پاک بھارت مفاہمت کے ایجنڈے سے UAE کیا حاصل کرے گا؟

پچھلے برس اسرائیل کو تسلیم کرنے والا چوتھا خلیجی ملک بننے والے متحدہ عرب امارات کی جانب سے دو روایتی نیوکلیر حریفوں بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کے مشن پر سفارتی حلقوں میں سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور پوچھا جا رہا ہے کہ یو اے ای ایسا کیوں اور کس کے کہنے پر کر رہا ہے اور اس سے اسے کیا فائدہ ہوگا؟
یاد رہے کہ ماضی قریب میں مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات بھی سعودی عرب کی طرح کشمیر کے مسئلے کو انڈیا کا اندرونی مسئلہ کہتا رہا ہے۔ لیکن اب اچانک اس نے دو روائتی حریف انڈیا اور پاکستان کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے مبصرین کا ماننا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد متحدہ عرب امارات کے کچھ اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات ہیں جس نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ انکے مطابق یو اے ای کو خدشہ ہے کہ امریکی فوجی انخلا سے افغانستان میں ترکی کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا جس کا نقصان براہ راست امارات کو پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے امارات کو پاکستان کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ اس خلیجی ریاست کی جانب سے امن کی کوشش ایسے وقت میں کی گئی جب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی انڈیا کے ساتھ ’پُرامن طریقے‘ سے ماضی کے تنازعات کو دفن کر کے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بات کی۔ چنانچہ دونوں ملکوں کے مابین اچانک برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ اس کا پہلا اشارہ رواں برس 25 فروری کو اُس وقت سامنے آیا جب دونوں ممالک کے فوجی حکام کے مابین ایک غیر معمولی ملاقات میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سنہ 2003 میں فائر بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پھر مارچ کے وسط میں اس خیال کو مزید تقویت ملی جب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ’پُرامن طریقے‘ سے ماضی کے تنازعات کو دفن کرکے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بات کی گئی۔ اس کے فوراً بعد پاکستان نے انڈیا پر سے کپاس اور چینی کی درآمد پر لگی ہوئی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تاہم اس اعلان کو بعد میں واپس لے لیا گیا۔ اس کے بعد جب وزیرِ اعظم عمران خان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تو انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے انہیں جلد صحتیابی کا پیغام بھیجا۔
ایسے میں متعدد ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آنا شروع ہو گئیں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان خفیہ رابطے اور بات چیت کا آغاز ہوچکا ہے جس کی ثالثی متحدہ عرب امارات کر رہا ہے۔ جب متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ مارچ میں اچانک دہلی گئے تو سرگوشیوں نے مزید زور پکڑا۔ خبر رساں ادارے نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ دونوں ممالک کے انٹیلیجنس اہلکاروں نے جنوری میں دبئی میں ایک خفیہ میٹنگ کی تھی۔ بالآخر 15 اپریل کو امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر يوسف العتيبہ نے اس کے متعلق بتا ہی دیا۔ انہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک ورچوئل گفتگو میں کہا کہ متحدہ عرب امارات نے کشمیر پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے سفیر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات اب ایک ’صحت مند‘ مرحلے پر پہنچ جائیں گے جہاں وہ ایک دوسرے سے بات کریں گے اور اپنے اپنے سفیروں کو ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں واپس بھیجیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ قریبی دوست نہ بنیں، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ وہ بات کرنا شروع کر دیں۔
متحدہ عرب امارات کے سفیر کے بیان کے تین دن بعد انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جیا شنکر اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ابو ظہبی بھی گئے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ متحدہ عرب امارات نے انڈیا اور پاکستان کے مابین امن قائم کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس چھوٹی سی خلیجی ریاست نے اس انتہائی مشکل کام کی ذمہ داری کیوں اٹھائی ہے؟ یہ ان دو بڑے ممالک پر کتنا اثر رکھتی ہے؟ قدیم یونان میں سپارٹا نامی شہر اپنی فوجی صلاحیت کے سبب ایک خاص شہرت رکھتا تھا۔ امریکہ کے سابق وزیرِ دفاع جم میٹیس نے متحدہ عرب امارات کے فوجی عزائم کو دیکھتے ہوئے اسے ’لٹل سپارٹا‘ کا نام دیا ہے۔ یہ چھوٹا سا خلیجی ملک یمن سے لے کر افغانستان، لیبیا اور مشرقی افریقہ میں ہونے والی فوجی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے یہ ملک امن کےلیے ثالثی کرنے والی ریاست کی شبیہہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے پیچھے اصل طاقت ابو ظہبی کے طاقتور شہزادے محمد بن زید کی ہے۔ 2016 میں متحدہ عرب امارات نے ایتھوپیا اور اریٹیریا کے درمیان امن کے قیام میں کردار ادا کیا تھا۔ اس نے ایتھوپیا اور سوڈان کے درمیان سرحدی تنازع کو حل کرنے کےلیے ثالثی کی تھی۔ اس نے دریائے نیل پر ایک ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ایتھوپیا اور مصر کے درمیان تنازع کو حل کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کیا تھا۔ کسی زمانے میں متحدہ عرب امارات، لیبیا میں ملیشیا کے رہنما خلیفہ ہفتار کو ہتھیار سپلائی کرنے والوں میں ایک اہم ملک تھا۔ اب وہ وہاں کسی سیاسی حل کی بات کر رہا ہے۔ یقیناً انہوں نے یہ راستہ ترکی کی لیبیا میں فوجی مداخلت کے بعد ہی اختیار کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی فوجی سرگرمیاں بھی کم کر دی ہیں۔
لیکن انڈیا اور پاکستان کو قریب لانے کےلیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ متحدہ عرب امارات کا اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات اب قطر کی طرح دنیا میں امن کی شبیہہ قائم کرنے کا خواہشمند ہے اور یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ ایک جدید، طاقتور لبرل ریاست ہے جو دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس کا اثر و رسوخ اور قبولیت اب اس قدر زیادہ ہوگئی ہے کہ وہ پاکستان اور انڈیا جیسے دو جوہری مسلح ممالک کے درمیان تنازعات کے حل میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ انکا۔ کہنا یے کہ متحدہ عرب امارات کےلیے سب سے اہم اس کی اپنی ’ساکھ‘ اور ’وقار‘ ہے، چاہے ان کی ثالثی کے ذریعہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن قائم ہو یا نہ ہو۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دشمنی کو کم کرنے کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے کچھ اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات ہیں۔ اسے تشویش ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد وہاں ترکی کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کو ان کی ضرورت ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ متحدہ عرب امارات سوچ رہا ہو کہ اگر وہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو یہ اعتماد حاصل کرنا آسان ہوگا۔
دوسری جانب دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر سنجے بھردواج کے مطابق انہیں بھی ابتدائی طور پر متحدہ عرب امارات کی ثالثی کے بارے میں جان کر حیرت ہوئی تھی، کیوں کہ انڈیا نے کبھی کشمیر یا پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی پیش کش قبول ہی نہیں کی۔ پلوامہ بحران کے بعد انڈیا نے اس وقت کے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ لہٰذا اب انڈیا، متحدہ عرب امارات کے ثالثی پر کیوں راضی ہوا ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ ڈاکٹر بھردواج کہتے ہیں کہ افغانستان سمیت متعدد نئے جیو پولیٹیکل حقائق انڈیا کے لچکدار رویے کی وجہ ہو سکتے ہیں۔ امریکی فوجیوں کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد وہاں پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔ لیکن انڈیا بھی وسطی ایشیا میں اپنی مارکیٹ کےلیے افغانستان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کےلیے پر عزم ہے۔ اسی لیے مغربی ممالک سوچتے ہیں کہ افغانستان کے استحکام کےلیے انڈیا اور پاکستان کے درمیان تفہیم ضروری ہے۔ لیکن داخلی سیاست کی وجہ سے بات چیت کی تجویز کو آگے لے جانا اس وقت جتنا انڈیا کےلیے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے اتنا ہی پاکستان کےلیے بھی بن سکتا ہے۔ لہذا انڈیا فی الحال متحدہ عرب امارات کی ثالثی کی تجویز پر ایک قابل قبول آپشن کے طور پر غور کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے ہی متحدہ عرب امارات کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اس ملک میں دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کام کرتے اور رہتے ہیں۔ اور متحدہ عرب امارات کے ثالثی کی خبر کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کا میڈیا اور تبصرہ نگار اس کے بارے میں مثبت باتیں کر رہے ہیں۔
