پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے میں بھارت نے کیا کردار ادا کیا تھا؟

16 دسمبر 1971ء ہماری قومی تاریخ کا ایک ایسا افسوسناک دن ہے جب متحدہ پاکستان دولخت ہو گیا اور مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ لیکن اگر ہمارے سکولوں میں پڑھائی جانے والی مطالعہِ پاکستان کی کتابوں پر یقین کر لیا جائے تو بس اتنا ہی پتہ چلتا ہے کہ کبھی مشرقی پاکستان بھی ہمارے پاکستان کا حصہ تھا جسے انڈیا نے ایک سازش کے تحت پاکستان سے علیحدہ کر دیا۔ پاکستان کی تاریخ سے واقف دانشور یہ بھی کہتے ہیں کہ دراصل بنگالیوں کا احساس محرومی بنگلہ دیش کے قیام کا باعث بنا۔ تاہم یہ بھی ایک سچ ہے کہ کہ بھارت کی مداخلت کے بغیر مشرقی پاکستان کا مغربی پاکستان سے علیحدہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ آئیے تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان میں بھارت کا کیا کردار تھا؟

یہ تین دسمبر 1971 کی شام ہے۔ انڈیا کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل سیم مانیکشا کی ٹیلی فون کال انڈین فوج کی مشرقی کمان کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل جیک جیکب کو موصول ہوتی ہے۔
آرمی چیف نے جنرل جیکب کو پیغام دیا کہ پاکستانی طیاروں نے مغربی انڈیا میں بھارت کے فوجی اڈوں پر بمباری کی ہے۔
جنرل جیکب سے کہا گیا کہ وہ اس واقعے کی اطلاع انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی کو دیں۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی اس وقت کلکتہ کے دورے پر تھیں اور ’راج بھون‘ میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ انڈین فوج کو اس خبر پر بالکل بھی تشویش نہیں ہوئی کہ پاکستان نے انڈیا پر فضائی حملے کیے ہیں۔ درحقیقت وہ اسی نوعیت کی کسی خبر کا بےصبری سے انتظار کر رہی تھی۔

جنرل جیکب نے اپنی کتاب ’سرنڈر ایٹ ڈھاکہ‘ میں لکھا ہے کہ ’اروڑا یعنی جگجیت سنگھ اروڑا بہت خوش تھے۔ انھوں نے اپنے اے ڈی سی سے کہا کہ میس سے وہسکی کی ایک بوتل لے آؤ۔ ہم سمجھ گئے کہ آئندہ دنوں میں کوئی آرام نہیں ہو گا۔‘ اس کے بعد سے انڈیا اور پاکستان میں جنگ چھڑ گئی۔ جنگ شروع ہونے کے محض 13 روز بعد ہی پاکستان کو جنرل امیر عبداللہ خان روکڑی کی زیر قیادت سرنڈر کرنا پڑا۔ اس سے قبل انڈیا اور پاکستان دونوں نے مغربی سرحد پر اپنے فوجی دستے متحرک کر رکھے تھے۔ کئی ماہ قبل ہی دونوں ملکوں میں جنگ چھڑنے کے قوی امکانات پیدا ہو چکے تھے۔
مشرقی پاکستان میں حالات بہت زیادہ خراب ہونے کے چند ماہ بعد قریب ایک کروڑ پناہ گزین بنگلہ دیش کی سرحد پار کر کے انڈیا میں داخل ہو گئے تھے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت یے کہ بنگلہ دیش کے قیام میں انڈیا بلاواسطہ ملوث رہا اور اسکی فوجی مدد کے بغیر بنگلہ دیش کا قیام ممکن نہیں تھا۔ 16 اپریل 1971 کو بنگلہ دیش میں عارضی حکومت کے قیام کے ایک ہفتے کے اندر اندر بنگلہ دیشی حکومت کے قائم مقام صدر سید نذر الاسلام نے انڈیا کی آشیرباد حاصل کرنے کے لیے ایک خط بھی تحریر کیا تھا۔
علاقائی وجوہات کی بنا پر اس وقت انڈیا نے احتیاط برتی لیکن درحقیقت بنگلہ دیش کی عارضی حکومت کو انڈیا کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ یہ بھی سچ ہے کہ پاک فوج کے خلاف لڑنے والے مکتی باہنی کے اراکین کو انڈیا میں ٹریننگ دی گئی اور اسنے ہی انھیں ہتھیار فراہم کیے تھے۔ دوسری جانب انڈیا نے ایک کروڑ بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو جگہ دی تھی جو جام بچانے کے لیے بھاگے تھے۔ انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جون 1971 میں ہی دنیا بھر کے مختلف ممالک کا دورہ شروع کر دیا تھا تاکہ پاکستانی فوج کی جانب سے مشرقی پاکستان میں کیے گئے مبینہ قتل عام کے بارے میں دنیا کو بتا سکیں۔ انھوں نے متعدد حکومتوں کے سربراہان کو بتایا کہ مشرقی پاکستان میں کیا ہو رہا ہے اور اس سے انڈیا کو کس طرح نقصان پہنچ رہا ہے۔ انھی دوروں کی مدد سے اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کی بنیاد بھی رکھی۔

24 مارچ 1971 کو لوک سبھا سے مخاطب ہوتے ہوئے اندرا گاندھی نے بتایا کہ جس بات کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے وہ انڈیا کا بھی اندرونی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس تقریر کو ڈھاکہ میں انڈین سفارتخانے کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے۔ مشرقی پاکستان سے آئے پناہ گزینوں کا حوالہ دیتے ہوئے اندرا گاندھی نے کہا کہ پاکستان اپنے مسائل کا حل انڈین سرزمین کے ذریعے یا انڈیا کو نقصان پہنچا کر حاصل نہیں کر سکتا۔ ’اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
سنہ 1971 کے وسط میں بی بی سی کو دیے انٹرویو میں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سرحد پر مسئلہ واضح ہو چکا ہے۔ جب اندرا گاندھی سے پوچھا گیا کہ آیا وہ پاکستان پر حملہ کر سکتی ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ’مجھے امید ہے انڈیا ایسا نہیں کرے گا۔ ہم ہمیشہ امن کے حق میں رہے ہیں۔ ہم بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے ملک کی سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔‘

اندرا گاندھی نے بارہا کہا کہ پاکستان پہلے جیسا نہیں رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ ہمسایہ ملک میں ہو رہا ہے اس پر انڈیا اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ ان حالات میں بنگلہ دیش کے قیام سے متعلق خدشات اور وہاں تیزی سے غیر مستحکم ہوتی صورتحال میں اضافہ ہو چکا تھا۔ بنگلہ دیش سے آئے ایک کروڑ پناہ گزینوں کے دباؤ سے صورتحال پیچیدہ ہو چکی تھی اور بین الاقوامی سیاست اس کی ایک دوسری وجہ تھی۔ پاکستانی حکومت کو ہمیشہ یہ خدشہ رہا تھا کہ انڈیا مشرقی پاکستان میں کسی بھی وقت فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔ تب کے عیاش فوجی صدر یحییٰ خان کے ایک مشیر جی ڈبلیو چوہدری کے مطابق جولائی 1971 میں پاکستانی حکومت کو خبر مل چکی تھی کہ انڈیا پاکستان کے خلاف فوجی تیاریاں کر رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا خفیہ دورۂ چین تھا۔

جی ڈبلیو چوہدری اپنی کتاب ’متحدہ پاکستان کے آخری ایام‘ میں لکھتے ہیں کہ ہنری کسنجر چین کے دورہ سے قبل خفیہ طور پر راولپنڈی پہنچے تھے۔
چین سے واپسی پر واشنگٹن پہنچ کر ہنری کسنجر نے امریکہ میں انڈین سفیر کو بتایا کہ اگر انڈیا نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تو چین مداخلت کرے گا۔ کسنجر کے دورۂ چین کے بعد اندرا گاندھی کافی مایوس ہوئیں اور اس کے ایک ماہ بعد انڈیا اور روس میں اتحاد قائم ہو گیا۔ جی ڈبلیو چوہدری کے مطابق انڈیا اور روس میں اتحاد کے معاہدے کے بعد صورتحال نے ایک مختلف موڑ اختیار کر لیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’روس اور انڈیا کے معاہدے کے بعد پاکستان کی فوجی حکومت کو احساس ہوا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ ہونے والی ہے اور پاکستان کو اس جنگ میں شکست ہو گی۔‘

انڈیا نے اگست 1971 میں روس کے ساتھ اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے جس سے امریکہ ناخوش ہوا۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اس اتحاد کو ’بڑی مایوسی‘ قرار دیا تھا۔ انھوں نے پاکستان کے ساتھ انڈیا کی جنگ کا الزام انڈیا، سوویت معاہدے پر ڈالا۔ وہ اپنی کتاب ’وائٹ ہاؤس ایئرز‘ میں لکھتے ہیں کہ ’سوویت یونین انڈیا کو روک سکتا تھا۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ درحقیقت سوویت یونین نے اتحاد کے معاہدے کے ذریعے جنگ کے لیے اشتعال انگیزی کی۔‘ کسنجر لکھتے ہیں کہ 24 نومبر 1971 میں اندرا گاندھی نے یہ مانا کہ انڈین فوجی دستے سرحد پار کر کے پاکستان داخل ہو چکے ہیں۔ اندرا گاندھی نے کہا کہ انھوں نے ایسا صرف ایک مرتبہ کیا ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ سوویت یونین کی حمایت لینے کے بعد ہی انڈیا نے بھرپور جنگ کی جرات کی۔

تین دسمبر 1971 کو پاکستان میں مداخلت شروع کرنے کے بعد انڈیا براہ راست اس جنگ میں فریق بن چکا تھا اور اندرا گاندھی نے چھ دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش کو بطور ریاست تسلیم کر لیا۔ سات دسمبر 1971 کو بنگلہ دیشی وزیر اعظم تاج الدین نے ایک ریڈیو خطاب میں کہا کہ ’ہمارے جنگجو اب انڈین فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں اور ان کا خون اس مٹی میں بہہ رہا ہے۔‘ اس خطاب میں تاج الدین نے اندرا گاندھی کا شکریہ ادا کیا تھا۔

انڈیا کی جنگ میں مداخلت کے بعد اتحادی فوج قائم ہوئی۔ کچھ ہی دنوں میں جیسور، کھلنا اور نوخالی انڈیا اور مکتی باہنی کے قبضے میں آ گئے۔ اب جنگ میں پاکستانی فورسز کی شکست کسی بھی وقت ہو سکتی تھی۔ اتحادی فوج 14 دسمبر تک ڈھاکہ پہنچ گئی اور پاکستانی فوج کا مورال جنرل عبداللہ خان روکڑی کی زیر قیادت زمین بوس ہوگیا۔ اس جنگ میں جیسے جیسے پیشرفت ہوتی رہی ویسے ویسے پاکستانی فوج کے افسران کے بیچ رابطہ ختم ہوتا گیا۔

اسی کیے 1971 کی جنگ پر پاکستانی فوج کے سینیئر افسران کی لکھی گئی کتابوں میں ہر کوئی دوسرے پر الزام لگاتا نظر آتا ہے۔ 1971 میں لیفٹیننٹ جنرل گل حسن خان پاکستانی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف تھے لیکن تمام فیصلہ سازی جنرل یحییٰ خان کر رہے تھے۔ گل حسن کے مطابق انڈیا سے جنگ شروع ہونے سے کچھ ماہ قبل ہی فوج کا ہیڈ کوارٹر بظاہر غیر موثر ہو چکا تھا۔ وہ اپنی کتاب میں 1971 کی جنگ سے جڑے واقعات ’میموریز آف گل حسن خان‘ میں لکھتے ہیں کہ جنرل اے کے نیازی کے فہم میں بھی نہیں تھا کہ انڈیا براہ راست پاکستان پر حملہ کر دے گا۔
’مجھے نہیں معلوم انھیں اس بات کی تسلی کس نے دی تھی۔‘

اسے طرح میجر جنرل راؤ فرمان علی نے بتایا کہ پاک فوج کے افسران جنگی حکمت عملی کے بارے میں کتنے لاعلم تھے۔ 1971 میں فرمان ڈھاکہ میں تعینات تھے اور فوج کی طرف سے انھوں نے سول انتظامی امور سنبھالے ہوئے تھے۔ جنرل فرمان علی لکھتے ہیں کہ انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ نے انڈین حملے کو ایک ’مذاق‘ سمجھا تھا حالانکہ انڈیا کی مدد کو سوویت یونین کی سپر پاور آ گئی تھی۔ دوسری طرف امریکہ اور چین نے پاکستان کو صرف ’مورل سپورٹ‘ دی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کو ان دونوں ملکوں سے وعدے کے باوجوف کوئی فوجی مدد نہ مل سکی جس کا نتیجہ پاک فوج کو عبرتناک شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button