر کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بار بار پوچھے جانے کے باوجود اپنی حرکت پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ان کی حرکت پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنی فعل پر شرمندہ ہیں اور عوام سے معافی مانگتے ہیں تو انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
ٹیلی ویژن پروگرام میں جوتا لائے جانے کے بعد سے فوجی بوٹ، وفاقی وزیر واوڈا اور ٹی وی میزبان کاشف عباسی سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈز کا حصہ ہیں۔ ابتدائی گفتگو میں صارفین کی زیادہ توجہ جوتا لانے کے عمل پر رہی البتہ پیمرا کے حکم نامے کے بعد پروگرام نشر کرنے والا چینل اور ٹی وی میزبان بھی بحث کا نمایاں حصہ بنے رہے۔
’اے آر وائی‘ نیوز کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ اور اس کے میزبان کاشف عباسی پر 60 روز کی پابندی کے حکم نامے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی ردِعمل سامنے آیا ہے اور لوگوں نے اس فیصلے کے حق اور مخالفت میں دلائل دئیے ہیں۔پروگرام آف دی ریکارڈ کے میزبان کاشف عباسی کی اہلیہ مہر بخاری جو خود بھی ایک نجی ٹیلی ویژن چینل پر پروگرام کرتی ہیں، نے پیمرا کی جانب سے اس پابندی کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا فیصل واوڈا پر بھی پابندی لگائی جائے گی؟ ان شوز کے بارے میں کیا خیال ہے جہاں سیاست دانوں کی بے عزتی کی جاتی ہے؟ یہ شرم ناک ہے، کس طرح ’مخصوص‘ لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آر جے اویس نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’پیمرا نے فیصل واوڈا پر پابندی لگانے کے بجائے پروگرام اور اس کے میزبان پر ہی 60 روز کے لیے پابندی لگا دی۔ شاباش۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے بھی پروگرام اور اس کے میزبان پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’پیمرا کو صحافیوں کے حقوق غصب کرنے کا سلسلہ روک دینا چاہیے۔ صحافیوں کو ڈکٹیشن دینا اور پابندی لگانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
سجاول اعجاز نے ٹویٹ میں پیمرا کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ سیاست دانوں کے ذریعے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کی کوشش کریں گے تو ایسی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
یاد رہے کہ فیصل واپڈا نے ٹی وی شو کے دوران فوجی بوٹ دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ ن نے لیٹ کر اس بُوٹ کو عزت دی ہے اور اس بُوٹ کو انہوں نے زبان سے چمکایا ہے۔‘اس پروگرام میں شریک دیگر دو مہمان پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ احتجاجاً اٹھ کر چلے گئے تھے۔
عبدالرحیم نامی ٹوئٹر صارف نے کہا کہ ’دیگر ٹی وی چینلز کے بارے میں پیمرا کا کیا حکم ہے جو کاشف عباسی کے پروگرام کو دکھا رہے ہیں؟شایدہ محمد کا کہنا ہے کہ ’اس پابندی پر چیئرمین پیمرا کو برطرف کیا جانا چاہیے۔
جنید زیڈ کمبوہ نامی ٹوئٹر صارف کا کہنا ہے کہ ‘پیمرا نے اچھا کھیلا لیکن فیصل واوڈا کےبارے میں کیا خیال ہے؟
صحافی فائزہ داؤد کا کہنا ہے کہ ’کاشف عباسی نے اگلے روز کے پروگرام میں یہ وضاحت کی کہ انہوں نے تاخیر سے ردِعمل دیا تاہم یہ ڈرامہ نہیں تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پیمرا کا وفاقی وزیر فیصل واوڈا کو نوٹس کہاں ہے؟ اور کیا تحریک انصاف نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button